برکس کا داعش ‘ القاعدہ اور طالبان کی بڑھتی کارروائیوں پر اظہار تشویش

05 ستمبر 2017

ژیان من+ بیجنگ (نوائے وقت رپورٹ) پانچ ملکوں کی تنظیم برکس کے سربراہ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ برکس نے افغانستان اور خطے میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے۔ برکس کے اجلاس میں داعش، القاعدہ اور طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر اظہار تشویش کیا گیا ہے۔ برکس رہنما نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد حملوں میں شہریوں کی اموات کی مذمت کرتے ہیں۔ افغانستان میں امن اور قومی مفاہمت کے عمل میں افغان عوام کے ساتھ ہیں۔ افغانستان میں تشدد فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کیخلاف آپریشن میں افغان فورسز کی حمایت کرتے ہیں۔ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔ خطے میں انتہاپسند اور شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں پر تشویش ہے۔ بھارتی ٹی وی این ٹی ٹی وی نے پراپیگنڈا کیا ہے کہ کانفرنس میں پہلی بار پاکستان میں موجود تنظیموں لشکر طیبہ‘ جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک کا نام لیکر انکی مذمت کی گئی۔ دوسری طرف چین نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے انسداد کی کوششوں میں صف اوّل کے ممالک میں شامل ہے، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت سے جانوں کا نذرانہ دیا ہے اور بہت سی قربانیاں دی ہیں اورعالمی برادری کو پاکستان کی ان قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہئے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے انسداد کی کوششوں میں صف اول کے ممالک میں شامل ہے، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت سے جانوں کا نذرانہ دیا ہے اور بہت سی قربانیاں دی ہیں اورعالمی برادری کو پاکستان کی ان قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چین دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریگا کیونکہ یہ تمام فریقوں کے مفاد میں ہے۔ دوسری طرف وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کردار ادا کرتا رہیگا۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے بیان سے متعلق میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے اور ہم ملک میں امن واستحکام چاہتے ہیں۔ پاکستان ہمسایہ ملک میں امن کے قیام کیلئے تمام ضروری اقدامات کریگا۔ ہم پہلے ہی دوطرفہ، سہ طرفہ اور کئی پہلوؤں سے افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور رابطے میں ہیں اور ان طریقوں کو بھرپور انداز میں استعمال میں لانا چاہئے‘ دونوں جانب سے حال ہی میں ہونے والے رابطوں میں سیاسی، عسکری اور خفیہ رابطوں کے حوالے سے تمام تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے۔ سیالکوٹ میں عید کی نماز کی ادائیگی کیلئے میڈیا سے گفتگو میں عید مبارک کہنے کے بعد خواجہ آصف نے مزید بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ عید منانی ضروری ہے۔ ایم پی اے رانا لیاقت علی کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد سے گفتگو میں خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کشمیر ی عوام جذبہ آزادی سے سرشار ہو کر جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں‘ بھارت کی قابض فوج جدید ترین اسلحہ کے استعمال کے باوجود کشمیری عوام کے جوش وجذبے کو سرد نہیں کرسکی۔ کشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار ہے اور بھارت کو جلد ہار مان کر مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی گولیاں اور اسلحہ ختم ہوجائیگا مگر کشمیری عوام کا جذبہ حریت سرد نہیں ہو سکے گا۔ افغانستان اپنی سرزمین پر قائم بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے مراکز پر پابندی لگائے۔ خواجہ محمد آصف نے کہاکہ امریکہ پاکستان کی شمولیت کے بغیر افغان پالیسی کو کامیاب نہیں بناسکتا۔
افغانستان/ برکس