مقبوضہ کشمیر: فرضی جھڑپ‘ مزید2 نوجوان شہید‘ مجاہدین کے حملہ میں بھارتی فوجی ہلاک

05 ستمبر 2017

سرینگر (آن لائن+اے این این )مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع بارہمولہ میں دو اور کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیاہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فوجیوںنے نوجوانوں کو سوپور کے علاقے شنکر گنڈ برتھ میں تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا ۔ تاہم بھارتی فوج نے دعویٰ کی ہے کہ نوجوانوںکو ایک جھڑپ میں شہید کیاگیا ۔ اس سے قبل فوجیوںنے گزشتہ روز سوپور میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی شروع کی اور علاقے میں ایک گھر کو تباہ کردیا۔ادھر کٹھ پتلی انتظامیہ نے بارہمولہ ،کپواڑہ اور بانڈی پورہ کے اضلاع میں تمام تعلیمی ادارے بند اور انٹرنیٹ اور موبائیل فون سروسز معطل کر دی ہیں۔اے این این کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے لشکر طیبہ کے اہم کمانڈر اشفاق احمد پڈر کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اشفاق احمد کو عید کے روز ضلع کولگام کے گائوں تانترے پورہ میں مقابلے کے دوران شہید کیا گیا۔ وہ بھارت فوج کے لیفٹیننٹ عمر فیاض کے قتل میں ملوث تھا۔ ادھر سرینگر میں پانتہ چھوک زیورن روڈ پر مجاہدین نے قابض فوج کی ایک گاڑی کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے ایک اہلکار کرشن لعل دم توڑ بیٹھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آئی آر پی 9بٹالین سے وابستہ اہلکار بمنہ سرینگر سے زیون آرمڈ پولیس ہیڈ کوارٹر کی طرف گاڑی میں واپس جا رہے تھے ۔ دریں اثناء مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں دیور لولاب میں دور افتادہ پہاڑی بہک میںفوج نے 2افراد کو گرفتار کرنے کے بعد ایک کو مبینہ طور لاپتہ کردیا جبکہ ایک کو نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیا گیا جس کی حالت صورہ ہسپتال میں نازک قرار دی جارہی ہے۔ لاپتہ کیا گیا نوجوان ریاستی کابینہ وزیر برائے دہی ترقی و قانون عبدالحق خان کا پھوپھی زاد بھائی ہے۔حراستی گمشدگی کے اس واقعہ پر دیور لولاب اور اسکے ملحقہ علاقوں میں جمعہ کو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور دھرنا دیا گیا۔آخری اطلاعات تک لوگوں کا فوجی کیمپ کے باہر دھرنا تیسرے روز بھی جاری تھا جبکہ بھارتی فوج منظور خان کی گرفتاری سے انکار کر رہی ہے۔ادھر سرینگر میں بھی نوجوان کی گمشدگی کیخلاف احتجاج کیا گیا ہے ۔نوجوانوں کی ٹولیاں جامع مسجد کے باہر جمع ہوئیں اور اسلام و آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کئے۔اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شیلنگ کی جبکہ احتجاجی مظاہرین نے سنگبازی کی۔لبریشن فرنٹ کے چیئر مین محمد یاسین ملک کو بشیر کشمیری کے ہمراہ گرفتار کرنے کے فوراً بعد سرینگر سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے لبریشن فرنٹ دفتر سے انہیں حراست میں لیا۔ فرنٹ چیئر مین نے کہا کہ آج نئے قسم کے ظالم حکمرانوں نے لوگوں کو عین عید اور اس قسم کے دوسرے تہوار پر گرفتار کر کے جیلوں اور اذیب گاہکوں کو بھرنے کا ظالمانہ وطیرہ اپنا رکھا ہے۔ ادھر سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے 5دسمبر 2016کو کی گئی تقریر کے خلاف جموں کے ایک سماجی کارکن نے عدالت میں بغاوت کے مقدمہ کے لئے درخواست دائر کر دی ہے۔ سیکشن کھجوریہ نامی اس شخص نے دفعہ 124-A RPCکے تحت اپنے وکیل شیخ شکیل احمد کے ذریعہ عدالت میں عرضی دائر کی ہے جس پر جج نے نوٹس جاری کرتے ہوئے رجسٹری کو فوری طور پر کیس کو لٹ کرنے کیلئے کہا ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس (ع) گروپ کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے امت مسلمہ میں جاری خلفشار کو باعث تشویش قرار دیتے ہوے کہا ہے کہ امت کو درپیش مجودہ مشکلات سے نکالنے کے لئے پاکستان ،ایران اور سعودی عرب کا اتحاد ناگزیر ہے ۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آج مسلم دنیا کے کئی ممالک بشمول عراق ،شام ،فلسطین، بحرین ،افغانستان اور کشمیر میں مار دھاڑ ،قتل وغارت گری اور ظلم و ستم کا دور دورہ ہے ۔ عالم اسلام میں باہمی اتحا ویکجہتی کا فقدان ہے ۔ اور مسلمان انتشار کا شکار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں عالم اسلام کے ذمہ دار ممالک خصوصاََ پاکستان ،ایران اور سعودی عرب کے رہنما آپس میں اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوے امت کو درپیش مشکلات سے نکالنے کے لئے اپنا مثبت کردار اداکریں ۔
مقبوضہ کشمیر