دہشت گردوں کاکوئی مذہب اور قوم نہیں ہوتی

06 مارچ 2017

دہشت گرد صرف دہشت گرد ہیں ،وہ نہ سندھی ہیں، نہ بلوچی ہیں، نہ پنجابی ہیں اور نہ ہی پختون ہیں ۔اس لیے ملک بھر میں ہونے والے آپریشن ردالفساد کی آڑ میں خیبر پختوانخواہ کے چیف منسٹر ، اسفند یار ولی کے بیانات اوراسمبلی میںپاس کی جانے والی قرار داد نہ صرف پنجابی اور پٹھان میں نفرت کے ایسے بیج بونے کی کوشش ہے جس کی منصوبہ بندی اور خواہش امریکہ نے اپنے فورتھ جنریشن وار میں کی تھی اور اس مکروہ منصوبے پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے ۔امریکہ پہلے یوگوسلاویہ ،عراق ، لیبیا اور شام کو خانہ جنگی کا شکار کرچکا ہے جہاں عوام کو قوم ، نسل اور مسلک کے اعتبار سے تقسیم کرکے ان کے مابین اس طرح نفرت کے بیج بوئے کہ پورا ملک تباہ ہوکر قبرستان کی شکل اختیار کرچکاہے لیکن شروع ہونے والی خانہ جنگی ختم ہونے کانام نہیں لے رہی۔ایک تہائی آبادی قبرستان میں جابسی تو باقی لوگ یورپ اور امریکہ میں دربدر ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہےں۔ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ خیبر پختوانخواہ کے ارکان اسمبلی ، وزیراعلی کو یہ پروپیگنڈہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ وہ اپنے صوبے سے پنجابیوں کو چن چن کر نکالنے ، تربیلا کی بجلی بند کرنے ، پنجاب کو جانے والی تمام راستے بند کرنے کا اعلان کریں لیکن اس بات کی سمجھ ضرور ہے کہ وہ دشمن کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب دہشت گرد کسی تفریق کے بغیر پنجابی، پٹھان، بلوچی اور سندھی کو بےدردی سے قتل کررہے ہیں تو ہم دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فرقوں اور صوبوں میں کیوں بٹ رہے ہیں۔ لاہور چیئرنگ کراس پر ہونے والے خود کش دھماکہ میںپنجاب پولیس کے دو سنیئر ترین آفیسر شہید ہوئے ۔ اس دھماکے کی تحقیقات میں کیمرے کی مدد سے جس سہولت کار کو لاہور سے گرفتار کیا گیا وہ شخص خیبرپختوانخواہ کے علاقے باجوڑ کا تھا۔ اس کے بتانے پر جب پولیس نے لنڈا بازار کی ایک دکان پر چھاپہ مارا تو وہاں نہ صرف خود کش جیکٹیں بنانے والے آلات ملے بلکہ کتنی ہی کلاشنکوف اور سٹین گنیں بھی پکڑی گئیں ۔ اگر پشاور میں دھماکے کے بعد وہاں کوئی پنجابی اس حالت میں پکڑا جاتا ،کہ اس کے گھر سے اسلحہ اور بم بنانے والے آلات ملتے تو کیا خیبرپختونخواہ کی پولیس اس کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈال کر چھوڑ دیتی تاکہ وہ پھر دوبارہ یہ عمل دھرائے ۔پنجاب سمیت پورے ملک میں فوج ، رینجر دہشت گردوں اور سہولت کاروں کا تعاقب کررہی ہے۔ بنوں کے علاقے میں فوج کا ایک لیفٹیینٹ سمیت دو جوان شہید ہوئے ہیں کیا وہ دہشت گرد آسمان سے اترے تھے یا مقامی ہی تھے۔ تمام مشکوک افراد (جن پنجابی ، سندھی ، بلوچی بھی شامل ہیں) کے تلاشی اور سرکوبی کی جارہی ہے تو پختونوں کی تلاشی لینے سے پرویز خٹک اور اسفند یار ولی کو تکلیف کیوںہورہی ہے ۔ پنجاب میں صرف پنچابی ہی نہیں پختون، بلوچ ، مہاجر اور سندھی بھی کثیر تعدادمیں رہتے ہیں ۔ ہر شخص پرسکون طریقے سے زندگی گزار رہا ہے ۔جتنا بھائی چارہ اور باہمی محبت کااظہار پنجاب میں ملتا ہے شاید ہی کسی اور جگہ ہو ۔ اس کے برعکس بلوچستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے پنجابیوں کی قتل و غارت گری کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل رہا ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں پنجابی مزدوروں کی نعشیں بلوچستان سے پنجاب کے قصبوں اور شہروں میں آتی رہی ہیں لیکن نہ تو پنجاب اسمبلی نے بلوچیوں کے خلاف کوئی قرار دادپاس کی اور نہ اسے صوبائیت کارنگ دیا۔ اس حوالے سے بچپن کاایک واقعہ میرے ذہن میںاتررہا ہے کہ ایک باپ نے اپنے پانچ بیٹوں کو بلوایا اور انہیں پانچ لکڑیاں توڑنے کے لیے دیں جو انہو ں نے نہایت آسانی سے توڑ لیں پھر باپ نے پانچ لکڑیوں کا ایک گٹھا بناکر بیٹوں کو توڑنے کا حکم دیا ۔کوشش کے باوجود کسی سے بھی پانچ لکڑیوں کاگٹھا نہیں ٹوٹا۔ تو باپ نے بیٹوں سے مخاطب ہوکرکہا یہ تمہارے لیے سبق ہے اگر تم اکٹھے رہے تو دشمن تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اگر تم میں نفاق پیدا ہوگیا تو پھر ہر دشمن تم پر بھاری ہوجائے گا۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارتی ایجنسیاں، امریکی اور افغانستانی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں قومیت اور لسانی یعنی پختون اور پنجابی خصوصا اور سندھی اور بلوچی فسادات اور انتشار پیدا کروانے کے لیے پاکستان میڈیا ، انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں اور سیاست دانوں کو بھاری رقوم بطور رشوت دی ہیں جو غیر محسوس انداز سے قومیت کی بنیاد پر اختلافات بھڑکانے اور انتشار پھیلانے کا کام سرانجام دے رہے ہیں ۔ اگر ہم نے دہشت گردی کرنے والوں کو پنجابی ،پٹھان ،سندھی اور بلوچی سمجھنے کی بجائے صرف اورصرف دہشت گرد سمجھا تو اللہ تعالی اور نبی کریم ﷺ کی تائید و حمایت ہمیں حاصل ہوگی اور پاک فوج اور رینجر کے جوان ملک کے خلاف ہونے والی تمام سازشوںکو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور اگر ہم نے اپنی آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھے رکھی اور اپنی صفوںمیں ملک دشمن عناصر کو پہچان کر کیفر کردار تک نہ پہنچایا تو پھر ہر پاکستانی شہری کو شام ، عراق اور لیبیا جیسے انجام کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک دنیا میں ترقی یافتہ اور خوشحال بنے اور دشمنوںکے لیے لوہے کا چنا ثابت ہو تو پھر ہمیں ہر قسم کے اختلافات کو فراموش کرکے صرف اور صرف پاکستانی بننا ہوگا ۔ اس حوالے سے جہاں تمام صوبوں کی عوام کو ہر لمحے چوکس رہنا پڑے گا وہاں پاکستانی میڈیا کا کردار سب سے اہم تصور کیاجاتاہے جبکہ کچھ چینلز کو ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کے لیے امریکہ بھارت کی جانب سے 38 ملین ڈالر سالانہ فراہم کئے جانے کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں۔ میڈیا کے محب وطن عناصر کا یہ فرض ہے کہ وہ سچ کی آڑ میں ایسے سیاست دانوں ، شیطان صفت افراد کے زہریلے بیانات اور پریس کانفرنس کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں تاکہ میڈیا کے توسط سے عوام میں انتشار کی آگ پھیلانے والوں کے مکروہ عزائم کو خاک میں ملایاجاسکے ۔
\\\