چنگ چی موٹرسائیکل یا موت کا کھیل

06 مارچ 2017

مکرمی! جاپان نے موٹرسائیکل ایک آدمی یا دو آدمی کے سفر آمدورفت، آرام کے لئے بنائی۔ پاکستانی قوم نے اس موٹرسائیکل پر وہ ظلم ڈھائے کہ پہلے تو وہ موٹرسائیکل رکشہ میں تبدیل ہوئی چاہے وہ کسی بھی مارکہ کی ہو اسے چنگ چی رکشہ بنا دیا گیا جس میں کم از کم دس سواریاں بٹھائی گئیں، خود ڈرائیور اس پر جھولتا، کوئی چڑھائی آجائے یا ریلوے پھاٹک آجائے تو اس کا اگلا پہیہ ہوا میں معلق پیچھے بیٹھی ہوئی سواریاں چیختی ہوئیں اور اپنی جان کی حفاظت کی دعا کرتی ہوئیں ڈرائیور کسی بھی خوف سے بالاتر پیچھے بیٹھی ہوئی سواریوں خصوصاً عورتیں جن کی گود میں معصوم بچے یا ساتھ بیٹھے ہوئے بزرگان کو تسلیاں دیتا ہوا دم نکلتی چیختی ہوئی موٹرسائیکل رکشہ پر سے فوری اتر کر آگے کی طرف رکشہ کو نیچے بٹھاتے ہوئے عازم سفر ہو جاتا ہے۔ چنگ چی موٹرسائیکل رکشہ کے زیادہ تر ڈرائیور کم عمر یا ضرورت سے زیادہ جاہل جن کے لئے نہ کوئی قانون ہے نہ رجسٹریشن لائسنس ٹریفک پولیس کی مہربانی سے سڑک پر براجمان ہیں اب تو موٹرسائیکل رکشہ کو ریڑھی مال برداری اور خطرناک حد تک سریے پائپ لادنے کے لئے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ بجری، ریت، سیمنٹ کے علاوہ بسکٹ، ٹافیاں اور ادویات کی خریدوفروخت میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔ رکشہ کے ڈرائیور اس خطرناک حد تک چلاتے ہیں کہ خدا کی پناہ! (طاہر شاہ۔ دھرم پورہ لاہور)