پنجاب کا ’’مرد میدان‘‘ شہباز شریف

05 ستمبر 2017
پنجاب کا ’’مرد میدان‘‘ شہباز شریف

میدان سیاست میں جن رہنمائوں نے مجھے متاثر کیا ہے ان میں پنجاب کا مرد میدان میاں شہباز شریف ہے جو مخصوص انداز میں ’’ہیٹ‘‘ (hat) پہن کر ہر جگہ لوگوں کی مدد کے لئے موجود ہوتا ہے متاثر ہونے کی یہ وجہ نہیں ہے کہ وہ میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب پر فائز ہیں۔ پنجاب کے کئی حکمران آئے اور چلے گئے۔ پنجاب کی تاریخ میں رنجیت سنگھ کی حکومت کا بڑا ذکر ہے لیکن میاں شہباز شریف بھی پنجاب کے ان حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی’’گڈگورننس‘‘ کا چرچا سالہاسال تک رہے گا۔ بعض لوگ انہیں نواز شریف سے بہتر حکمران سمجھتے ہیں لیکن میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ شہباز شریف میاں نواز شریف کے بغیر نامکمل ہیں اگر نواز شریف اور شہباز شریف کو الگ کر دیا جائے تو پیچھے کچھ نہیں بچتا لٰہذا پاکستان کی سیاست میں دونوں بھائیوں کا جو کردار متعین کر دیا گیا اس کی کوئی نفی نہیں کر سکتا۔ شہباز شریف ،نواز شریف کی سوچوں کے خاکے میں رنگ بھرتے ہیں۔ وہ ان کے ذمے کوئی کام لگاتے ہیں اسے وہ دنوں میں مکمل کرنے کا ریکارڈ قائم کر دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں تعمیرات کے جو پہاڑ کھڑے کر دئیے ہیں اس سے زچ ہو کر ان کے سیاسی مخالفین آئے روز ان کے خلاف الزامات عائد کرتے رہتے ہیں لیکن ثبوت فراہم نہ کرنے پر انہیں راہ فرار اختیار کرنا پڑتی ہے لاہور کے بعد راولپنڈی اور ملتان میں میٹرو پراجیکٹ مکمل کیا تو سیاسی مخالفین پریشان ہوگئے۔ اب فیصل آباد میں میٹرو بس کے چوتھے پراجیکٹ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ لاہور میں ’’اورنج ٹرین ‘‘کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچنے والا ہے شریف برادران کے سیاسی مخالفین نے ان پر تازہ ترین حملہ کیا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف پر چینی کمپنی ’’یا بائٹ‘‘کے حوالے سے میٹرو بس پراجیکٹ میں 3ارب روپے کی بدعنوانی کا الزام عائد کیا تو جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے پریس کانفرنس کر کے عمران خان کو 48گھنٹے کا نوٹس دے دیا وہاں چینی حکومت بھی شہباز شریف کا دفاع کرنے کے لئے میدان میں آ گئی۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے کہ جھوٹے الزامات پر صفائی پیش کرنے کے لئے چینی حکومت میدان میں آگئی سوشل میڈیا پر کافی عرصہ سے چینی کمپنی کی کہانی موضوع گفتگو بنی ہوئی تھی لیکن جب کسی’’ خفیہ ہاتھ ‘‘نے چینی کمپنی کو میاں شہباز شریف کا دامن داغدار کرنے کے لئے استعمال کرنا شروع کیا اور میدان سیاست کا’’مہرہ‘‘ شہباز شریف پر حملہ آور ہوا تو میاں شہباز شریف نے اس کا سخت نوٹس لے لیا ۔ عمران خان نے کہا کہ ’’ پانامہ پیپرز نے نواز شریف اور چینیوں نے شہباز شریف کا بھانڈہ پھوڑ دیا اور کہا کہ نیب کو اورنج ٹرین اور میٹرو بس منصوبوں میں کمیشن کے بارے میں تحقیقات کرنی چاہیے۔ اسی روز وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ہنگامی پریس کانفرنس کر کے عمران خان کو چیلنج کیا کہ وہ کرپشن کے ثبوت فراہم کریں اگر ان کے خلاف ایک الزام بھی ثابت ہو جائے تو انہیں کھمبے سے لٹکا دیا جائے۔ انہوں نے ایک نجی ٹیلی ویژن اور چوہدری اعتزاز احسن کو بھی لیگل نوٹس بھجوا دیا ۔ میاں شہباز شریف نے ایک ہی سانس میں آصف علی زرداری،جہانگیر ترین اور بابر اعوان کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا ۔ میاں شہباز شریف کسی کا چڑھایا ہوا ادھار فوری طور پر چکا دیتے ہیں۔ قبل ازیں وہ پانامہ کا تعاقب نہ کرنے کے لئے شہباز شریف کی طرف سے اربوں روپے کی پیشکش کا الزام عائد کرنے پر عمران خان کے خلاف10ارب روپے کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کر چکے ہیں اور وہ ان کا مسلسل تعاقب کر رہے ہیں۔ بہت جلد حقیقت سامنے آگئی اور چینی حکومت جس یا بائٹ نامی کمپنی کے خلاف تحقیقات کر رہی تھی وہ اس نتیجہ پر پہنچی ہے اس کمپنی کا بالواسطہ اور نہ ہی بلاواسطہ میٹروپراجیکٹ سے تعلق ہے۔ اس کا کوئی مقامی پارٹنر پاکستان میں رجسٹر نہیں ہے پاکستانی اداروں ایس ای سی پی ، ایس بی پی ،ایف بی آر اور پی ای سی کی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ سب ایک جھوٹی کہانی ہے اس کمپنی اور نہ ہی اس کے سی ای او فیصل سبحان کو تلاش کیا جاسکا ۔ اسی طرح میاں شہباز شریف اور سینیٹر مشاہد حسین کی جانب سے تعریفی خطوط جعلی نکلے۔ خطوط ، استعمال ہونے والے لیٹر پیڈز، دفتر خارجہ کی تصدیق سے ظاہر ہوتا ہے ان سب کاانتظام پاکستان کے اندر ہی کیا گیا تھا اس پورے ’’ڈرامے‘‘ کے پیچھے کوئی’’خفیہ‘‘ ہاتھ کار فرما نظر آتاہے۔ اس کا ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ کون ہے تاحال اس کا تعین ہونا باقی ہے۔ پاکستان میں چینی سفارت خانہ کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان ژائو نے میٹرو بس منصوبہ میں چینی کمپنی کے ذریعے کرپشن کے الزامات کی باضابطہ طور پر تر دید کر دی ہے اور کہا ہے جیانگسو یا بائٹ ٹیکنالوجی کارپوریشن کا پاکستان میں کوئی وجود ہی نہیں۔ جیانگسو یا بائٹ نے اپنی تعریف میں چند جعلی خطوط بنائے جس پر اسے سزا دی گئی پاک چین راہداری منصوبہ (سی پیک) صاف و شفاف ہے جس میں کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں ۔ یہ نواز شریف کی وکٹ گرانے کے بعد شہباز شریف کی دیانت پر دوسرا بڑا حملہ تھا اسے شہباز شریف پر اللہ تعالٰی کا خصوصی کرم کہیے یا کچھ اور ان پر کرپشن کے الزامات لگانے والے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں ۔عمران خان تو تین چار روز تک نتھیا گلی سے ہی نہیں نکلے اور پر اسرار خاموشی اختیار کر لی ہے ۔ شہباز شریف کاطرز حکمرانی ہمیشہ مجھے اپنی طرف متوجہ کرتا رہتا ہے ، سندھ میں میٹرو بس کی تعمیر ہو یا خیبر پی کے میں ڈینگی کا حملہ ،جب وہاں کے لوگ میاں شہباز شریف کو مدد کے لئے پکارتے ہیں تو سچی بات یہ ہے میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ میرے صوبے کا حکمران اس قابل تو ہے کہ دوسرے صوبوں کے عوام اس کے طرز حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں ۔ اسی روزوزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے خیبر پی کے کے عوام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے میڈیکل ٹیمیں پشاور بھجوا دیں۔ پشاور میں محکمہ صحت کے افسران نے پنجاب آنے والی میڈیکل ٹیم کا خیر مقدم کیا لیکن خیبر پی کے کے وزیر صحت نے پنجاب کے وزیر صحت سے ملاقات کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ ’’کپتان‘‘ نے ڈینگی سے متاثرہ افراد کی عیادت کرنے کی بجائے نتھیاگلی کے پر فضا مقام پر قیام کو ترجیح دی ۔ معزولی کے بعد میاں نواز شریف نے شہباز شریف کو اپنے منصب پر بٹھانے کا فیصلہ کیا تو وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں بیوروکریسی میں کھلبلی مچ گئی، نہ جانے میاں نواز شریف نے کن نامعلوم وجوہات کی بناء پر اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لی اور ہما شاہد خاقان عباسی کے سر پر بٹھا دیا اور اب یہ بات برملا کہی جا رہی ہے کہ بیگم کلثوم نواز ہی بقیہ مدت کے لئے وزیر اعظم ہوں گی۔ میاں شہباز شریف جو کہ ایک بہترین منتظم کی شہرت رکھتے ہیں کے وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے سے نواز شریف کے دور حکومت میں زیر تکمیل منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے لیکن یہ کہا گیا کہ پنجاب کو شہباز شریف کی ضرورت ہے۔ شہباز شریف وفاق چلے گئے تو پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی گرفت کمزور ہو جائے گی۔ میں اس تھیوری سے اتفاق نہیں کرتا لیکن اب شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنا دیا گیا ہے تو وہ توقعات سے بھی زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ روزانہ12 سے16گھنٹے کام کرتے ہیں ایک ایک دن میں بیسیوں میٹنگ کرنے کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں ۔ میاں شہباز شریف کی شہرت جہاں اچھے منتظم کی ہے وہاں وہ ایک دیانت دار اور سخت گیر حکمران کے طور پر کرپشن کے بارے میں زیرو ٹالرنس رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کام چور اور کرپٹ افسر شہباز شریف کے سائے سے بھی دور بھاگتے ہیں۔ ڈاکٹر عمر سیف کی باتیں سن کر مجھے یقین ہو چلا ہے نواز شریف جو نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں اس کی ایک جھلک پنجاب میں دیکھی جا سکتی ہے پنجاب میں صدیوں پرانے نظام کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سانچے میں تیزی سے ڈھال دیا گیا ہے رہی سہی کسر حکومت کے آخری سال میں نکال لی جائے گی۔ ڈاکٹر عمر سیف جو دو چار ماہ کے لئے پاکستان آئے فرینڈلی ماحول پا کر یہیں کے ہو کر رہ گئے اور وہ پچھلے 6 سال سے پنجاب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں انقلاب برپا کرنے کے لئے کوشاں ہیں میاں شہباز شریف نے انہیں کہا تھا ’’ڈاکٹر صاحب آپ میرے ساتھ دوڑتے دوڑتے تھک جائیں گے لیکن میں تھکوں گا نہیں۔‘‘ وقت نے ثابت کیا شہباز شریف تھکے نہ ان کے ساتھ ڈاکٹر عمر سیف۔ دونوں نے ایک دوسرے کا چیلنج قبول کیا ہے۔ ڈاکٹر عمر سیف ، میاں شہباز شریف کے دئیے گئے اہداف کی تکمیل میں دن رات مصروف ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی ترجیحات پر اختلاف رائے کی گنجائش موجود ہے لیکن انہوں نے تعمیر و ترقی کے جو منصوبے شروع کئے ہیں اس نے پنجاب کو دیگر صوبوں سے ممتاز کر دیا ہے ۔ دیگر صوبوں کے عوام بجا طور پر اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ کاش !ان کو بھی ایک شہباز مل جائے ان کا صوبہ بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میں محکمہ پولیس اور مال ‘‘ میں کرپشن تو ختم نہ کر سکے لیکن ایک بات واضح ہے شہباز شریف نے کرپٹ افسروں کے خلاف جو جنگ شروع کر رکھی ہے وہ بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔ شہباز شریف کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کرنے والوں کو اسی طرح مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا جس طرح انہیں نواز شریف کے خلاف کیس میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا وہ نواز شریف کے خلاف پانامہ میں کرپشن تو ثابت نہ کر سکے لیکن اقامہ رکھنے کے ’’جرم‘‘ میں نا اہل قرار دلوا دیا۔