…خوش رسمے

Sep 05, 2018

رضا الدین صدیقی

حضرت عثمان غنی کی مدّت خلافت تقریباً ۲۱ سال ہے۔ ابتدائی 6سال نہایت سکون وعافیت سے گزرے اور اصلاحات وفتوحات کا دائرہ وسیع ہوتا رہا، اس کے بعد مملکت اسلامیہ میں فتنہ وفساد کے ایک دور کا آغاز ہوا۔ اس وقت کابل سے لے کر مراکش تک تمام علاقہ مسلمانوں کے زیر نگیں تھا۔ جس میں سینکڑوں قومیں آباد تھیں،ان محکوم قوموں میں فطرۃًمسلمانوں کے خلاف جذبہ انتقام موجود تھا، لیکن مسلمانوں کی قوت وسطوت کے مقابلے میں وہ بے دست وپا تھے۔ اس لیے انھوں نے سازشوں کا جال پھیلایا جن میں یہودی اور مجوسی سب سے آگے تھے۔(شرح صحیح مسلم)

ان سازشوں کا مقصد مملکت اسلامیہ میں افتراق وانتشار پھیلانا تھا۔ اس ’’اختصاریہ ‘‘میں تمام حالات وواقعات کا ذکر ممکن ہے اور نہ تمام اسباب وعوامل کا اور نہ ان پیہم کوششوں کا جو ان فتنوں کا سدباب کرنے کے لیے کی گئیں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا وہ ایک پیغمبر کی حسن تربیت کا نتیجہ ہی ہوسکتا ہے اور یہیں سے ایک خلیفہ اور ایک آمر وجابر حکمران کا فرق واضح ہوتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اس فتنہ کی خبر دے چکے تھے۔ حضرت مرّہ بن کعب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مستقبل میں پیش آنے والے فتنوں کا بیان کررہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص کا گزر ہوا جو کپڑااوڑھے جارہا تھا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :فتنوں کے وقت یہ شخص ہدایت پر ہوگا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ حضرت عثمان تھے۔(ترمذی)حضور نے انھیں صبر واستقامت کی تلقین بھی فرمائی تھی اور یہ تاکید بھی فرمائی تھی کہ اللہ انھیں ایک قمیص (خلافت)پہنائے گا وہ اسے باغیوں کے مطالبے پر ہر گز نہ اتاریں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے آقاکے حکم سے کیسے روگردانی کرسکتے تھے۔۵۳ہجری میں تقریباًدوہزار مفسدین نے کاشانہ خلافت کا گھیرائو کرلیااور کھانے پینے کی اشیاء پانی تک کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالنے لگے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ایسے پر آشوب وقت پر حضرت حسنین کریمین کو آپ کے گھر کی حفاظت کے لیے بھیج دیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر بھی اپنے جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ آگئے۔ ۸۴ ہزار مربع میل کا فرماں روا کسی معمولی قوت کا حامل نہیں ہوتا۔ مدینہ میں اس وقت وہ لوگ موجود تھے جو اکیلے صفوں کی صفیں پلٹنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ سات سوافراد آپ کی حویلی کے احاطے میں موجود تھے لیکن آپ نے اپنی ذات کی خاطر کسی شخص کو تلوار اٹھا نے کی اجازت نہ دی، نہ آپ نے مدینہ منورہ سے باہر جانا منظور فرمایا ،گھر میں آپ کے 20غلام موجود تھے اُن سب کو بھی آزاد فرمادیا۔ مفسدین کو محسوس ہوا یہ معاملہ اور طول پکڑگیا تو آپ کے جاں نثارہمارے خلاف ازخود کوئی کاروائی نہ شروع کردیں۔ ان میں سے کچھ افراد پڑوس کے گھر میں داخل ہوئے ،وہاں سے آپ کے گھر میںکود گئے اور آپ کو شہید کردیا۔

مزیدخبریں