سی پیک اور ای سی اوسربراہ کانفرنس

06 مارچ 2017

پاک چائینہ راہداری منصوبے کے نتیجے میں وہ تبدیلیاں رونما ہوتی دکھائی دے رہی ہیں جن کا کبھی تصور نہ تھا۔ اس عظیم منصوبے کی ثمر خیزیوں سے خوفزدہ بھارت کس حد تک گھناﺅنے اقدامات پر اتر آیا جو کنٹرول لائن پر نہتے لوگوں پر فائرنگ کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں تخریب کاری سے پتہ چلتا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بھارت نے سارک کانفرنس کو بھی سبوتاژ کرکے اس عظیم منصوبے پر عدم اعتماد کا اوچھا وار کیا مگر بدھ کو ہونے والی اقتصادی تعاون ای سی او کانفرنس کی زبردست کامیابی نے ثابت کر دیا کہ اکیسویں صدی ایشیاءکی خوشحالی ترقی اور باہمی تعاون کی بے مثال کامیابیوں سے عبارت ہو گی۔ انہی روشن حقائق کا ادراک کرتے ہوئے روس چین شمالی مشرق اور جنوبی یورپ کے ممالک جو ہمیشہ سے گرم پانی تک رسائی کو ترس رہے تھے ای سی او کی رکنیت کے لئے بیتاب نظر آتے ہیں۔ ای سی او کا خطہ مشرق کوہ ہمالیہ اور چین سے لیکر مغرب میں ترکی اور آذربائیجان تک اور جنوب میں بحر عرب سے لے کر شمال میں روس اور سائیبیریا تک پھیلا ہوا ہے۔ اس تنظیم کا مقصد یورپی اتحاد کی طرز پر ایک بلاک کی حیثیت سے باہمی اقتصادی معاشی مواصلاتی تعاون کو بڑھانا ہے۔ خطے میں موجود مواقع سے عام عوام کو فیض یاب کرنا اشیائے ضروریہ اور خدمات کے لئے واحد مارکیٹ تشکیل دینا ہے۔ اسی لئے تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان موثر مواصلاتی نظام کےلئے منصوبہ جات ترتیب دیے جا چکے ہیں ۔ ای سی او ممالک کی پیداوارکا حجم ایک کھرب سے زیادہ ہے جوباہمی تجارت کے ذریعے کئی گنابڑھنے کے امکان ہیں ۔ دنیا کی آبادی میں ای سی او ممالک 16فیصد پر مشتمل ہیں جبکہ تجارت میں اس کا حصہ صرف دو فیصد بتایا گیا ہے جو نہایت مایوس کن ہے ۔ ای سی او تیرھویں سربراہ اجلاس سے قبل پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو اقتصادی تعاون تنظیم کی وزارتی کونسل کا چیئر مین منتخب کیا ۔ کونسل سے خطاب میں سرتاج عزیز نے پاک چین راہداری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سی پیک سے خطے میں تجارتی مواقع بڑھیں گے ۔ انہوں نے اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو دعوت دی کہ وہ دوسرے ممالک سے تجارت کےلئے گوادر اور سی پیک کو استعمال کریں ۔ انسانی اور مادی وسائل کو مکمل طور پر بروئے کار لاتے ہوئے اقتصادی تعاون تنظیم ای سی او کو ایک موثر اقتصادی اتحاد میں تبدیل کرنے کےلئے مشترکہ کاوشیں کرنی ہونگی ۔ اجلاس اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ دس رکنی تنظیم کے اجلاس میں پانچ صدور تین ممالک کے وزراءاعظم ایک کا نائب وزیر اعظم جبکہ افغانستان سے وہاں کے سفیر نے اجلاس میں شرکت کی ۔ چین بطور مبصر اور اقوام متحدہ کے نمائندے بھی موجود تھے ۔ سربراہ اجلاس کے آغاز میں ہی وزیر اعظم پاکستان کو تنظیم کا چیئر مین منتخب کر لیا گیا ۔کانفرنس سے پہلے سیشن میں وزیر اعظم پاکستان آزر بائیجان کے صدر اور سیکرٹری ای سی او نے خطاب کیا جبکہ دوسرے سیشن میں دیگرممبر ممالک کے سربراہان نے حروف تہجی کے مطابق کانفرنس سے خطاب کیا ۔ وزیر اعظم پاکستان نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا " اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کےلئے بہتر تعاون کے ذریعے بیش رفت کا وقت آگیا ہے ۔ پاکستان کا محل وقوع بہترین ہے ۔ ای سی او کو ایک طاقتور اقتصادی بلاک بنانے اور ترقی کی جانب پیش رفت کےلئے اسے ایک موثر ادارہ بنانے کے مشترکہ وژن کے حصول کے لئے پاکستان کے پاس بنیادی ڈھانچہ موجود ہے ۔ رکن ممالک کے مابین رابطوں کو استوار کرنے اور تجارتی راستوں پر توجہ دینا چاہتے ہیں ۔ ہم البیرونی ، فارابی ، سعدی ، رومی اور اقبال جیسے عظیم لوگوں کے قابل فخر وارث ہیں " دوسرے سیشن میں ترک کے صدر رجب طیب اردگان نے اپنے خطاب میں توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو شکست دینے کےلئے مشترکہ کاوشوں اور سیاسی مسائل کو حل کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ ایران کے صدر نے ای سی او ممالک کے درمیان شاہراہوں کے ذریعے رابطہ قائم کرنے کی تجویز دی ۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی سرگرمیاں اب مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہی ہیں ۔ کانفرنس کے اختتام پر اعلان اسلام آباد اور وژن 2025ءکو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا جس کے مطابق ای سی او ممالک اپنے تمام وسائل متفقہ باہمی تعاون اور رابطوں کو بہتر بناتے ہوئے ایک مضبوط اقتصادی بلاک کی تشکیل کےلئے اقدامات کریں گے ۔ ای سی او ممالک کو پاک چین راہداری استعمال کرنے کی پیشکش کی گئی ۔ عالمی سطح پر درپیش متنازعہ مسائل اور چیلنجز کا مشترکہ مقابلہ کرنے کا عزم کیا گیا ۔ اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ باہمی ریجنل ٹریڈ تسلی بخش نہیں تھی ۔ اس لئے ایکو ٹریڈ ایگری منٹ پر عمل کرنے اور ٹریڈ و نان ٹریڈ رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے پورے خطے میں فری ٹریڈ ایریاز کو ہر ممکن طریقے سے پرموٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ای سی او تنظیم کے ارکان کی اس اجلا س میں غیر معمولی دلچسپی بشارت دے رہی ہے کہ دنیا اب بدلنے کو ہے ۔ ترقی اور طاقت کا سورج مغرب میں غروب ہو تا اور مشرق میں طلوع ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ اس کا مرکز و محور پاکستان کا جغرافیہ اور سی پیک منصوبہ دکھائی دیتا ہے ۔ شاید اقبال اور قائد کے خواب کو تعبیر ملنے کا وقت آن پہنچا ۔ اب پاکستانی قوم اور حکمرانوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی تاریخ کے اس کردار کو کس اسلوب او رسلیقے سے نبھاتے ہیں ۔