شمالی کوریا ہائیڈروجن بم کا تجربہ: امریکہ نے ایٹمی حملہ کی دھمکی دےدی

05 ستمبر 2017

پیانگ یانگ، واشنگٹن ،اسلام آباد ( اے ایف پی+ نوائے وقت رپورٹ+ سٹاف رپورٹر) برطانوی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ شمالی کوریا نے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کرلیا ہے جو ایٹم بم سے کئی گنا اور ہیرو شیما پر گرائے بم سے 5 گنا طاقتور ہے جبکہ ترجمان وائٹ ہا¶س نے اشتعال انگےزےوں پر شمالی کورےا کو اےٹمی حملے کی دھمکی دی ہے۔ شمالی کوریا نے چھٹا ایٹمی دھماکہ کیا ہے اور جدید ترین ہائیڈروجن بم تیا کیا ہے جو بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پر رکھ کر لانچ کیا جاسکتا ہے۔ زیر زمین وسیع پیمانے پر زلزلے کا جھٹکا 6.3 شدت محسوس کیا گیا۔ جواب میں جنوبی کوریا نے میزائل کی ایک مشق کی ہے جو کہ شمالی کوریائی جوہری تنصیبات پر حملے کے مشابہ ہے۔ جب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے دھمکی دی اگر امریکہ یا اس کے اتحادی کو کوئی خطرہ پیش آیا تو اس کا جواب بھرپور فوجی قوت سے دیا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ شمالی کوریا کے الفاظ اور عمل دونوں ہی امریکہ کے لئے انتہائی خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔ شمالی کوریا ایک نسل پرست، باغی ملک ہے جو چین کے لئے بڑا خطرہ اور شرمندگی کا باعث ہے۔ چین بہت ہی کم کامیابی حاصل کر سکا ہے۔ چین، جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے بھی شمالی کوریا کی جانب سے ہائیڈروجن بم کے تجربے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں فعال ہونے سے اجتناب کرے، ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں۔ چین نے سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ اسے ایسے اشارے ملے ہیں کہ جو ظاہر کرتے ہیں کہ شمالی کوریا ایک اور بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ایسے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے جو ایک ایٹمی بم سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہے۔ جیمز میٹس نے کہا کہ امریکہ اپنے اور اپنے اتحادیوں جنوبی کوریا اور جاپان کے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ کئی فوجی آپشنز موجود ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکہ ایسے ملک کے ساتھ تجاررت کو بند کردے گا جو شمالی کوریا کے ساتھ کاروبار کرتا ہے۔ اے پی پی کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری اسلحہ سے پاک کرنے کے معاملے میں اتفاق کر لیا ہے۔ جنگ پنگ اور پیوٹن کی ملاقات چین میں برکس سربراہی اجلاس کے دوران ہوئی۔ دونوں نے شمالی کوریا کے ہائیڈروجن بم کے تجربے پر مناسب جواب دینے پر بھی اتفاق کیا۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان اور فرانس کی درخواست پر طلب کیا گیا۔ امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ اقوام متحدہ شمالی کوریا کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ برطانوی سفیر نے کہا کہ شمالی کوریا پوری دنیا کیلئے خطرہ ہے۔ ہم مسئلے کے پرامن حل کے خواہاں ہیں۔ فرانسیسی سفیر نے کہا کہ شمالی کوریا اب ایک علاقائی نہیں بلکہ عالمی خطرہ ہے۔ جاپان کے سفیر نے کہا کہ شمالی کوریا پر مزید دباﺅ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سویڈن کے سفیر نے کہا کہ شمالی کوریا پر پابندیوں پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ جاپان نے نئی پابندیوں کی قرارداد لانے کا مطالبہ کیا۔ تابکاری اثرات مرتب کرنے والے اعداد و شمار کے مطابق ڈیموکریٹکس پیپلز ریپبلک کوریا کی طرف سے اتوار کو کئے جانے والے جوہری تجربے کے پیر کی صبح چار بجے تک چین کے ماحول پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی کوریا رہنما مون سے فون پر سیول پر سے میزائلوں کے وار ہیڈز پر لگائی گئی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ این این آئی کے مطابق شمالی کوریا کے ایٹمی تجربوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ایک فیصد اضافے کے بعد ایک سال کے دوران بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ 1338 اعشاریہ 36 ڈالرز فی اونس تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال ستمبر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ایف ایکس ٹی ایم میں مارکیٹ ریسرچ کے نائب صدر جمیل احمد کے مطابق سونے کی قیمت میں اضافہ شمالی کوریا کے حالیہ ایٹمی تجربوں اور مجموعی طور پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ہوا ہے۔ چینی مندوب نے کہا کہ آبنائے کوریا میں جنگ اور انتشار کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ آبنائے کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنایا جائے۔ سلامتی کونسل کے مستقل رکن روس نے بھی چین کے مو¿قف کی تائید کی۔چینی مندوب نے کہا کہ آبنائے کوریا میں جنگ اور انتشار کی اجازت ہرگز نہیں دینگے۔ آبنائے کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنایا جائے۔ سلامتی کونسل کے مستقل رکن روس نے بھی چین کے موقف کی تائید کی ہے۔