عوام کی نظروں سے کچھ اوجھل نہیں

06 مارچ 2017

میری تاریخ پیدائش 29 فروری 1948ءہے میری سالگرہ کا دن ہر 4 برس بعد آتا ہے۔ حیران ہوں کہ پھر ہر سال میں ایک سال بڑا کیوں ہو جاتا ہوں؟ یکم مارچ 2017ءکو میری عمر عزیز کا سترواں سال شروع ہوچکا ہے۔ مختار مسعوراوی ہیں کہ کسی ایئرپورٹ پر جنرل موسیٰ خان کھڑے تھے۔ اپنے بریف کیس کے نمبروں والے تالے کو کچھ دیر گھمانے کے بعد تالے کو برا بھلا کہتے ہوئے بولے۔ نان سینس۔ مجھے نمبر صحیح طور پر دکھائی نہیں دے رہے۔ وہ عینک جسے لگا کر میں ان نمبروں کو پڑھ سکتا ہوں، وہ اس بریف کیس کے اندر ہے۔ لیکن میرا معاملہ ان سے مختلف ہے۔ میری نزدیک کی بینائی کمزور نہیں۔ میں دور کی نظر کی عینک استعمال کرتا ہوں۔ یہ مجھے پڑھتے وقت اتارنی پڑتی ہے۔ میں مطالعہ عینک اتار کر کرتا ہوں۔ ایک شاعر نے اپنے احوال یوں بیان کئے تھے:
افسوس صد افسوس کہ اس شخص کا چہرہ
لکھا بھی نہیں یاد زبانی بھی نہیں
یہاں بھی میرا معاملہ اور ہے۔ مجھے اپنے دوستوں کی شکل بھولتی نہیں البتہ نام یاد نہیں رہتے۔ میں اپنی آنکھوں میں مطلوب بندے کا چہرہ سجائے حافظ میں اس کا نام ڈھونڈتا پھرتا ہوں۔ جب نام یاد آئے گا۔ تبھی اپنے فون پر اس کا نمبر ڈائل کر سکوں گا۔ اب فون اپنے ہاتھ میں پکڑے پریشان کھڑا ہوں۔ نمبر یاد نہ ہو تو فون کس کام کا۔ سوچتا ہوں پل صراط پر مجھے کیا کچھ یاد کرنا پڑے گا۔ کلمہ طیبہ، کوئی وردو ظیفہ یا پھر کملی والے کی دہائی۔ یا رسول اللہ۔ آہ! اس بال سے باریک اور تلوار سے تیز پل سے پار کیسے گزریں گے۔
ظہیر کاشمیری ایک دن وہ نماز جمعہ پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے۔ ایک شخص نے ان کو دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا: ”جی! آپ یہاں کہاں!“ ظہیر کاشمیری کا جواب بڑا عجیب تھا۔“ جمعہ کے دن نہا دھو کر، صاف کپڑے پہن کر جامع مسجد جانا ہمارے کلچر کا حصہ ہے“۔ میں سوچتا ہوں کیا کرپشن بھی ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکی ہے؟ کیا ہماری عدلیہ ہمارے اس سیاسی کلچر کیلئے ایک نیا نظر یہ ضرورت ڈھونڈسکے گی؟ ان دنوں ہماری عدلیہ اپنے پل صراط کے آگے کھڑی ہے۔ فیصلہ محفوظ۔ باقی سب کچھ غیر محفوظ۔ عوام قانون شہادت نہیں جانتے۔ اب کیا ثابت ہوتا ہے اور کیا نہیں، وہ اس جھنجال میں نہیں پڑتے۔ ہاں! وہ بیچ والی اصلی بات ضرور سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے ضلع کے اس ایک آدھ ممبر قومی صوبائی اسمبلی کو جانتے ہیں، جو ٹھیکیداروں سے کمیشن لینے کے روادار نہیں۔ جو سرکاری نوکریوں کو بیچنے کا حوصلہ نہیں پاتے۔ اگر پانامہ لیکس بارے محفوظ رکھا گیا فیصلہ عوام کی منشاءکے مطابق نہ ہوا تو پھر کیا ہوگا؟ کیا حکمرانوں کی بریت کا فیصلہ عوام ہضم کرسکیں گے؟ اب عوام کیلئے صبر شکر ممکن نہیں رہا۔ پچھلے ہی دنوں آصف زرداری کا ہیلی کاپٹر حب کے مقام پر اترا۔ گاڑی تک پہنچنے کے راستے تک بھی کارپٹ بچھایا جارہا تھا۔ اسلئے آصف زرداری ہیلی کاپٹر میں بیٹھے ہی کارپٹ بچھنے کا انتظار کرتے رہے۔ پھر وہ کارپٹ پر چلتے ہوئے گاڑی تک پہنچے۔ یہ سب کچھ کیا ہے؟ اب کہاں ہے وہ مرد حر، جو ہمارے حضرت مجید نظامی کو بھایا تھا۔ کہاں گئی وہ چھڑی جس کے سہارے آصف زرداری عدالتوں کے برآمدوں میں دھیرے دھیرے چلتے ہوئے انصاف ڈھونڈا کرتے تھے۔ مجھے لاہور ایئرپورٹ کے قریب ایک کرائے کی کوٹھی کا وہ مختصر سا کمرہ ابھی تک یاد ہے، جہاں میں نے آصف زرداری سے لمبی ملاقات کی تھی۔ کمرہ میں آرائش کی واحد چیز سروس انڈسٹری والے مودب کھڑے احمد مختار تھے۔
وہ میری ساری ملاقات میں چپ، ہاتھ باندھے، سر جھکائے کھڑے رہے۔ ’خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے۔“ شملہ پہاڑی لاہور کے قریب میاں نواز شریف کے والد محمد شریف کا دفتر بھی میرا دیکھا بھالا ہے۔ جاوید نواز چوہدری ریٹائرڈ سیشن جج میرے لاءکالج کے دوست ہیں۔ ان کے والد محترم ریٹائرڈ ایس پی چوہدری محمد نواز مرحوم و مغفور، میاں محمد شریف کے ذاتی دوست تھے۔ میرا ایک دفعہ جاوید نواز چوہدری کے ساتھ میاں محمد شریف کے دفتر جانا ہوا تھا۔ اتنے سادہ اور مختصر سے دفتر میں اب کوئی اوسط درجے کا پراپرٹی ڈیلر بھی اپنا کاروبار نہیں سجاتا۔ اب آئیں ارمانی برانڈ سوٹوں کی شہرت رکھنے والے یوسف رضا گیلانی کی طرف۔ ہم نے انہیں بھی اڈیالہ جیل میں کثرت استعمال سے گھسے پٹے کپڑوں اور جوتوں میں دیکھا ہوا ہے۔ گھڑی بیچ کر بچوں کی سکول فیس کی ادائیگی کا ذکر موصوف خود اپنی کتاب میں کرتے ہیں۔ پھر اقتدار میں اپنی بیگم صاحبہ کا کروڑوں کا قرضہ بیک جنبش قلم معاف فرمادیا جاتا ہے۔ اقتدار اندھیری رات کو روشن دن میں بدل دیتا ہے۔ عوام سب کچھ جانتے ہیں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے یہ لوگ کیا تھے۔ اب اقتدار میں آنے کے بعد یہ لوگ کیا ہیں۔ اب عدالتوں کو کچھ دکھائی دے یا نہ دے۔ عوام کی نظروں سے اوجھل کچھ نہیں۔ میں نے اپنا کالم اپنی تاریخ پیدائش سے شروع کیا۔ 69 برس گزار چکا ہوں۔ کم و بیش دو برس پہلے میری زندگی میں ایک ایسا سانحہ گزرا کہ جینے کا سارا مزا جاتا رہا۔ میں نے لوگوں سے ملنا جلنا بہت کم کردیا۔ شادی بیاہوں میں شرکت سے گریز کرتا ہوں۔ جنازوں اور فاتحہ خوانی کیلئے پہنچ جاتا ہوں۔ کبھی رہ بھی جاتا ہوں۔ تمام مرنے والوں کیلئے دعا گو ہوں۔ زندوں کیلئے صحت، امن سلامتی اور فراواں رزق کا خواہاں ہوں۔ لاہور میں میرے ایک دوست ہیں جناب شعیب بن عزیز۔ کبھی انہیں اپنے دکھ درد سنانے ان کے گھر چلا جاتا ہوں۔ کبھی ان کے ہاں پھیرے میں دیر ہو جائے تو ان کافون آجاتا ہے۔
اب اس پر غور ہونا چاہئے بس
تمہیں لاہور ہونا چاہئے بس
تو میں جھٹ سے لاہور ہوتا ہوں۔ گوجرانوالہ سے لاہور تک بھلا فاصلہ ہی کتنا ہے۔ ان دنوں بھی ایسے کسی سلام و پیام کا منتظر بیٹھا ہوں۔