ماشاءاللہ: حسرت اور شکر....

06 مارچ 2017

ماشاءاللہ: آج میرا تجارتی مال اتنے کروڑ میں بک گیا۔ ڈیڑھ کروڑ خالص منافع ہوا‘........اچھا....اچھا....کا لمبا کرکے بولنا کہ حسرت کی آمیزش لیے ہوئے ”ماشااللہ“ آج میری دکان پر ریکارڈ تعداد میں گاہک آئے سال بھر کا نقصان ایک دن میں پورا ہوگیا ”............اچھا۔“
”شکر ادا کرو‘ نصیحت صرف دوسروں کے لئے“ کل میرے بیٹے نے خریداری میں کافی گھاٹا کھالیا‘.... نالائق نے بس اپنی بیوقوفی میں ہمیں مروا ڈالا۔ تمہارے پاس کس چیز کی کمی ہے‘ شکر ادا کرو۔ یہ مال دولت تو آنی جانی چیز ہے‘ اصل چیز تو زندگی‘ صحت وتندرستی ہے۔ جواب ملا، آج مجھے دو لاکھ کا نقصان ہوگیا.... تو پھر کیا ہوا؟ شکر ادا کرو‘ مال وزر تو پرائی چیز ہے۔ آج تمہارے پاس کل ہمارے پاس‘ اگر دو لاکھ سے زیادہ نقصان ہو جاتا تو تم کیا کر لیتے؟ صاحب جی بڑی بچت، کوشش کر کرکے 5ہزار روپے بچا سکا ہوں۔ سبزی کی دکان یا ریڑھی لگانا چاہتا ہوں مگر پیسے بہت کم ہیں کچھ مدد کریں۔ تمہیں اور کیا چاہیے آج کل کے دور میں شکر نہیں کرتے کہ تمہارے پاس اتنے پیسے ہیں‘ ناشکری مت کرو، کافی رقم ہے‘ شکر ادا کرو۔ یہ چند کلمات ان حضرات کے تھے جو دیواروں تک سجے سامان سے آراستہ دو چار‘ چار کنال کے گھروں میں ایئر کنڈیشنڈ کی خنک ومسرور ہواﺅں میں سگار کے کش لیتے اپنے کاروباری نقصان کا ہر لمحہ رونا رونے والے دوسروں کو ”جذبہ شکر“ کا درس دیتے نظر آئے۔
سوال یہ ہے کہ ماشااللہ کس کے لئے ہے، حسرت کیا ہے؟ شکر ادا کرنے کا فارمولا کن لوگوں پر لاگو ہوتا ہے؟ دیکھا جائے تو ہماری سوسائٹی انہی تین الفاظ میں پھنسی ہوئی نظر آتی ہے۔ ”ماشااللہ“ کس کے لئے ہے؟ اکثریت اپنی کامیابیوں کے ذکر کا آغاز ماشااللہ سے کرتی ہے۔
”حسرت آمیز اچھا“
اکثریت دوسروں کی فتوحات‘ کامیابی، خوشی کے ذکر پر ماشااللہ نہیں کہتی بلکہ ”پیٹ سے لیکر گردن“ تک رزق سے بھرے ہوئے دوسروں کی خوشی‘ فتح پر‘ نفع پر الفاظ کو کھینچ کر ”اچھا“ کہتی ہے۔ یہ ”اچھا“ کوئی خوشی کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ دوسروں کی پوشیدہ حسرت کو باہر لا پھینکتا ہے۔ ”ماشااللہ“ صرف ہم سب کی ذات کیلئے.... ”اچھا“ صرف دوسروں کے لئے۔ ایک اور سوال بھی من میں بڑاکلبلاتا رہتا ہے کہ جو شخص ایکڑوں تک پھیلے سامان آرائش سے آراستہ محلوں میں رہ کر بھی لاکھ دو لاکھ کے نقصان پر منہ میں پائپ دبائے گھنٹوں روتے رہتے ہیں۔ وہ دوسروں کو صرف چند ہزار کے جمع ہو جانے یا صرف ایک دو لاکھ کے منافع پر کیسے ”شکر ادا کرو“ کی تلقین کرسکتے ہیں۔ ایک شخص جو زندگی کی تمام بنیادی ضرورت سے بڑھ کر ناجائز ضروریات کی حد بھی کراس کرچکا ہو۔ مال ودولت کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا کس طرح غریب‘ درمیانہ طبقہ کو ”جذبہ شکر“ کا درس دینے کا اہل ہے۔ خود کیوں نہیں ”جذبہ شکر“ کا مکلف بنتا؟ ماشااللہ کا لفظ صرف ہم اپنی ذات کے لئے ادا کرتے ہیں۔ دوسروں کی کامیابی پر مبارکباد یا خیرمقدمی الفاظ کہنے کا ہم میں یارا نہیں۔ اکثریت نے نظربند سے بچنے کا ”قرآنی لفظ“ صرف اپنی ذات کے لئے وقف کر دیا ہے۔ اپنی ذات سے آگے ہمیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ ہر شخص صرف اپنی ذات کی بقاءاستحکام‘ فتح کی جنگ جیتنے میں مگن ہے۔ ہماری تجوریوں میں دوسروں کیلئے صرف ”حسرت‘ حسد‘ بغض“ جیسے جذبات ہی محفوظ پڑے ہیں۔ باقی سب کچھ ہماری ذات کی غرض میں ”غتربود“ ہوچکا ہے۔ ہم ہر لمحہ‘ ہر جگہ‘ ہر وقت دوسروں کو ”جذبہ شکر“ سمجھانے پر تیار مگر اس جذبہ کو کیوں خود پر لاگو کرنے پر ہرگز آمادہ نہیں ہو پاتے۔ ہمارے آگے پیچھے صرف ہمارا سایہ ہے‘ اس کاتحفظ ہی ہمارا اول وآخر مقصد ہے۔ ہر انسانی خول ان ”سایوں“ میں بند ہوچکا ہے۔ مسروت‘ رواداری‘ ہمسائیگی سب کب کے اُڑچن ہوچکے۔ یہ سائے فول پروف حصار میں بند ہیں‘ یہ حصار ”ریڈ زون“ کا روپ دھار چکا ہے کہ جہاں ”صرف میں“ کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوسکتا تو ایسے میں ہم پر کوئی آفت نازل نہ ہو تو کیا ہو؟ خودکش دھماکے‘ فائرنگ‘ احتجاج‘ آگ نہ ہو تو کیا ہو؟ ہماری قومی وذاتی زندگی میں جو اس وقت انتشار‘ بے برکتی‘ ذہنی وجسمانی پریشانیاں‘ شدید تر صورت اختیار کرتے گھریلو اولاد کے معاملات، کبھی کسی نے سوچا کہ یہ مسائل کب پیدا ہوئے، کس کی وجہ سے پیدا ہوئے، کیوں ختم ہونے میں نہیں آرہے؟ زندگی سے‘ رزق سے‘ صحت سے‘ سلامتی وعافیت سے برکت کیوں اتنی تیزی سے ختم ہوتی چلی گئی، کوئی کیوں سوچے گا؟ سوچ بھی وہ سکتا ہے جو اپنی ذات کے ”ریڈ زون“ سے باہر نکلے۔ محبت کے جذبات کا ناپید ہو جانا، قرآنی تعلیمات کو اپنے مطالب کے مطابق استعمال کرنا اپنی ذات کے لئے ہر وقت طلب میں رہنا، دوسروں کو مدد کی بجائے صرف نصیحت عدم برداشت‘ دوسروں کے دکھ سکھ سے اظہار عدم دلچسپی، غریب رشتہ داروں سے بیگانگی کی حد تک رویہ‘ یہ سب روپے ہماری سماجی واسلامی زندگی کے خوبصورت تمدن‘ مہذب اسلامی عقائد و رویوں کو ”خودکش دھماکوں“ کی صورت میں اڑا چکے ہیں۔ آخر ہم کب تک صرف اپنی ذات کے تحفظ کے سوا دوسروں کے لئے کچھ کرنے، کچھ سوچنے پر تیار ہوں گے۔ موجودہ 90فیصد تباہی کے بعد نہیں تو پھر کیا 100فیصد تباہی کے بعد کہ جب کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔