پا کستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بدعنوانی ہے، قمر زمان چوہدری

05 ستمبر 2017

اسلام آباد(نامہ نگار)قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ بدعنوانی ہر برائی کی جڑ ہے اور پا کستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔نیب کرپشن کے خاتمے کے لیے ہرممکن وسائل استعمال کرے گا،کرپشن کے خاتمے اور سی پیک منصوبے کی نگرانی کے لیے نیب نے چین کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔یہاں سے جاری ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ نیب کی حالیہ انتظامیہ کے دورمیںنظام کو جامع بنانے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیںاور کرپٹ عناصر سے بھاری رقم ریکور کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی گئی ہے۔ نیب کے بہترین افسران اور ان کی سخت محنت کی بدولت یہ کام ممکن ہوا ہے قوم کو ان افسران پر فخر ہے جو پیشہ روانہ طریقے اور شفافیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا واحد ادارہ ہے جس نے بیداری اور روک تھام مہم کے ذریعے کرپشن کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور بدعنوان عناصر کو گرفتار کر کے کو لوٹی ہوئی رقم واپس لی ہے، نیب کی حالیہ انتظامیہ نے اپنے دور میں کرپٹ عناصر سے 50ارب روپے کی رقم وصول کر کے قومی خزانے (صفحہ10بقیہ 8)
میں جمع کرائی ہے جو کہ ایک مثالی کارکردگی ہے۔اسی عرصے میں شکایات،انکوائریوںاور تحقیقات کی تعداد دوگنی ہوئی ہے جو نیب پر اعتماد کا اظہار ہے۔کرپشن کے خلاف جنگ کو قومی فریضے کے طور پر لڑا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے افسران کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ادارہ جاتی گریڈنگ کا نظام شروع کیا ہے،اس گریڈنگ سسٹم کے تحت، نیب علاقائی بیورو کا گزشتہ تین سالوں کا سالانہ اور مڈٹرم کی بنیاد پر ایک مقررہ معیار قائم کیا ہے جو بہت کامیاب ثابت ہوا ہے اور نیب کے علاقائی بیورو کی کارکردگی باقاعدگی سے نگرانی اور معائنہ کی وجہ سے روزانہ بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب دنیا کے انسداد بدعنوانی اداروں میں سے ایک ہے جو تمام مقدمات کی موثر اور تیز رفتارتفتیش کر رہی ہے وائٹ کالر کرائمز کے مقدمات کو نمٹانے کے لیے 10مہینے کا زیادہ سے زیادہ وقت مقرر کیا گیا ہے اس مدت میںشکایت کی توثیق سے انکوائری ، تحقیقات اور آخر میں احتساب عدالت میں کیس دائر کرنے کا عمل مکمل ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ نیب کے خلاف عوامی آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ عوام کو کرپشن کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔اس حوالے سے ایچ ای سی کے ساتھ مل کر یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروںمیں45ہزار کردار ساز سوسائیٹیاں قائم کی گئی ہیںکیونکہ نوجوان کرپشن کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیںسال 2017میں ہی ان سوسائیٹیوں کی تعداد کو بڑھا کر 55ہزار کیا جائے گا ۔چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کا سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین منتخب ہونا پاکستان کی بڑی کا میابی ہے،کرپشن کے خاتمے اور سی پیک منصوبے کی نگرانی کے لیے نیب نے چین کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب نے اسلام آباد میں اپنی جدیدفورنزک لیب قائم کی ہے جس میں جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیںاس سے نیب کی کارکردگی مزید تیز ہو گی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کو نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ نیب کے سینیئر افسران کے تجبات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔