جنوبی ایشیا میں سیلاب سے متاثرہ ایک کروڑ60لاکھ بچوں کی زندگیوں کو خطرہ: یونیسف

05 ستمبر 2017

اقوام متحدہ (اے پی پی) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال 'یونیسف' کا کہنا ہے جنوبی ایشیا میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات سے بچاو¿ کے لیے فوری امداد کی ضرورت ہے۔یونیسف کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا ڑاں گوف نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب سے "بچوں نے اپنے گھر، سکول حتیٰ کہ اپنے دوست کھو دیئے ہیں" گوف نے کہا کہ مون سون کی شدید بارشیں اب بھی جاری ہیں اس لیے صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگست کے وسط سے اب تک بارشوں اور سیلاب کے باعث 13 سو افراد ہلاک اور چار کروڑ 50 لاکھ متاثر ہو چکے ہیں۔نیپال، بھارت اور بنگلہ دیش میں گزشتہ دو ماہ کے دوران سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں دیہات پانی میں ڈوب گئے جس سے ہزاروں افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے بنگلہ دیش میں 80 لاکھ افراد متاثر ہوئے جن میں 30 لاکھ بچے بھی شامل ہیں، تقریباً 7 لاکھ گھروں اور23,00 سکولوں کو بھی نقصان پہنچا۔نیپال میں تقریباً 17 لاکھ افراد متاثر ہوئے جن میں تین لاکھ 53 ہزار وہ بھی شامل ہیں جنہیں اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے۔تقریباً 2ہزار سکولوں کو نقصان پہنچا جس کی وجہ سے دو لاکھ 55 ہزار بچوں کی تعلیم کا سلسلہ رک گیا ہے۔دوسری طرف بھارت کی چار ریاستوں میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے جس سے ان علاقوں کے تین کروڑ 10 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق 8 لاکھ پانچ ہزار گھروں اور تقریباً 15 ہزار پانچ سو سکولوں کو نقصان پہنچنے سے قریبا 10 لاکھ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ معطل ہو گیا ہے۔
سیلاب/ یونیسف

a