شمالی کوریا کا پاکستان سے ایٹمی ٹیکنالوجی میں تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا : ڈاکٹر عبد القدیر

05 ستمبر 2017
شمالی کوریا کا پاکستان سے ایٹمی ٹیکنالوجی میں تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا : ڈاکٹر عبد القدیر

ملتان/ لاہور( این این آئی)پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کا پاکستان سے ایٹمی ٹیکنالوجی میں تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ٗ حکومتوں کی سطح پر میزائل ٹیکنالوجی کے منظور شدہ پروگراموں کے باعث شمالی کوریا کے ایٹمی سائنسدانوں سے رابطے رہے ہیں اورایک دومرتبہ آنا جانا بھی ہوا ٗ شمالی کوریا کے سائنسدان بہت ذہین ہیں اورزیادہ تر روس میں تعلیم حاصل کی ہے ٗروس اور چین شمالی کوریا کو کبھی اکیلا نہیں ہونے دیں اور اس کی حمایت جاری رکھیں گے،ہائیڈروجن بم ایٹم بم سے کئی گنا طاقتور ہوتا ہے۔میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق بھارت نے بھی ہائیڈروجن بم بنانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکاتھا ۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹر ویو میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ حکومتوں کی سطح پر منظور شدہ پروگراموں کے باعث شمالی کوریا آنا جانا تھا اور ہماری ان سے میزائل ٹیکنالوجی پر بات ہوتی تھی،جوہری ٹیکنالوجی کے میدان میں شمالی کوریا پاکستان سے بہت آگے ہے کیونکہ ان کے ماہرین روس سے پڑھے ہوئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ جس طرح روس اور چین نے امریکہ کے مقابلے میں ویتنام کو بھرپو رمدد فراہم کی تھی اسی طرح اب بھی روس اور چین شمالی کوریا کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی دعوت پر شمالی کوریا کے لوگ بھی یہاں آتے رہے ہیں اور ہماری ان سے میزائل ٹیکنالوجی کے بارے میں بات ہوتی تھی ۔اس سوال پر کہ کیا شمالی کوریا نے ایٹمی ٹیکنالوجی میں پاکستان سے کوئی مدد لی تھی تو انہوںنے کہاکہ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ مجموعی طورپر شمالی کوریا کی ٹیکنالوجی پاکستان سے بہتر ہے ٗ ہماری ٹیکنالوجی عام ٹیکنالوجی ہے اور ہمارا ان سے رابطہ صرف میزائل سے متعلق تھا جس کو حکومت نے باضابطہ طورپر تسلیم بھی کیا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہائیڈروجن بم ایٹم بم سے کئی گنا طاقتور ہوتا ہے ۔ ایٹم بم اگر کسی جگہ گرایا جائے تو وہ ایک سے دو کلو میٹر کی حدود کو متاثر کرتا ہے جبکہ ہائیڈروجن بم کسی بھی پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...