حکومت نے محرم کے دوران فوج کو سٹینڈ بائی رکھنے اور حساس علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔

06 دسمبر 2010 (23:06)
اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی زیر صدارت ایک اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام صوبوں کے حساس علاقوں میں پولیس کے ساتھ رینجرز کو بھی تعینات کیا جائے گا ۔ اجلاس میں تمام شیعہ اور سنی علماء سے اپیل کی گئی ہے کہ دہشت گردی کی وجہ سے موجودہ ملکی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے امن وامان کے قیام کے لیے کسی بھی قسم کے اختلافی مذہبی مسائل کو زیر بحث نہ لائیں ۔ اجلاس میں ہرصوبے میں تمام مکاتب فکر کے علما پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔ وفاقی وزارت داخلہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک کے خفیہ ادارے متعلقہ صوبوں کی انتظامیہ کے ساتھ معلومات بھی شیئر کریں گے ۔ بعدازاں
اسلام آباد میں رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری کی قیادت میں پارہ چنار جرگہ کے ایک نمائندہ وفد نے وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک سے ملاقات کی
وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی بھائی بھائی ہیں تیسری قوت پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہےوزیر داخلہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان لشکر جھنگوی اور القائدہ پاکستان کے دشمن ہیں حکومت ان کے مزموم عزائم کو کبھی پورا نہیں ہونے دے گی ملاقات کے دوران انہوں نے پارہ چنار میں مشین ریڈایبل پاسپورٹ کا دفتر قائم کرنے کا حکم دیا وزیر داخلہ رحمن ملک سے پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ایڈم تھامسن نے بھی ملاقات کی ہے