رحیم یارخان اور وہوا میں ذاتی رنجش پر 3 افراد قتل

05 ستمبر 2017

رحیم یارخان (کرائم رپورٹر‘ نامہ نگار) رحیم یارخان اور وہواکے نواحی میں ذاتی رنجش پر 3 افراد قتل‘ ملزم فرار۔ رحیم یار خان سے کرائم رپورٹرکے مطابق قتل کی پہلی واردات موضع اکرم آباد میں پیش آئی جہاں بھانجے عالم شاہ نے رشتے کے تنازعہ کی رنجش پر عید کی نماز کی ادائیگی کے بعد گھر واپس جانیوالے 60سالہ ماموں قابل شاہ پر جان سے مار دینے کیلئے فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں 60سالہ قابل شاہ شدید زخمی ہو گیا جسے ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ساٹھ سالہ قابل ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ جبکہ بھانجا عالم شاہ آلہ قتل سمیت موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے نعش پوسٹ مارٹم کے بعد تدفین کیلئے ورثاء کے حوالے کر دی جبکہ ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے تلاش شروع کر دی۔ اسی طرح قتل کی دوسری واردات چک 225/1-Lمیں پیش آئی جہاں جائیداد کے تنازعہ پر حقیقی بھائیوں گل حسن اور سرفراز احمد میں جھگڑا ہو گیا جس سے مشتعل ہو کر بڑے بھائی گل حسن نے بندوق کا فائر مار کر اپنے چھوٹے بھائی 23سالہ سرفراز احمد کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور خود آلہ قتل سمیت موقع سے فرار ہو گیا اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر مقتول سرفراز احمد کی نعش قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کے بعد تدفین کیلئے ورثاء کے حوالے کر دی جبکہ فرار ہونے والے قاتل بھائی گل حسن کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی۔ وہوا‘ ٹبی قیصرانی اور بزدار شمالی سے نامہ نگار کے مطابق وہوا کی نواحی بستی بلچانی کا رہائشی چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی بائیس سالہ محمد اسحاق ولد اللہ بخش بلچانی قیصرانی اپنے رشتہ دار بشیر قیصرانی کے ٹربائن پر بیٹھا ہوا تھا کہ اس کے موبائل فون پر نامعلوم افراد کے فون آئے جس پر وہ ٹربائن مالک کو کچھ دیر واپس آنے کا کہ کر چلا گیا نامعلوم ملزمان نے جائے وقوعہ عیسانی دوانی موضع رولہاڑی کے مقام پر کلاشنکوف سے فائرنگ کردی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا اسے پیٹ، گردن اور ٹانگوں میں گولیاں لگیں راہ گیروں نے وقوعہ کی اطلاع اس کے لواحقین کو دی، مقتول کی نعش گھر پہنچتے ہی گھر میں کہرام برپا ہوگیا مرحوم کا والد اللہ بخش کئی سال قبل فوت ہوگیا تھا اور وہ گھر کا واحد کفیل تھا پولیس تھانہ ریتڑا نے مقتول کے بہنوئی کی رپورٹ پر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے اور لائش پوسٹمارٹم کیلئے تحصیل ہسپتال تونسہ منتقل کردی گئی۔
تین قتل