ازلی دشمن

06 مارچ 2017

پاکستان میں کئی نامور لوگوں کا قبلہ بھارت کی طرف ہے اور وہ ہر صورت میں یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان بنا کر تاریخی غلطی کی گئی تھی۔ کراچی کی گزشتہ تین عشروں کی لسانی و صوبائی عصبیت کی سیاست نے کچھ لوگوں کو اس گمان میں مبتلا کر دیا ہے کہ اگر وہ ہندوستان میں ہی رہتے تو پاکستان سے زیادہ بہتر حال میں ہوتے جیسے ان کے وہاں رہ جانے والے بہت سے رشتہ دار ہیں۔ حالانکہ بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والے اعداد و شمار کہہ رہے ہیں کہ آزادی کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں کی پسماندگی اور معاشی بدحالی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ مہاجروں کو اپنی یا اپنے والدین کی ہجرت پر پچھتاوا ہوتا ہو لیکن ہم اس لحاظ سے خوش قسمت رہے ہیں کہ ہمارے والدین نے پاکستان کا انتخاب اپنی مرضی سے کیا تھا اور انہوں نے ایک بہتر اور پشتوں کی جمی جمائی زندگی چھوڑ کر پاکستان کی معاشی مشکلات والی زندگی کا انتخاب کیا اور پاکستان کے دوسرے عام شہریوں کی طرح ہر مشکل کا تندہی سے مقابلہ کیا۔ گزشتہ برسوں میں جب کسی نیوز چینل سے کوئی اینکر یا کوئی نام نہاد تجزیہ نگار اور سیاستداں یہ کہتا کہ اگر فلاں کام نہ ہوا تو پاکستان نہیں رہے گا یا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، تو ایسی باتیں سن کر ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ انہیں آگ اور خون کے دریا یاد آجاتے جن سے گزر کر وہ پاکستان پہنچے تھے، انہیں بھارت کے وہ حالات یاد آ جاتے جس میں مسلمانوں کے لیے نفرت تھی، بلکہ ان دنوں دہلی جیسے متمدن شہر کے مسلمان بھی اپنے ہندو نام رکھ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ پاکستان بھر میں رد الفساد شروع ہو چکا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ گزشتہ پانچ عشروں میں پاکستان میں صوبائیت، لسانیت، فرقہ واریت اور بدعنوانی وغیرہ جیسے سماجی عفریت ہمارے سامنے کھڑے ہیں وہ کیسے ختم ہوں گے؟ آج جب کسی ریاستی ادارے کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے تو بہت سے لوگ اسے معمول کی کارروائی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں بلکہ پاکستان میں بھارتی کی مبینہ ترجمانی کرنے والے کرداروں کو کشمیر کی جد و جہد آزادی میں پاکستان کی کارستانی نظر آنے لگتی ہے، کبھی وہ بلوچستان کی بدامنی میں بھارت کے ہاتھ کو جھٹلاتے ہیں تو کبھی انہیں بھارت دنیا کا معصوم ترین اور اچھا ترین ملک نظر آنے لگتا ہے اور پاکستان اس کے برعکس۔ پھر پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف الزامات کی پٹاری کھل جاتی ہے کبھی کوئی کہتا ہے کہ مارے جانے والے دہشت گردوں کی لاشوں کی تصویرں دکھاﺅ یا کبھی کوئی ہاتھ جوڑ کر کہتا ہے کہ فوج ہماری جان چھوڑ دے۔ بہت سے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ بھارت ہم سے دشمنی کیوں کرتا ہے؟ ہمیں بھارت سے ایسی آوازیں کیوں سنائی دیتی ہیں جس میں لوگ پاکستان کو نیست و نابود کرنے کی باتیں کرتے ہیں تو کبھی یہ سوال کرتے ہیں کہ پاکستان کب تک صفحہ¿ ہستی سے مٹ جائے گا؟ اس کے برعکس ہمارے وزیر اعظم نواز شریف بھارت سے دوستانہ تعلقات اور باہمی تجارت کے فروغ کی بات کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ انہیں بھارتی نیوی کے گرفتار جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق سوال پوچھنا بھی ناگوار گزرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہمارے کچھ لبرلز یہ دھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کی بعض درسی کتابوں اور اخبارات میں بھارت کو پاکستان کا ازلی دشمن لکھا گیا ہے، بچوں کے ذہنوں میں بھارت سے نفرت پیدا کی جا رہی ہے لیکن انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ بھارتی بچوں کو یہ پڑھایا جا رہا ہے کہ پاکستان اور دوسرے سارک ممالک بھارت کا حصہ تھے جو دوبارہ بھارت میں شامل کر لیے جائیں گے یا پھر مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد نفرت انگیز باتوں پر وہ کیوں خاموش رہتے ہیں؟ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوانے میں بھارت نے جو کردار ادا کیا تھا اس کا اعتراف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کر چکے ہیں۔ بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش تو بنوا دیا لیکن وہ بنگلہ دیش سے اس کی اسلامی شناخت نہیں چھین سکا اور نہ ہی اسے اپنی کوئی سیٹلائٹ ریاست بنا سکا ہے بلکہ آج بھی پاکستان اور بنگلہ دیش میںکہیں نہ کہیں دونوں ملکوں کی کنفیڈریشن بنانے کی سوچ موجود ہے۔سوال یہ ہے کہ بھارت، پاکستان کو کیوں مٹانا چاہتا ہے؟ کیا یہ محض پاکستان کے ریاستی اداروں کا پروپیگنڈا ہے یا اس میں واقعی کوئی حقیقت ہے؟ سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت نو آبادیاتی مزاج اور سوچ کا حامل ملک ہے۔ آج بھارت کی جن ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے انہیں لوگوں کی مرضی کے خلاف اپنی یونین کا حصہ بنایا ہے۔ دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت کے لیے پاکستان کا خاتمہ اس لیے ضروری ہے کہ اس دور رس اثرات نکلیں گے۔ اس بات کا اندازہ قائد اعظم محمد علی جناح کی تقریر کے اس اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے 20 دسمبر 1946ءکو قاہر میں کی تھی۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا”اگر ہندو شہنشاہیت قائم ہو گئی تو تمام مسلمان ہندوﺅں کے غلام بن جائیں گے اور بالآخر برطانوی ملوکیت کے غلام ہو جائیں گے۔ ہمارے لیے پاکستان زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اپنے گھروں میں آزاد رہیں تو آپ کو ہمارے ساتھ اشتراک عمل کرنا چاہیے۔قائد اعظم کے ان فرمودات سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ بھارت پاکستان سے ہر ممکن دشمنی پر آمادہ کیوں ہے؟قائد اعظم ایک مستقبل بین سیاستداں تھے جنہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا علیحدہ ملک بنا کر دیا جو مضبوط بنیادوں پر استوار ہوا ہے۔ پاکستان کی پہلی سالگرہ پر تقریر کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا ”قدرت نے آپ کو ہر نعمت سے نوازا ہے۔ آپ کے پاس لا محدود وسائل ہیں۔ آپ کی ریاست کی بنیادیں مضبوطی سے رکھ دی گئی ہیں۔ اب آپ کا کام ہے کہ صرف اس کی تعمیر کریں بلکہ جلد از جلد اور عمدہ سے عمدہ کریں۔ سو آگے بڑھیے اور بڑھتے ہی جائیے۔“اگر ہم دنیا کے نقشے پر پاکستان کے محل وقوع پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان ایک ایسے مقام پر ہے جس کے آگے وسطی ایشیا اور افریقہ تک سارے اسلامی ممالک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک طرف چین ہے اور دوسری جانب خلیج ہے جہاں سے دنیا بھر کو تیل فراہم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر آنے کے بعد یہ سوچا جا سکتا ہے کہ اسلام دشمن قوتیں ایک بار پھر اسلامی تنظیموں کے بہروپ میں متحرک ہوئی ہیں جو اپنے عظیم تر مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کی اسلامی اساس اور قوت کے مراکز کو تباہ کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن اس ملک کو فسادی دشمنوں سے بچانے اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے پاکستانیوں کو ہی کام کرنا ہوگا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...