بھارت: ایک طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ایسے نظام کا حامی ہے جسے دلتوں اور کمزور طبقے کی موت پر درد نہیں ہوتا :رپورٹ

05 ستمبر 2017

نئی دہلی (بی بی سی) گزشتہ ہفتے جب ہریانہ کی ایک عدالت نے ڈیرا سچا سودا کے سربراہ بابا گرمیت رام رحیم کو ریپ کے دو معاملات میں مجرم قرار دیا تو بابا کے ہزاروں حامی احتجاج میں تشدد پر اتر آئے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ریاست حکومت نے گرمیت رام رحیم کے ایک لاکھ سے زیادہ حامیوں کو پنچ کولا کی عدالت اور اس کے اطراف میں ان اطلاعات کے باوجود ایک روز پہلے سے جمع ہونے دیا تھا کہ فیصلہ ناموافق ہونے کی صورت میں بابا کے حامی تشدد پر اتر سکتے ہیں۔ انڈین معاشرے پر اعلیٰ ذاتوں اور طبقے کی مکمل اجارہ داری ہے۔ درد اور اخلاقیات کا تعین بھی یہی طبقہ کرتا ہے۔ کبھی قوم پرستی کے نام پر تو کبھی مذہب کی شکل میں ہر جگہ یہی طبقہ انڈین معاشرے کا فیصلہ کررہا ہے۔ ملک اس وقت دو خانوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو کمزور ہیں جن کے پاس سیاسی طاقت نہیں ہے۔ جو بے بس ہیں اور جو معاشرے میں برابری کا مقام حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دوسری جانب وہ طبقہ ہے جسے سب کچھ حاصل ہے اور جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ایسے نظام کا حامی ہے جس میں دلتوں، قبائلیوں، غریب اور کمزور طبقے کی ضرورت تو ہے لیکن ان کے لئے کوئی درد نہیں ہے۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کا معاشرہ روایتی طورپر دلتوں اور کمزور طبقے پر جبر اور تشدد پر نہ صرف خاموش رہا ہے بلکہ اسے سماج کی قبولیت بھی حاصل ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ معاشرے میں طبقاتی کشمکش اور ذات پات کے ٹکرائے کے بحران کی علامت ہے۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہے ملک کا دبا ہوا طبقہ اب زیادہ شدت سے مزاحمت کررہا ہے۔

رپورٹ