کراچی :متحدہ رہنما خواجہ اظہار قاتلانہ حملے میں محفوظ محافظ ایک بچہ جاں بحق

05 ستمبر 2017

کراچی + اسلام آباد + سیہون (تنویر بیگ/ کرائم رپورٹر+ ایجنسیاں) کراچی میں عید کے روز متحدہ پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں(صفحہ 9بقیہ 12)
اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن دہشت گردوں کے حملے میں بچ گئے۔ محافظ اور پڑوسی بچہ جاںبحق، جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔ خواجہ اظہار پر حملے کے بعد پولیس کے چھاپوں کے دوران کالعدم تنظیم انصار الشریعہ کے ایک کمانڈر سمیت ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔ بفرزون میں خواجہ اظہار پر ہفتے کی صبح اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ مسجد محمودیہ میں نماز عید کی ادائیگی کے بعد لوگوں سے عید مل رہے تھے ان پر دو موٹر سائیکلوں پر سوار تین ملزموں جنہوں نے پولیس یونیفارم اور ہیلمٹ پہن رکھے تھے نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ان کا ایک محافظ پولیس کانسٹیبل معین خان اور پڑوسی بچہ12 سالہ ارسل کامران جاںبحق ہو گئے۔ ارسل کے والد کامران کے علاوہ نواز‘ آصف‘ عبدالوارث اور شکیل زخمی ہوگئے جبکہ فرار ہوتے ہوئے ملزموں پر تیموریہ تھانے کی پولیس موبائل میں سوار اہلکاروں نے فائرنگ کی تو ایک حملہ آور زخمی ہوکر موٹرسائیکل سے گرا جسے لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ ہلاک ہوگیا جس کی شناخت بعد میں حسان ولد اسرار کے نام سے ہوئی جو نارتھ کراچی کا رہنے والا اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہونے کے علاوہ انجینئرنگ یونیورسٹی کا پروفیسر تھا اس کے قبضے سے جو نائن ایم ایم پستول برآمد ہوا اس کی فرانزک رپورٹ سے پتہ چلا کہ اسی پستول سے عزیز آباد میں ڈی ایس پی ٹریفک کو نشانہ بنایا گیا اور یہی پستول سائٹ میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں استعمال ہوا تھا۔ تفتیش کے دوران پولیس کو نارتھ کراچی میں حسان اسرار کے گھر سے اہم شواہد ملے جن کی روشنی میں پولیس نے عید الاضحی کے تیسرے روز علی الصباح سرجانی کے علاقے کنیز فاطمہ سوسائٹی میں کالعدم تنظیم انصار الشریعہ کے کمانڈر عبدالکریم سروش صدیقی کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا تو وہاں سے پولیس پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل اعجاز شہید اور دوسرا کانسٹیبل خالد زخمی ہوگیا جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے زخمی ہونے کے باوجود ملزم عبدالکریم سروش صدیقی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جس کے بعد پولیس نے اس کے باپ سجاد احمد صدیقی کو حراست میں لے لیا اور اس کی نشاندہی پر ڈیفنس میں خیابان بادیان پر چھاپہ مارکر انصار الشریعہ کے ترجمان اور کمانڈر کو گرفتار کرنے کے علاوہ سہراب گوٹھ میں واقع آغا ہوٹل کے مالک کو بھی گرفتار کرلیا۔ اس کے علاوہ نارتھ کراچی میں شمائل اپارٹمنٹ سے بھی تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ قائم مقام گورنر سندھ آغا سراج درانی نے خواجہ اظہار الحسن پر حملے کا فوری سخت نوٹس لیا اور آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی۔ سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال اور پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سعید بھی کراچی میں خواجہ اظہار الحسن کی رہائش گاہ پر گئے اور عید کی نماز کے بعد اُن پر حملے کے بارے میں پوچھا۔ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، وفاقی وزیر د اخلہ احسن اقبال نے بھی ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کو ٹیلیفون کیا اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ صدر ممنون اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، چودھری شجاعت نے حملے کی سخت مذمت کی۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے کہ خواجہ اظہار پر حملے سے متعلق تحقیقات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ خواجہ اظہار نے کہا یہ ممکن ہے ان پر حملے کی منصوبہ بندی میں ایسے لوگ شامل ہیں جو ان کے قریب ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے نماز کے شیڈول اور جگہ کو خفیہ رکھا تھا اور صرف گزشتہ رات ہی شیڈول کو تبدیل کیا تھا۔ انہوں نے خود پر ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے میں ایم کیو ایم لندن کے ملوث ہونے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پرویز مشرف شہید بے نظیر کیس کے مرکزی ملزم ہیں، مشرف نے پولیس افسران کو شواہد مٹانے کا حکم دیا تھا، ایم کیو ایم پاکستان کو متحدہ بانی سے خطرہ ہے، مردم شماری پر اعتراضات ہیں اے پی سی کے بعد مردم شماری پر لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ خواجہ اظہار پر حملے کی سازش اس شہر اور صوبے میں تیار نہیں کی گئی، ضرورت ہوئی تو مزید سکیورٹی دیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے خواجہ اظہار سے اْن کے گھر پر ملاقات کی۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم والوں کو سب سے زیادہ سکیورٹی دی ہے، اگر اور ضرورت ہوئی تو اور سکیورٹی دیں گے۔ یہ قومی مسئلہ ہے سب نے مل کر اسکا حل ڈھونڈنا ہے، پولیس اہلکار اور بچے کا کیا قصور تھا۔ عید پر کوئی بھی امید نہیں کرتا کہ نماز پڑھ کر آؤںگا تو کوئی حملہ کرے گا۔ میں خود بغیر سکیورٹی کے نماز پڑھتا ہوں۔ انصار الشریعہ کراچی میں پلان نہیں کر رہی تاہم آپریٹ ضرور کررہی ہے۔ وفاقی حکومت سے کچھ تنظیموں کو واچ لسٹ پر ڈالنے کا کہا تھا اور وفاق کو کہا ہے کہ انصار الشریعہ کو بھی واچ لسٹ پر ڈالیں۔