صوبائی ملازمین ہائوسنگ فائونڈیشن کی ابتر صورتحال

05 ستمبر 2017

نعیم الحسن
پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز کیلئے رہائشی منصوبے کا آغاز ہوئے 13 برس گزر گئے ہیں مگر حکومت پنجاب کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ منصوبہ تعمیر شدہ گھروں کی فراہمی سے تبدیل ہو کر محض پلاٹوں کی الاٹمنٹ تک محدود ہو گیا ہے۔ سابقہ دور حکومت میں فائونڈیشن کے قیام کے بعد درخواست گزاروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تھی جن میں سے قلیل تعداد میں ریٹائرڈ ملازمین کو مکانات کی سہولت میسر آ سکی۔ بعد میں اس سکیم کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں محض پلاٹوں کی الاٹمنٹ کیلئے ایڈوانس اقساط وصول کی جاتی رہی ہیں۔ سکیم کے تحت چھوٹے بڑے ملازمین کیلئے فائونڈیشن کی جانب سے پانچ، سات، دس مرلے اور ایک کنال کے گھروں کی تقسیم کا منصوبہ دیا گیا تھا جو موجودہ حکومت کی جانب سے ناکافی وسائل کی وجہ سے واپس لیا جا چکا ہے۔
2004ء میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے سرکاری ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ پر متعلقہ گریڈ اور تنخواہ کے لحاظ سے ماہانہ کٹوتی کے ذریعے جگہ کی فراہمی اور مکان کی تعمیر کے لئے پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہائوسنگ فائونڈیشن قائم کی تھی۔ فاؤنڈیشن کے تحت اس وقت صوبے کے بڑے اضلاع میں اس کے دفاتر کام کر رہے ہیں۔ جن میں صوبائی دالحکومت کے علاوہ فیصل آباد ،ملتان، راولپنڈی، ڈی جی خان، بہاولپور،ساہیوال ، خانیوال سیالکوٹ میں ضلع کی سطح پر بھی بورڈ آف ریونیو سے ہاؤسنگ کے لئے سرکاری اراضی حاصل کرکے انفراسٹرکچر تیار کیا جارہا ہے۔فاؤنڈیشن کے زیر انتظام ابتدائی سالوں میں ریٹائرڈ ملازمین کو تیار شدہ گھر الاٹ بھی کئے گئے مگر بعد ازاں صرف خالی پلاٹ الاٹ ہونے لگے اور پھر لاہور میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ بھی بند کر دی گئی۔ اب دیگر اضلاع میں اگرچہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا سلسلہ جاری ہے مگر یہ الاٹمنٹ بذریعہ قرعہ اندازی ہو رہی ہے ۔حالانکہ جس ضلع سے ریٹائرڈ ملازم کا تعلق ہو اسے ریٹائر منٹ پر اسی ضلع میں وعدے کے مطابق تیار گھر، نہیں تو کم از کم پلاٹ ہی الاٹ ہونا چاہئے۔ مگر فائونڈیشن نے اپنے ممبران کو اعتماد میں لئے بغیر اس میں تبدیلی کر لی ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کو دور دراز اضلاع میں دھکیلا جا رہا ہے جہا ں وہ گھر تعمیر کروا سکتے ہیں نہ اپنے مالکانہ حقوق کی نگرانی ۔ ممبران کو ان امور سے باخبر رکھنے کیلئے 2004ء سے 2017ء تک فائونڈیشن کی کارکردگی اخبارات میں شائع ہونی چاہئے ۔ کیونکہ فائونڈیشن کے گرد مبینہ طور پر پراپرٹی ڈیلرز کے حصار اور اہلکاروں کے ساتھ ان کی ملی بھگت کی شکایات عام ہو رہی ہیں ۔ اس وقت فائونڈیشن کی کارکردگی پر کئی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ 60 سال سے زائد عمر کے مرد و خواتین جن میں صوبے بھر کے مختلف محکموں کے چھوٹے بڑے ملازمین اور پروفیسروں کی بہت بڑی تعداد ہے فائونڈیشن کے دفتر میں خوار ہو رہے ہیں۔ اپریل 2017ء کو ایم اے او کالج لاہور سے ریٹائر ہونیوالے ایک پروفیسر کے مطابق فائونڈیشن کے ایم ڈی نے اپنی صوابدید پر ان کا نام سیالکوٹ، ساہیوال اور خانیوال کی لسٹ میں داخل کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا لاہور کے ریٹائرڈ لوگوں کے لئے لاہور میں جگہ ناپید ہو چکی ہے جب ایل ڈی اے سٹی اور دیگر پرائیویٹ ہائوسنگ سکیمیں دھڑا دھڑ وجود میں آ رہی ہیں تو لاہور ڈومسائل کے درخواست گزاروں کیلئے سکیم میں گنجائش کیوں نہیں؟ وزیراعلیٰ پنجاب کو اولین فرصت میں ایسے من مانے فیصلوں کا نوٹس لینا ہوگا۔ ممکن ہو تو وہ فائونڈیشن کے امور کی چھان بین کے لئے کوئی تحقیقاتی ٹیم مقرر کریں۔ حکومت 12 سال کی آڈٹ رپورٹیں طلب کرکے فائونڈیشن کو حکم جاری کرے کہ 2017ء اور اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ،کب کیسے اور کہاں پلاٹ الاٹ کرنے بارے پالیسی واضح کی جائے۔ ملازمین کے مطابق قرعہ اندازی کا طریقہ سراسر غیر قانونی ہے۔ جن درخواست گزاروں سے پیسے ایڈوانس لے لئے گئے ہیں انہیں طے شدہ شرائط کے مطابق پلاٹ کیوں نہیں دیئے جا رہے۔ حکومت پنجاب اگر مناسب سمجھے تو فائونڈیشن زمین اور گھروں کے حصول کے لئے پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں سے بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت اپنے کام کو آگے بڑھا سکتی ہے ورنہ یہ سکیم حکومت کیلئے نیکی برباد گناہ لازم والی بات ہوگی۔