بدھ ‘ 24؍ ذی الحج 1439 ھ ‘ 5؍ ستمبر 2018ء

Sep 05, 2018

سینٹ الیکشن پر لعنت بھیجتا ہوں، مشاہد اللہ خان

2013ء کے الیکشن کے بعد تحریک انصاف کی طرف سے پارلیمنٹ پر لعن طعن کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اب لگتا ہے 2018ء کے الیکشن کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ بدقسمتی سے ہماری وہ سیاسی جماعتیں جو الیکشن میں ہار جاتی ہیں وہ ہمیشہ دھاندلی کا شور مچاتی ہیں۔ پچھلی بار یہ کام تحریک انصاف والے کر رہے تھے اس بار اس کام کا بیڑہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی ودیگر اپوزیشن جماعتوں نے اٹھایا ہوا ہے۔ پیپلزپارٹی والے اپنی مجبوریوں کے ہاتھوں فی الحال ’’ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم‘‘ والی صورتحال سے دوچار ہیں۔ دھاندلی کی شکایت کرتے بھی ہیں تو اس سلیقے کے ساتھ کہ کہیں حکومت کو برا نہ لگے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) اور اس کے ساتھ اپوزیشن اتحادی البتہ باقاعدہ احتجاجی راگ کے ساتھ 2018ء کے الیکشن کا ماتم کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کا کوئی علاج نہیں، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن اور سینٹ الیکشن میں دھاندلیوں کے گہرے زخموں کا صدمہ بھی انہیں زیادہ ہے۔ پارلیمنٹ تو فی الحال کسی حد تک لعنت ملامت سے محفوظ ہے مگر سینیٹر مشاہد اللہ خان نے گزشتہ روز سینٹ کے اجلاس اینٹ کے میں الیکشن پر جس طرح چار حرف بھیجے وہ خاصے تکلیف دہ ہیں۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو پھر کوئی ادارہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں اس سے محفوظ نہیں رہیں گی۔ بہتر ہے کہ لعنت ملامت کا سلسلہ یہیں پر ختم کیا جائے اور شائستگی کے ساتھ اپنے زور بازو سے سینٹ میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے تو اس میں بہتری ہے۔ اپوزیشن کے پاس بہترین چانس ہے اور عددی برتری بھی حاصل ہے تو کیوں نہ پہلی فرصت میں کڑاکے نکالنے کی کوشش ہو جائے۔

٭…٭…٭

معلومات نہ دینے والے افسران کیخلاف سخت کارروائی ہو گی، فیاض الحسن

صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب دل کے اچھے بندے ہیں بس ذرا جذباتی ہو جاتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ حکومت کے پہلے سو دن کے اندر اندر وہ واقعی کچھ نہ کچھ تبدیل کرکے دکھائیں۔ اسی لئے انکے عام شرارتی سے بیان پر ہماری شوبز کی حاجی نمازی پرہیز گار قسم کی خواتین نے انکے خلاف طوفان کھڑا کر دیا۔ حالانکہ جب ایک سابق پولیس انسپکٹر نے ان خواتین کی اصلاح کی کوشش کی تھی تو انہوں نے باقاعدہ سر اور چہرہ بھی پورے بدن کے ساتھ ڈھانپنا شروع کر دیا تھا اور نیک پروین بنی نظر آتی تھیں۔ اس وقت انہوں نے شور کیوں نہیں کیا تھا۔ یہ تو ماضی کی بات تھی رات گئی بات گئی اب وزیر اطلاعات نے پنجاب گورنمنٹ کے افسروں سے متھا لگا لیا ہے جو ظاہر ہے پہلے ہی بڑے پاکباز ہیں ان میں سے اکثر کے ماتھے پر محراب بھی بنی ہوئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی شرمسار نہیں ہوتے۔ بالکل ہمارے تاجر بھائیوں کی طرح جو دونمبر مضر صحت جعلی اشیا کا وسیع کاروبار کرتے ہیں ذرا بھی نہیں شرماتے کہ جس خدا کا نام لے کر وہ صبح دکان کھولتے ہیں اس کی مخلوق کو زہر کھلا رہے ہیں۔ بھلا اب یہ سرکاری افسر اطلاعات کی فراہمی کے قانونی پابند ہیں مگر یہ سب صرف کتابی باتیں ہیں۔ اب کہیں اداکاروں کی طرح یہ افسر مافیا بھی فیاض الحسن صاحب کی راہ کھوٹی کرنے نہ لگ جائے۔ ہماری تو دعا ہے کہ اچھا کام کرنیوالے صاف دل فیاض الحسن جیسے وزراء ضرور اپنے اپنے محکموں میں کامیاب ہوں اور عوام کو ریلیف ملتا نظر آئے۔

٭…٭…٭

داتا دربارکے اطراف میں کوڑا پھینکنے والوں کو ایک ہزار روپے جرمانہ ہو گا

لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے داتا دربار کے اطراف میں کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں پر ایک ہزار روپے جرمانے کا فیصلہ بہت اچھا نہیں بہت ہی اچھا ہے۔ داتا دربارکے اردگرد کی صورتحال اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ لوئر مال تھانے سے لے کر ٹکسالی گیٹ تک داتا دربار سے لے کر انارکلی تک کا علاقہ باقاعدہ فلتھ ڈپو میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس پورے علاقے میں سے گزرتے ہوئے سانس لینا بھی دوبھر ہو گیا ہے۔ یہاں روزانہ ہزاروں زائرین آتے ہیں یہاں تو صفائی ستھرائی کا اعلی بندوبست ہونا چاہئے مگر ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔ ہر طرح کے جرائم پیشہ لوگ اور نشہ کرنے والے یہاں سڑکوں پر ڈیرے ڈالے ہوتے ہیں۔ جو سڑکوں پر ہی بول براز کرکے گندگی پھیلاتے ہیں اس طرح آس پاس کے دکاندار ریڑھی والے سب اس کارخیر میں بھرپور حصہ لیتے ہیں اور ذرا بھی نہیں شرماتے۔ اب عدالتی حکم کے بعد جس دکان کے پاس کچرا ملے گا اسے ایک ہزار جرمانہ ہو گا۔ اب لوگ جرمانے کے خوف سے ادھر، ادھر کچرا پھینکنے سے باز رہیں گے اور اس علاقے کو واقعی ایک خوبصورت پاکیزہ روحانی ماحول عطا کریں۔ اگر عدالت یہ حکم پورے لاہور یا پورے پنجاب کے لئے جاری کرے تو کروڑوں صفائی پسند لوگ دعائیں دیں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس فیصلے سے سبق حاصل کرتے ہوئے پورے ملک میں کچرا پھیلانے والوں پر فوری جرمانے کا حکم نافذ کرے پھر دیکھئے ہمارے گلی کوچے کس طرح رشک قمر یا رشک گلستان بنے نظرآتے ہیں۔

٭…٭…٭

91 سالہ دولہا 92 سالہ دلہن نے برطانیہ کے بزرگ جوڑے کا اعزاز حاصل کر لیا

زندگی بسر کرنے کے لئے اپنی تنہائیوںکو دور کرنے کا حق سب کو حاصل ہے شادی صرف جوانوں کے لئے ضروری نہیں عمر رسیدہ لوگ بھی تنہائی سے گھبراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عمر کے اس حصے میں کوئی تو ہو جو ان کے سکھ کا ساتھی ہو اور دکھ میں اس کا غم بٹائے سو ایسے ہی جذبات لئے برطانیہ کے 91سالہ بابے نے اپنے سے ایک برس بڑی 92 سالہ بے بے سے شادی رچالی یوں یہ نوبیاہتا جوڑا برطانیہ کا سب سے بزرگ ترین جوڑا بن گیا۔ ؎

مبارک ہو دولہا دلہن کو یہ شادی

کوئی جل گیا اور کسی نے دعا دی

اب اگر ایسا ہمارے ہاں ہوتا تو نجانے کہاں کہاں سے آوازیں بلند ہوتیں رسم و رواج معاشرے کا عمر کا خیال رکھنے کے ایسے ایسے مشورے دیئے جاتے کہ نوبیاہتا جوڑے کے چودہ طبق روشن ہو جاتے۔ کیونکہ ہمارے پسماندہ معاشرے میں بوڑھوں کو تنہائی میں رونے سسکنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے یا پھر وہ گھر میں پڑے فالتو سامان کی مانند ایک کونے میں پڑے رہتے ہیں۔کہیں احترام کے نام پر ان کو ڈسٹرب نہیں کیا جاتا کہیں انکے اردگرد تقدس کے نام پر کرفیو لگادیا جاتا ہے پا پھر ان سے جان چھڑانے کیلئے انہیں تنہا کر دیا جاتا ہے۔ یہ بزرگ برطانوی جوڑا مبارکباد کا مستحق ہے کہ انہوں نے کسی کی محتاجی کی بجائے خود ہی اپنی زندگی میں بہار لانے کی منصوبہ بندی کی اور اب ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی خوشی اپنی من مرضی کی زندگی بسر کریں گے۔

مزیدخبریں