پنجاب کی جیلوں میں گنجائش سے 57 فیصد زیادہ قیدی‘ خواتین قیدیوں کی حالت خراب‘ انصاف ملنے کی امید نہیں

05 ستمبر 2017

اسلام آباد(صباح نیوز) پنجاب کی جیلوں میں گنجائش سے57 فی صد زیادہ قیدی ہیں،پنجاب میں 4ہزار 346قیدی پھانسی کی سزا پر عمدرآمد کے منتظر ہیں57قیدی ایسے بھی ہیں جو دماغی معذور ہیں، 40جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش 30ہزار 331جبکہ ان جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 47ہزار 674ہے۔ سپریم کورٹ نے ملک بھر کی جیلوں میں خواتین کی حالت زار پر از خود نوٹس لے رکھا ہے، پنجاب میں مزید 3جیل تعمیر کیے جائیں گے اڈیالہ جیل میں 150 خواتین اور ان کے 59بچے قید ہیں۔ انسپکٹر جنرل پنجاب جیل خانہ جات کی طرف سے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کی جیلوں میں گنجائش کم اور قیدی بہت زیادہ موجود ہیں۔ پنجاب میں 4ہزار 346قیدی پھانسی کی سزا پر عمدرآمد کے منتظر ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 57 قیدی ایسے بھی ہیں جو دماغی معذور ہیں۔پنجاب کی مختلف جیلوں میں مجموعی طور پر 913خواتین قیدی ہیں ۔ قیدیوں کو تین دن اپنی بیگمات اور بچوں سے ملانے کیلئے منصوبہ شروع کرنے کا ایک منصوبہ زیر غور ہے۔انسپکٹر جنرل پنجاب جیل خانہ جات کی طرف سے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبے کی کل 40جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش 30ہزار 331 جبکہ ان جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 47ہزار 674ہے۔ان میں سے 4ہزار 346ایسے قیدی موجود ہیں جن کی سزائے موت کنفرم ہوچکی ہے اور وہ اپنی سزا پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ لاہور، ملتان اور فیصل آباد کی جیلوں میں 54فیملی رومز بمعہ باورچی خانہ اور باتھ رومز تعمیر کئے گئے ہیں، جہاں پر پانچ سال سے زیادہ قید کی سزا پانے والے ملزمان ہر 3ماہ میں ایک مرتبہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ تین دن قیام کرسکیں گے۔پاکستان میں اداروں کے خلاف شکایات سننے کیلئے قائم ادارے وفاقی محتسب نے بھی راولپنڈی کی سب سے بڑی جیل اڈیالہ جیل میں خواتین قیدیوں کی حالت زار سے متعلق رپورٹ تیار کی ہے۔وفاقی محتسب کی اس رپورٹ میں جیلوں میں خواتین کی حالات زار پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں خواتین کیلئے تعلیم کا کوئی معقول انتظام نہیں۔ جیل میں سڑنے والی خواتین کو سستے اور فوری انصاف کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوعمر لڑکیاں کپڑے چوری کرنے جیسے معمولی جرائم میں قید ہیں۔ لڑکیوں کا والدین سے رابطہ ہے نہ ہی انصاف ملنے کی امید۔ قیدی لڑکیوں کو کوئی قانونی مدد بھی فراہم نہیں کی گئی۔ اڈیالہ جیل میں 150خواتین اور ان کے 59بچے قید ہیں۔ ملک کی مختلف جیلوں میں خواتین قیدیوں کے ساتھ رات کے وقت بدسلوکی کی جاتی ہے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ اس طرح کے واقعات جیل کے عملے کی ملی بھگت کے بغیر نہیں ہوسکتے اور اب تک ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی