A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

نوازشریف کی ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

نوازشریف کی ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

Jul 06, 2018 | 10:20

ویب ڈیسک

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

احتساب عدالت میں سماعت 9 بجکر 40 منٹ پر شروع ہوئی، جس کے بعد جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت ایک گھنٹے کے لیے موخر کردی۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز لندن میں موجودگی کی وجہ سے آج پیش نہیں ہوئے تاہم کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جولائی کو سنایا جائے گا

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 3 جولائی کو شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے سنانے کے لیے 6 جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی۔

تاہم گزشتہ روز نواز شریف نے اپنے وکیل خواجہ حارث کے معاون وکیل ظافر خان کے توسط سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ مؤخر کرنے کے لیے باضابطہ درخواست دائر کی ۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ وہ اس ٹرائل کا حصہ رہے ہیں اور مسلسل عدالت آتے رہے لیکن اچانک صورتحال تبدیل ہوئی اور ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی طبعیت شدید خراب ہوگئی۔

نوازشریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست دائر کردی۔ درخواست میں کہا گیا کہ ڈاکٹرز نے کلثوم نواز کی طبعیت میں بہتری تک واپس نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔نواز شریف کی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ مجبوری کے باعث وہ 6 جولائی کو پاکستان نہیں آسکتے، جیسے ہی ان کی اہلیہ کی طبعیت بہتر ہوگی وہ پاکستان آئیں گے، لہٰذا کچھ دن کے لیے فیصلہ مؤخر کیا جائے۔احتساب عدالت میں سماعت کے موقع پر اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے رینجرز کو طلب کر رکھا ہے جبکہ 400 پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں۔

دوسری جانب احتساب عدالت جانے والے تمام راستے عام ٹریفک کے لیے بند کردیئے گئے ہیں اور اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے۔واضح رہےکہ سپریم کورٹ کے پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کر رکھے ہیں، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔

عدالت نے عدم حاضری کی بناء پر حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دے کر ان کا کیس الگ کر رکھا ہے۔

مزید شواہد سامنے  آنے پر نیب نے 22جنوری 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس کا ضمنی ریفرنس بھی احتساب عدالت میں دائر کیا۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں مجموعی طور پر 18گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے، جن میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے۔عدالت نے 3 جولائی کو سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 10 جون کو سماعت کے دوران احتساب عدالت کو شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز پر ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا۔

مزیدخبریں