شدید دباؤ کے باوجود سوئس حکومت نے وکی لیکس کی ویب سائٹ کو بند کرنے سے انکارکردیا ہے،ادھر ویب سائٹ کے بانی جولین اسانج سوئٹزرلینڈ میں پناہ لینے پرغورکررہے ہیں

06 دسمبر 2010 (20:08)
سوئس حکومت نے بین الاقوامی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے وکی لیکس کی ویب سائٹ کو بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئس رجسٹرار کا کہنا ہے کہ امریکا اور فرانس کے دباؤ کے باوجود وکی لیکس ویب سائٹ کو بند کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
ادھروکی لیکس کے بانی جولین اسانج جان سے ماردینے کی دھمکیاں ملنے کے بعد سوئٹزرلینڈ میں پناہ لینے پرغورکررہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جاسوسی پرباراک اوباما مستعفی ہوجائیں
ہسپانوی اخبارکوانٹرویومیں وکی لیکس کے بانی نے بتایا کہ انہیں اوران کے وکیل کے بچوں کوجان سے ماردینے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، جولین اسانج نے اقوام متحدہ کی جاسوسی کے معاملے پرامریکی صدرباراک اوباما سے استعفے کامطالبہ بھی کیاہے، ان کا کہنا تھا کہ اگرامریکہ چاہتا ہے کہ اسے قانون کی پاسداری کرنے والی قوم سمجھا جائے توپھرجاسوسی کا حکم اورمنظوری دینے والے امریکی حکام کو مسعفی ہوجانا چاہئیے، جولین اسانج نے خبردارکیاکہ ان کے خلاف سیاسی ہتھکنڈے بند نہ ہوئے تو وہ ایٹمی رازوں سے پردہ اٹھانے پرمجبور ہوں گے۔