قرآنی تعلیمات سے انحراف اور باہمی اختلاف کی وجہ سے عالم اسلام مشکلات کا شکار ہے

05 ستمبر 2017

راولپنڈی(نیوزرپورٹر)تحریک اتحاد امت کے مرکزی امیر مولانا سید چراغ الدین شاہ نے کہا ہے کہ اس وقت قرآنی تعلیمات سے انحراف اور باہمی اختلاف کیوجہ سے پورا عالم اسلام خصوصا پاکستان شدید مشکلات سے دوچارہے اسلئے ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے مغربی تہزیب و تمدن اپنانے کے بجائے رنگ ونسل علاقائی ، لسانی تعصب سے بالاتر ہو کر حرمین شریفین کو اپنا مرکز بنا کر اور مدینہ منورہ کو اسلامی دارالخلافہ تسلیم کرتے ہوئے خلافت راشدہ کے عادلانہ نظام کو اپنے لئے مشعل راہ بنا کر حکمرانی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ غیروں پر اعتماد کرکے اپنا ہی نقصان کیا ہے جو ہمیں آپس میں لڑا کر اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کے پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جو کلمہ طیبہ کے نام پر بنا ہے لیکن بد قسمتی سے دو قومی نظریہ سے انحراف اور قرآن وسنت کو سپریم لاء تسلیم نہ کرنے ،اور ۳۷ کے متفقہ آئین کے اسالمی دفعات اور اور قرار داد مقاصد وتمام مکاتب فکر کے 31 علماء کے 22 نکات کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے آج ملک کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔وہ جامعہ سراجیہ میں عید الاضحی کے بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے ملک کے تمام خطباء اور مشائخ سے اپیل کی کہوہ موجودہ حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے باہمی فروعی اختلافات کو بھلا کر دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام کرنے کیلئے قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔