خواجہ اظہار پر حملہ قابل مذمت ‘ سندھ حکومت بری الذمہ نہیں ہو سکتی‘ تحفظ فراہم کیا جائے: فاروق ستار

05 ستمبر 2017

کراچی(خصوصی رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے کے بعد خواجہ اظہار، عامر خان، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، اراکین رابطہ کمیٹی ، حق پرست اراکین اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حملہ میں ایک پو لیس اہلکار معین اور ہمارے کارکن کامران بھائی کے بیٹے ارسل کی شہادت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس ذمہ داری سے بری الزما نہیں ہوسکتی۔ یہ سراسر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا اللہ نہ کرے ، اللہ نہ کرے آج اظہار الحسن بھائی کو کچھ ہوجاتا میں جب یہ کہتا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کامران بھائی کا بیٹا اور پولیس گارڈ معین کی جانیں قیمتی نہیں ہے، انکی جانیں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں لیکن ظاہر ہے اگر لیڈر آف دی اپوزیشن کو کچھ ہوجاتا تو پھر آپ یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس شہر میں اس وقت کیا صورتحال ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس شہر کو جس طرح لاوارث بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے اور جس کی وجہ سے ہم حالیہ بارشوں میں چاروں طرف تباہیاں اور بربادیاں دیکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ حکومت کو کیسے جھنجھوڑا جائے اور کیسے انہیں ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی جائے یہ مسئلہ ہے۔ ہم سب کو مل کر یہ سوچنا ہے ، ہم سب کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ آپ کی جانوں کو خطرہ ہے لیکن ہماری جانوں کو خطرہ ہونے کے باوجود ہمارے گھروں پر سیکیورٹی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کریں گے لیکن کہیں نہ کہیں تو اتریں گے، عید گاہ میں نماز پڑھیں گے، کہیں بارشوں میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے ایسے کوئی ناخوشگوار واقع رونما ہوسکتا ہے۔ تو ان سب باتوں کے مکمل تدارک کیلئے حکومت کو ہمارے ساتھ مکمل تعاون اور رابطہ قائم کرنا ہوگا۔جو حملہ آور اور قاتل ہیں انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہئے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہمیں جہاں سے بھی دھمکیاں مل رہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور لندن سے بھی جو ویڈیو اور آڈیو پیغامات آئے ہیں وہ بھی کسی ست ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ روائتی طور پر بھی جو ہماری لبرل پالیسی ہے اس کی وجہ سے مذہبی انتہاء پسند اور دہشت گرد ہیں انکی طرف سے بھی روائتی طور پر ہمیں خطرات ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ یہاں پر یہ ساری باتیں رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم تفتیش کا ہر طرح کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن احتیاط علاج سے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایم کیوایم پاکستان کے رہنماؤں نے سے نماز عید ادا کی کے ایم سی گراؤنڈ پی آئی بی میں وہاں بھی کوئی خاطر خواہ سیکیورٹی کے انتظامات نہیں تھے اور وہ بھی سیکیورٹی رسک تھا۔ اگر کوئی واقع ہوجاتا ہے اور ہمارے کسی رہنما کے خلاف کوئی سازش کامیاب ہوجاتی ہے تو ہمارے کارکنان میں ویسے ہی کئی معاملات سے لیکر غم و غصہ ہے ، اشتعال ہے اور پھر اس شہر میں کیا صورتحال ہوگی، سندھ کے شہروں میں کیا ہوگا اور یہ امن تباہ کرنے کی بھی سازش ہے جس کیلئے ہم سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم اپنی جگہ پر کھڑے ہیں، موجود ہیں اور ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور ہم نے جو بیڑا اٹھایا ہے ، جس مشن پر ہم گامزن ہیں ہم اسی پر قائم رہیں گے۔ انہوںنے مزید کہا کہ ہم نے تشدد کو ہر حال میں ختم کرنا ہے اور ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اس مخصوص تشدد کہ مہاجر قاتل ، مہاجر مقتول اس سیاست کو اور اس کلچر کو بھی ختم کرنا ہے اور ہم نے اس کا بھی بیڑا اٹھایا ہے۔ پریس کانفرنس کے آخر میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور تمام سیاسی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وہ آئے اور ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم پولیس گارڈ معین اور کامران بھائی کے بیٹے ارسل کی شہادت پر شدید رنجیدہ ہیں اور انکے اہل خانہ سے دلی تعزیت و ہمدری کا اظہار کرتے ہیں۔
فاروق ستار