شجرکاری وقت کی اہم ضرورت

05 ستمبر 2017

ڈاکٹر محمد عرفان چودھری
شجرکاری صدقہ جاریہ ہے۔ اپنے پیاروں کے نام پر پودے لگائیں اور ان کی دیکھ بھال بھی کریں۔ ماحول دوست پودے زمین کا زیور اور آکسیجن کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ پودے پھل، پھول، پھلواڑی، عمارتی لکڑی، فرنیچر سازی کے ساتھ ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے ماحول کو صاف اور صحت افزا بنا دیتے ہیں۔ پودے ہمیں سایہ، پھل، ہریالی، کاغذ، کتابیں، فرنیچر اور گھریلو لکڑی فراہم کرتے ہیں۔ پودے روئے زمین کا حسن ہی نہیں بلکہ زمین کی ہر چیز کو فطرتی حسن و جاذبیت سے مزین کرتے ہیں۔ اگر زمین پر پودے نہ ہوتے تو ہماری یہ دنیا ایک گرد و غبار‘ اجاڑ و بیابان خطہ سے زیادہ کچھ نہ ہوتی۔ نہ یہاں ہریالی ہوتی نہ گلہائے رنگ برنگ کی کونپلیں کھلتیں۔ پودے نہ صرف ماحول کو آلودگی سے بچاتے ہیں بلکہ آکسیجن پیدا کر کے فضا کو مضر مادوں سے بھی پاک کرتے ہیں۔ پودے انسانی زندگی کے لئے قدرتی آب وہوا کا لازمی ذریعہ ہیں۔ درخت جانداروں کے لئے قدرت کا انمول تحفہ ہیں، جو نا صرف ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دور حاضر کے مصنوعی ماحول میں شجرکاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے ماحول کو خوشگوار رکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر قومی فرض کی انجام دہی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ موسم برسات کی شجرکاری مہم کے دوران صوبہ پنجاب میں ایک کروڑ بیس لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ موسم برسات میں شجرکاری کی سالانہ مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ رواں سال موسم برسات کی شجرکاری مہم میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ لگائے جانے والے پودوں کی دیکھ بھال کو بھی یقینی بنایا جائے گا اور موسمِ برسات کی شجرکاری مہم میں پودوں کی افزائش کی شرح کو زیادہ سے زیادہ ممکن بنانے کے لئے ان پودوں کو پانی اور دیگر حفاظتی اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے تاکہ قدرتی حسن میں مزید اضافہ ہو سکے۔ ملک میں ہر سال شجرکاری کی مہم چلائی جاتی ہے۔ ہر سال سرکاری سطح پر اربوں روپے کے پودے لگائے جاتے ہیں لیکن پودے لگانے کے بعد ان کی حفاظت نہ کرنے کی وجہ سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو پاتے۔
شجرکاری مہم سال میں دو بار چلائی جاتی ہے اور ہر ضلع اور ڈویژن کی سطح پر لاکھوں درخت لگانے کا دعویٰ کئے جاتے ہیں۔ شجرکاری کے لئے بہار کا آغاز اور برسات کا موسم موزوں خیال کئے جاتے ہیں چنانچہ موسم کا آغاز ہوتے ہی حکومت کی طرف سے بینرز اور اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو پودے لگا کر درخت اگانے کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ ہر دو موسموں کے آغاز میں صرف محکمہ جنگلات ہی نہیں تمام محکمے اور شعبے اس کارِ خیر میں حصہ لیتے ہیں۔ پودے اور درخت زیادہ ہوں گے تو ایک تو یہ ہمیں آکسیجن وافر مقدار میں مہیا کریں گے اور دوسرا گرمی کی شدت میں بھی کمی آئے گی۔ بدقسمتی سے درختوں کی کمی کی وجہ سے ہمارے ہاں گرمی کی شدت اور دورانئے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے‘ لینڈ سلائیڈنگ عام ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ درختوں کے نہ ہونے یا کم ہونے کے علاوہ موسمی تبدیلی ہے۔
رواں سال میں دوسری مرتبہ ہونے والی شجرکاری مہم کے دوران صوبہ بھر میں 95 لاکھ پودے لگائے جائیں گے جس کے لئے تمام نرسریوں میں پودے تیار کر لئے گئے ہیں۔ سال کے شروع میں موسم بہار کے دوران شجرکاری میں سوا کروڑ روپے سے زائد کے پودے لگائے گئے تھے تاہم سرکاری محکموں کی عدم توجہ کی بنا پر ان پودوں کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے 70 فیصد سے زائد پودے نشوونما ہی نہیں پا سکے۔ واضح رہے کہ محکمہ کی جانب سے موسم برسات کی شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز 10 اگست کو ہو چکا ہے۔ اس مہم کے دوران صوبہ بھر میں ایک کروڑ پودے لگائے جائیں گے۔ حکومت پنجاب نے اس شجرکاری مہم کو ’’گرین پنجاب‘‘ کا نام دیا ہے۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی ’’گرین پاکستان مہم‘‘ کے تحت گزشتہ چار مہینوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں دو ملین سے زائد پودے لگائے گئے۔ ’’گرین پاکستان‘‘ مہم سے ملکی معیشت‘ زراعت‘ توانائی‘ آبپاشی اور انفراسٹرکچر پر عالمی حدت کے باعث موسمیاتی تبدیلی سے مرتب ہونے والے منفی اور تباہ کن اثرات سے نمٹنے میں آسانی ہو گی۔ اس لئے شجرکاری مہم کو جاری رکھنے میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گاتاکہ ہم اپنے ماحول کی حفاظت میں کامیاب ہو سکیں۔