حیرت ہوئی نہ بھارت خوش ہو، مذموم عزائم ناکام ہونگے: پاکستان

05 ستمبر 2017

شیامن/ بیجنگ/ اسلام آباد/ سیالکوٹ (نیوز ایجنسیاں + نوائے وقت رپورٹ + نامہ نگاران) دنیا کی پانچ اہم ابھرتی ہوئی معیشتوں بھارت، چین، برازیل، روس، جنوبی افریقہ کی تنظیم برکس نے پہلی مرتبہ اپنے اعلامیے میں پاکستان میں پائی جانے والی شدت پسند تنظیموں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کا ذکر کیا ہے، برکس ممالک نے خطے میں بدامنی اور طالبان، داعش، القاعدہ اور اس کے ساتھی گروہوں بشمول مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، حقانی نیٹ ورک، لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، ٹی ٹی پی اور حزب التحریر کی کارروائیوں کی مذمت اور اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ افغانستان میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے اور دہشتگردی کے واقعات میں ملوث، ان کا انتظام کرنے یا حمایت کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔ پیر کو بیجنگ میں ہونے والی کانفرنس کے اعلامیے کو بھارت کی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پانچوں ممالک کے سربراہان نے مشترکہ اعلامیے میں ایسے تنظیموں کی سخت مذمت کی ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔43 صفحات پر مشتمل اعلامیے میں تنظیم نے اس بات کو دہرایا ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ کرنا اولین طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے اور بین الاقوامی معاونت کو خود مختاری اور عدم مداخلت کی بنیادوں پر فروغ دینا چاہیے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کی مدد کرنے کے تمام وسائل ٹیکنیکس چینلو ں سے نمٹا جائے گا۔برکس رہنماﺅں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کے دنیابھر کے بین الاقوامی معیاروں پر تیزی سے اور موثر طور پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے ہم بین الاقوامی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وسیع البنیاد بین الاقوامی انسداد دہشتگردی اتحاد قائم کیا جائے اور اس ضمن میں اقوام متحدہ کی رابطہ قرار دادوں کی حمایت کی جائے مزید برآں برکس رہنماﺅں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد بین الاقوامی قانون کے مطابق کی جائے۔ تمام ممالک اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروہوں اور دہشت گرد کارروائیوں کیلئے مالی امداد روکیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ برکس اجلاسوں میں چین نے پاکستان میں پائے جانے گروہوں کو اعلامیے میں شامل نہیں ہونے دیا تھا۔ حالانکہ گذشتہ اجلاس اوڑی حملے کے ایک ہفتے بعد ہی ہوا تھا۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ چین اقوام متحدہ کی جانب سے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی دہشتگرد قرار دینے کی کوشش پر کیا ردِ عمل ظاہر کرتا ہے۔برکس کے مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کا کوئی ذکر نہیں اعلامیہ میں افغانستان سمیت برکس ممالک میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے برکس سربراہی اجلاس میں اپنی صاف کو تقریر میں اپنے ون بیلٹ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کا حوالہ دیا جس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ایک اہم حصہ ہے انہوں نے تنظیم کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات ترک کر دیں اورباہمی اعتماد اور سٹریٹجک کمیونی کیشن میں اضافہ کرکے دوسروں کیلئے خدشات کو سمونے کی کوشش کریں۔ برکس نے افغانستان اور خطے میں دہشتگرد حملوں کی مذمت کی اور کہا ہے کہ افغانستان میں امن اور قومی مفاہمت کے عمل میں افغان عوام کے ساتھ ہیں۔ افغانستان میں تشدد فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کیخلاف آپریشن میں افغان فورسز کی حمایت کرتے ہیں۔ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔ خطے میں انتہاپسند اور شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں پر تشویش ہے۔ دوسری طرف چین نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے انسداد کی کوششوں میں صف اوّل کے ممالک میں شامل ہے، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت سے جانوں کا نذرانہ دیا ہے اور بہت سی قربانیاں دی ہیں اورعالمی برادری کو پاکستان کی ان قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہئے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے انسداد کی کوششوں میں صف اول کے ممالک میں شامل ہے، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت سے جانوں کا نذرانہ دیا ہے اور بہت سی قربانیاں دی ہیں اورعالمی برادری کو پاکستان کی ان قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چین دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریگا کیونکہ یہ تمام فریقوں کے مفاد میں ہے۔ دوسری طرف وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کردار ادا کرتا رہیگا۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے بیان سے متعلق میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے اور ہم ملک میں امن واستحکام چاہتے ہیں۔ پاکستان ہمسایہ ملک میں امن کے قیام کےلئے تمام ضروری اقدامات کریگا۔ ہم پہلے ہی دوطرفہ، سہ طرفہ اور کئی پہلو¶ں سے افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور رابطے میں ہیں اور ان طریقوں کو بھرپور انداز میں استعمال میں لانا چاہئے‘ دونوں جانب سے حال ہی میں ہونے والے رابطوں میں سیاسی، عسکری اور خفیہ رابطوں کے حوالے سے تمام تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے۔ سیالکوٹ میں عید کی نماز کی ادائیگی کیلئے میڈیا سے گفتگو میں عید مبارک کہنے کے بعد خواجہ آصف نے مزید بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ عید منانی ضروری ہے۔ ایم پی اے رانا لیاقت علی کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد سے گفتگو میں خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کشمیر ی عوام جذبہ آزادی سے سرشار ہو کر جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں‘ بھارت کی قابض فوج جدید ترین اسلحہ کے استعمال کے باوجود کشمیری عوام کے جوش وجذبے کو سرد نہیں کرسکی۔ کشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار ہے اور بھارت کو جلد ہار مان کر مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی گولیاں اور اسلحہ ختم ہوجائیگا مگر کشمیری عوام کا جذبہ حریت سرد نہیں ہو سکے گا۔ افغانستان اپنی سرزمین پر قائم بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے مراکز پر پابندی لگائے۔ خواجہ محمد آصف نے کہاکہ امریکہ پاکستان کی شمولیت کے بغیر افغان پالیسی کو کامیاب نہیں بناسکتا۔وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر کے مطابق دہشت گرد گروپوں پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکے، بھارت غیر ضروری خوشی نہ منائے، چین نے پاکستان کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

اسلام آباد (شفقت علی‘ نیشن رپورٹ) برکسسربراہ کانفرنس کے اعلامیہ میں پاکستان سے مبینہ طور پرآپریشن کیے جانے والے دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے ذکر پر اپنے ردعمل میں وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس اعلامیہ سے کوئی حیرت نہیںہوئی۔ پاکستان ان دہشت گرد گروپوں پر پہلے ہی پابندی عائد کرچکا ہے جو دہشتگردی میں بلاواسطہ یا بالواسطہ ملوث ہیں۔ بھارت اعلامیہ پر غیر ضروری طور پر خوش ہو رہا ہے۔ بھارت خوش نہ ہو اس کے مذموم عزائم ناکام ہوں گے۔ ایک سینئر عہدیدار نے نیشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ یہ یقین دہانی کراچکا ہے کہ چین پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی کبھی حمایت نہیں کرے گا۔ بھارت چین کو ہم سے دور نہیں کرسکتا۔ وزارت خارجہ کے ایک اور اہلکار نے نیشن کو بتایا کہ چین کی طرف اعلامیہ سے پاکستان کا لفظ نکالنے کے اصرار پر ٹی ٹی پی کا لفظ استعمال کیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج ڈوکلام تنازع کے بعد آج پہلی بار چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔