برآمدا ت میں کمی کے اسباب

06 مارچ 2017

کسی بھی ملک کی ترقی کا پیمانہ یہ ہے کہ وہاں درآمدات نہ ہونے کے برابرجبکہ برآمدات بہت زیادہ ہوں۔ چین و دیگرممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے برآمدات کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے اپنی تشویش کاا ظہار کرتے ہوئے کہاہے حکومت مناسب اقدامات کرنے کیلئے سنجیدگی اختیار کرے۔ گزشتہ دنوں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں وزارت تجارت کے حکام نے اعتراف کیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران برآمدات میں12.1 فیصد کمی ہوئی۔ 2009-10 میں ملکی برآمدات کاحجم 24 ارب 80 کروڑ ڈالر تھا۔ 2015-16 میں برآمدات 20 ارب 80 کروڑ ڈالرز ہیں- قائمہ کمیٹی نے برآمدات میں کمی پر تشویش کااظہار کیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ برآمدات میں کمی کی وجہ وژن کا فقدان ہے۔ وزارت تجارت کا یہ انکشاف تشویشناک ہے کیونکہ ہماری برآمدات‘ درآمدات کی نسبت ہمیشہ کم رہتی ہیں اور عالمی تجارت میں ہمیں ہرسال خسارے کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ برآمدات میں مزید کمی کے باعث تجارتی خسارے کا مزید بڑھ جانابھی ناگزیر ہے۔ مختلف حوالوں سے ہم سال بھرمیں جو زرمبادلہ اکٹھا کرتے ہیں اسکا ایک بڑا حصہ دوسرے ممالک سے مختلف نوعیت کی اشیاءدرآمد کرنے پرصرف ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری معیشت اتنی ترقی نہیں کرسکتی جتنی تیزی سے اس کاگراف بلند ہونا چاہئے۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کا ایک سبب درآمدات اوربرآمدات میں پایا جانے والا یہ فرق بھی ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ اوریورپ تودورکی بات ہے ہماری تو اس خطے کے کئی ممالک کے ساتھ ہی تجارت خسارے کاسودابنی ہوئی ہے کیونکہ ہم و ہاں سے زیادہ چیزیں منگواتے اور کم بھیجتے ہیں۔ اس طرح دوطرفہ تجارت ان کے لئے فائدہ مند ہے‘ لیکن ہمارے لئے نہیں۔ اندازہ اس بات سے لگائیے کہ سری لنکا پاکستان کادوست ملک ہے اور دونوں کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ موجود ہے لیکن اس کا زیادہ فائدہ سری لنکا کوپہنچ رہا ہے کیونکہ وہ اپنی 4235 آئٹمز زیرو ٹیرف پر پاکستان کو بھیج سکتا ہے۔ چائے اورگارمنٹس کوٹہ پر بھی اسے 50 سے 100 فیصد رعایت حاصل ہے۔ اس کے برعکس سری لنکا نے پاکستان کو محض 102 آئٹمز کی ڈیوٹی فری انٹری کی اجازت دے رکھی ہے‘ کئی دوسرے ممالک کے ساتھ بھی ہماری تجارت اسی طرح چل رہی ہے۔ یوں ہم ایک کنزیومر سوسائٹی بن چکے ہیں دوسرے ممالک ہمارے ساتھ تجارت سے زرمبادلہ کمارہے ہیں جبکہ ہم اس معاملے میں تہی داماں ہوتے جارہے ہیں۔ ہم ہر سال بہت سی ایسی اشیاءبھی درآمد کرتے ہیں جو تعیشات میں شامل ہیں ا ور جن کے بغیر گزارا ممکن ہے۔ اگر سادگی اپنائی جائے تو یہ اشیاء درآمد کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی اور یوں عالمی تجارت میں ادائیگیوں کے توازن کوبہتررکھا جاسکے گا۔ ہرسال تجارتی خسارہ برداشت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری تجارتی پالیسی میں کچھ ا یسی خامیاں اور سقم ہیں جو دور کئے جانے ناگزیر ہیں۔ اس کے لئے ہمیں اپنی مصنوعات کا معیاربہتر کرناہوگا تاکہ عالمی منڈی میں وہ دوسرے ممالک کی مصنوعات کامقابلہ کرسکیں۔ ان اشیاءکی قیمتیں کم رکھنا بھی بے حد ضروری ہے تاکہ یہ دوسری مصنوعات کے مقابلہ میں خریدار کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں۔ ایسا اسی طرح ممکن ہے کہ ہم اپنے صنعتی سیکٹر کو مختلف حوالوں سے
سبسیڈائز کریں۔ انہیں مناسب نرخوں پربجلی اورگیس دیں اور جن مصنوعات کی تیاری میں درآمدی خام مال استعمال ہوتا ہے ان کو درآمدی ڈیوٹیاں وغیرہ کم کرکے سہولت فراہم کی جائے۔ عرصے سے جاری توانائی کے بحران کا خاتمہ بھی از حد ضروری ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت اس سلسلے میں سنجیدگی سے کام کررہی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف پچھلے چند ماہ میں عوام کو کئی باراس امرکی یقین دہانی کراچکے ہیں کہ 2018ءمیں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی‘ گیس کی قلت دور کرنے کے لئے حکومت نے پہلے ہی قطر سے وافر مقدار میں ایل این جی (لیکویفائیڈ نیچرل گیس) درآمد کی ہے اور مزید کی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں صنعتی سیکٹر کو ترجیحی بنیادوں پربجلی اور قدرتی گیس فراہم کی جارہی ہے جب توانائی کا بحران ختم ہوجائے گا توقع ہے کہ صنعتی کے ساتھ ساتھ زرعی سیکٹر کے حالات بھی بہتر ہوجائیں گے اور اس طرح برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت تجارتی خصوصی طورپر برآمدی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور اسے موجودہ حالات سے ہم آہنگ بنائے۔ وزیراعظم نوازشریف ملک بھرکے ایوان ہائے صنعت و تجارت کے نمائندوں کاایک اجلاس بلا کران سے صلاح مشورہ کریں تو کئی قابل عمل تجاویزسامنے آسکتی ہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...