شنگھائی تعاون تنظیم کا اہم سربراہی اجلاس

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے کے عوام کی سماجی و معاشی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کررہی ہے۔ ہمارے چیلنجز مشترکہ ہیں‘ ہمیں مل کر ترقی و خوشحالی کیلئے کام کرنا ہے۔ خطے کے روشن مستقبل کیلئے ہمیں جغرافیائی‘ سیاسی محاذآرائی سے خود کو آزاد کرنا ہوگا۔ گزشتہ روز قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کیخلاف موثر اقدامات اٹھائے تاکہ اسکی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہ ہو اور ریاستی دہشت گردی کا لیبل نہ لگے۔ وزیراعظم کے بقول افغانستان میں پائیدار امن ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ بامعنی طور پر بات چیت کرنا ہوگی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں بیلاروس کو تنظیم کی مستقل رکنیت دی گئی جبکہ چین نے سال 2024- 2025ء کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کی قیادت سنبھال لی جس پر وزیراعظم شہبازشریف نے چین کے صدر شی جن پنگ کو مبارکباد دی۔ 

سربراہی اجلاس کے موقع پر شہبازشریف نے عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ انکی اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس سے بھی ملاقات ہوئی جس کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور موسمیاتی تبدیلی کے خطے پر رونما ہونیوالے اثرات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ 
یہ حقیقت ہے کہ اس کرۂ ارض پر موجود ممالک آج ایک گلوبل ویلیج کے طور پر باہم جڑے ہوئے ہیں اور مختلف عالمی اور علاقائی تنظیموں کے ڈسپلن میں ہیں۔ انسانی برادری کا سارا نظام حیات تو یقیناً قدرت کا ودیعت کردہ ہے تاہم انسانی معاشرے کو شتربے مہار ہونے سے بچانے کیلئے علاقائی اور عالمی تنظیموں کے قیام کی وقتاً فوقتاً ضرورت پڑتی رہتی ہے ورنہ کسی بے لگام معاشرے کی بقاء ممکن نہ ہو پائے۔ آج اس کرہ ارض پر سات عشاریہ ایک ارب انسان دو سو سے زائد ریاستوں میں آباد ہیں جن میں 193 ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں جبکہ ان ممالک نے اپنے خطوں میں علاقائی تنظیموں کے ذریعے بھی اپنے دوطرفہ اور علاقائی مسائل کے حل کیلئے باہمی تعاون کا سلسلہ قائم کر رکھا ہے۔ اس تناظر میں ہی شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 15 جون 2001ء کو شنگھائی میں چھ ممالک چین‘ قازقستان‘ کرغیرستان‘ روس‘ تاجکستان اور ازبکستان کی قیادتوں کی میٹنگ میں عمل میں آیا تھا جس کا قیام یوریشیائی سیاسی‘ اقتصادی اور عسکری تعاون کیلئے عمل میں لایا گیا۔ پاکستان اور بھارت 2005ء میں اس تنظیم کے مبصر ملک بنے جو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے۔ سال 2010ء میں پاکستان نے تنظیم کی مستقل رکنیت کی درخواست دی جو 2015ء میں اوفا میں منعقد ہونیوالے شنگھائی تنظیم کے سربراہی اجلاس میں منظور ہوئی جبکہ پاکستان اور بھارت کو 9 جون 2017ء کو اس تنظیم کی مستقل رکنیت ملی۔ اس وقت اس تنظیم کے 9 مستقل‘ تین مبصر اور چھ مکالمہ شراکت دار ارکان ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کا بنیادی مقصد افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر امریکی نیٹو افواج کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے منفی اثرات سے خطے کے ممالک کو محفوظ کرنیکے اقدامات اٹھانا تھا کیونکہ اس جنگ کے باعث خطے کے ممالک امن و امان کے خطرات سے بھی دوچار ہوئے اور ان ممالک کی اقتصادیات و معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے لگے۔ اس تناظر میں شنگھائی تنظیم کے ہر سربراہی اجلاس میں افغانستان میں مستقل قیام امن کیلئے کوششیں بروئے کار لانے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ افغانستان کی اس تنظیم میں مکالمہ شراکت دار کی حیثیت ہے جبکہ پاکستان اور چین اس تنظیم کے ہر سربراہی اجلاس میں افغانستان کے امن کیلئے عملی کردار ادا کرنے کو ہمہ وقت آمادہ و تیار رہے ہیں تاہم اس خطے میں امریکہ اور بھارت کے مشترکہ مفادات کے تناظر میں بھارت کا کردار سارک سربراہ تنظیم کی طرح اس تنظیم میں بھی اپنا تسلط جمانے والا رہا ہے جس کے باعث افغانستان کے مستقل امن کیلئے اب تک نہ صرف کوئی ٹھوس حکمت عملی طے نہیں ہو سکی بلکہ بھارتی سرپرستی میں افغانستان کی طالبان حکومت خود اس خطے بالخصوص پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں پیش پیش ہے اور افغانستان کی سرزمین سے بھارتی ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گردی کی مختلف وارداتوں کے ذریعے پاکستان چین اقتصادی راہداری کے مشترکہ منصوبے کو بھی سبوتاژکرنے کے درپے ہیں اور پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے بھارتی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے بھی کام کر رہے ہیں۔ 
آج پاکستان کو افغان سرزمین سے جس سنگین دہشت گردی کا سامنا ہے‘ اس پر پاکستان کی جانب سے کابل انتظامیہ کو متعدد بار شٹ اپ کال بھی دی جا چکی ہے مگر طالبان کے عبوری حکمران‘ جن کے اقتدار کو ابھی تک دنیا کے کسی ایک ملک نے بھی تسلیم نہیں کیا‘ پاکستان کو مسلسل آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ ان حالات میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا انعقاد یقیناً زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس کے دوران وزیراعظم شہبازشریف نے نہ صرف افغانستان پر دہشتگردی کیخلاف موثر اقدامات اٹھانے پر زور دیا بلکہ خطے کے دوسرے ممالک کے سربراہان سے ملاقاتوں کے دوران بھی انہوں نے پاکستان کی سلامتی اور علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے افغانستان کی پیدا کردہ گھمبیر صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں دہشت گردی کے تدارک کیلئے پاکستان کی حکومتی‘ سیاسی اور عسکری قیادتوں کی جانب سے اپریشن عزم استحکام کی صورت میں اٹھائے جانے والے عملی اقدامات سے آگاہ کیا۔ 
بے شک اس علاقائی تنظیم کے رکن ممالک کی جانب سے فعال کردار ادا کرنے کی بنیاد پر ہی اس خطے کو دہشت گردی کے ناسور سے مکمل پاک کیا اور افغانستان کو مستقل امن کی راہ پر لایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم شہبازشریف نے اپریشن عزم استحکام پر قومی مشاورت کیلئے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جو اس اپریشن پر مختلف سیاسی جماعتوں میں پیدا ہونے والے تحفظات کا ازالہ کرکے اپریشن کیلئے قومی افہام و تفہیم کی راہ ہموار کرنے اور اس اپریشن کو نتیجہ خیز بنانے میں معاون ہوگی۔ افغانستان کی طالبان انتظامیہ کو بہرصورت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے دہشت گردی کے تدارک کیلئے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر علاقائی اور عالمی امن و استحکام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔

ای پیپر دی نیشن