کارپوریٹ ٹیکس ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے،عاطف اکرام شیخ

05 ستمبر 2017

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی)ایف پی سی سی آئی کی ریجنل کمیٹی برائے صنعت کے چئیرمین عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ کارپوریٹ ٹیکس ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی پھیلائو کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے اس لئے اسکی شرح کم کی جائے۔ ویتنام میں کارپوریٹ ٹیکس بائیس فیصد، بنگلہ دیش میں پچیس فیصد، سنگاپور میں سترہ فیصد ، سری لنکا میں پندرہ فیصد جبکہ پاکستان میں اڑتیس (38 ) فیصد ہے۔پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکس کو عالمی اوسط کے مطابق بائیس فیصد کیا جائے تاکہ صنعتی شعبہ ترقی کرے، مسابقت کی صلاحیت پیدا ہو اور برامدات بڑھائی جا سکیں۔ عاطف اکرام شیخ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں اڑتیس (38 ) فیصد ہے جبکہ شئیر ہولڈرز کو سینتالیس سے پچپن فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جس سے انکی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ پاکستان میں توانائی اور مزدوری حریف ممالک کے مقابلہ میں مہنگی ہے ، سیاسی عدم استحکام ، امن و امان کی صورتحال اور ملکی امیج کے مسائل الگ ہیں جبکہ درجنوں محکمے صنعتی شعبہ میں مسلسل مداخلت کر تے ہیںجس سے صنعتکار وں میں مایوسی پھیلتی ہے۔یہ صورتحال صنعتی شعبہ کیلئے مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے جسکی وجہ سے صنعتکار بھی تجارت کو ترجیح دینے لگے ہیں اور یہ ملک جو کبھی انڈسٹری کے حوالے سے مشہور تھا اب ٹریڈنگ اسٹیٹ بن رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ کا شعبہ جی ڈی پی کا 13.50 فیصد ہے جو پچاس فیصد ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے جبکہ زراعت جی ڈی پی کا بائیس فیصد ہے جو ایک فیصد ٹیکس بھی ادا نہیں کرتا جو امتیازی سلوک ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری پندرہ فیصد جبکہ انڈونیشیاء میں چالیس فیصد تک جا پہنچی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایس ای سی پی کے پاس 81493 سے زیادہ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں مگر ان میں سے صرف 30875 نے ٹیکس ریٹرن جمع کروائے ہیں جن میں سے صرف 19.4 فیصد نے انکم ٹیکس جمع کروایا ہے ۔ٹیکس گزار کمپنیوں کے بجائے ٹیکس ادا نہ کرنے والی 65734 کمپنیوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ برامدات بڑھانے کیلئے روپے کی قدر کم کرنا غلط ہے کیونکہ اس سے درامدات مہنگی ہو جائیں گی جبکہ افراط زر بھی بڑھے گا۔