کنٹرول لائن:بھارتی فائرنگ سے 5 سالہ بچی شہید، انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی

05 ستمبر 2017

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان میں متعین بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے بھارتی فوج کی طرف سے 2 ستمبر کو کنٹرول لائن کے چڑی کوٹ سیکٹر میں جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی اور آٹھ سالہ بچی مومنہ کی شہادت پر شدید احتجاج کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق ڈی جی برائے جنوبی ایشیا ڈاکٹر فیصل نے بھارتی سفارتکار جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ پاکستان کی طرف سے بار بار جنگ بندی معاہدہ کی پاسداری کے مطالبات کے باوجود بھارتی فوج رواں سال کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈری پر اب تک 700 بار جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی جس کے باعث 30 بے گناہ شہری شہید اور 113 زخمی ہوچکے ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ شہریوں کو جان بوجھ کا نشانہ بنانا تمام تر روایات اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کروا کر انہیں سزا دی جائے، جنگ بندی معاہدہ کی روح پر عمل کیا جائے اور اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو کنٹرول لائن تک رسائی فراہم کی جائے۔ بھارتی فورسز نے عباس پور سیکٹر میں واقع پولاس گاو¿ں پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اپنے گھر کے باہر کھیلنے والی 5 سالہ بچی سر پر گولی لگنے سے شہید ہو گئی۔ کھوئی رٹہ میں پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی سے دشمن کی گنیں خاموش ہوگئیں۔ سیری گجر منڈی پر انڈین آرمی نے بلااشتعال فائرنگ اور سول آبادی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ سے 14 سالہ لڑکا حمزہ شدید زخمی ہوگیا‘ لڑکا اپنے گھر کے صحن میں کھیل رہا تھا کہ دشمن کی گن G2کا فائر لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ سیالکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق بھارتی سکیورٹی فورسز نے عید کے تیسرے روز سیالکوٹ ورکنگ باﺅنڈری لائن کے ہرپال سیکٹر پر دیہی آبادی پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے جس کا پنجاب رینجرز نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔ گاﺅں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں میں محصور ہوگئے۔