روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا اقوام متحدہ فی الفور نوٹس لے: طاہر القادری

05 ستمبر 2017

لاہور (خصوصی نامہ نگار) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ برما میں ڈیڑھ سو سال سے زائد عرصہ سے آباد مسلمانوں کے خلاف برمی حکومت کا سفاکانہ برتائو اور انسانیت سوز سلوک قابل مذمت اور قابل گرفت ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا اقوام متحدہ، اسلامی دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فی الفور نوٹس لیں۔ انہوں نے گزشتہ روز عوامی تحریک سنٹرل کور کمیٹی کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برما میں مسلمانوں کی بد ترین نسل کشی اور انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے، بچوں، عورتوں، نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے، بچوں کو پائوں کے نیچے کچلا اور ذبح کیا جا رہا ہے‘ انہیں زندہ جلایا جا رہا ہے‘ خود اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمشن ظلم و بربریت کے بارے میں دنیا کو مطلع کر رہا ہے اس کے باوجود سخت اور فوری ایکشن میں تاخیر ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ برمی حکومت کی بربریت اور تعصب پر مبنی نسل پرستانہ رویہ مسلمہ عالمی اصولوں سے متصادم ہے۔ ان کے کھیت‘ گھر‘ محلوں کو آگ لگا دی جاتی ہے‘ اقوام متحدہ کے بینر تلے امن فورسز کو برما بھیجا جائے۔ نوبل انعام یافتہ انسانی حقوق کی علمبردار برمی خاتون رہنما آنگ سوچی برمی حکومت اور فوج کے مظالم پر خاموش کیوں ہیں؟ علاوہ ازیں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے عید الاضحیٰ کی نماز جامع المنہاج میں صبح 7 بجے ادا کی ، نماز عید کی ادائیگی کے بعد فرداً فرداً نمازیوں، عہدیداروں،کارکنوں سے عید ملے، اس موقع پر ڈاکٹر حسن محی الدین، ڈاکٹر حسین محی الدین، خرم نواز گنڈاپور، جی ایم ملک، نوراللہ صدیقی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کامیاب زندگی قربانی کے تصور سے جنم لیتی ہے ،ہر ایک شخص کو اپنے طرز عمل میں قربانی کے جذبے کو داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ قوم کو اس موقع پر صمیم قلب کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں ، یہ دن سیدنا ابراہیم ؑ کی طرف سے قربانی کے عظیم اور بے مثل جذبہ کی یاد دلاتا ہے۔ قربانی کے اس پیغام پر پوری امت مسلمہ کے ہر فرد کو عمل پیرا ہونا چاہئے۔
طاہر القادری