خواجہ اظہار پر حملے کا حساب لیں گے‘ دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کرنا ہے: وزیر اعلیٰ سندھ

05 ستمبر 2017

کراچی حیدر آباد( وقائع نگار ، نا مہ نگار )وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد واپس کراچی پہنچتے ہی قائد حزب اختلاف خواجہ اظہارالحسن پر قاتلانہ حملے اور خیریت معلوم کرنے انکی رہائش گاہ گئے ۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ ایم پی اے سعید غنی، وقار مہدی، راشد ربانی، سہیل راجپوت اور ایڈیشنل آئی جی سندھ مشتاق مہر موجود تھے‘ خواجہ اظہارالحسن نے وزیراعلیٰ کو حملے سے متعلق آگا ہ کیا ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں اس حملے کا حساب ضرور لوں گا۔ بعدازاں ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر نے تحقیقات کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ اور موجود دیگر کو آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی خواجہ اظہارالحسن کے گھر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ اظہار الحسن پر حملہ قابل افسوس ہے اور سب کو مل کر دہشت گردی کے مسئلے کا حل نکالنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم رہنماؤں کو سب سے زیادہ سیکورٹی دی ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو مزید سیکیورٹی بھی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام کررہے ہیں۔ پولیس اہلکار اور بچے کا کیا قصور تھا۔ عید پر کوئی بھی امید نہیں کرتا کہ نماز پڑھ کر آوں گا تو کوئی حملہ کرے گا۔ میں خود بغیر سیکیورٹی کے نماز پڑھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ اظہار الحسن پر حملے کا منصوبہ اس شہر اور صوبے میں نہیں بنا ہوگا، انصار الشریعہ کراچی میں پلان نہیں کر رہی تاہم آپریٹ ضرور کررہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت سے کچھ تنظیموں کو واچ لسٹ پر ڈالنے کا کہا تھا لیکن بد قسمتی سے ان تنظیموں کو واچ لسٹ میں نہیں ڈالا گیا تاہم ہم نے وفاق کو کہا ہے کہ انصار الشریعہ کو بھی واچ لسٹ پر ڈالیں۔ خواجہ اظہار پر حملہ کرنے والے مبینہ دہشت گرد کے کراچی یونیورسٹی کے طالبعلم ہونے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جامعات کو بھی دیکھنا ہوگا کہ یہ دہشت گردوں کی افزائش گاہ تو نہیں بن گئیں۔انہوں نے کہا کہ بغیر منصوبہ بندی کے شہر بڑھ رہا ہے کراچی جیسے شہر میں اور اِردگرد کون رہ رہا ہے پتہ نہیں چلتا۔ وزیراعلیٰ شہید ہونے والے بچے کے گھر پہنچے، جہاں بچے کے والد ان سے گلے ملتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ وزیراعلیٰ نے والدین کو یقین دلایا کہ دہشت گردوں کو ہر صورت بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گردی کا نیا طریقہ ہے۔ مساجدپر حملہ کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے اجتماعی مہم چلانے کی ضرورت ہے علا وہ ازیں سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ کراچی ڈوب جانے کے اطلاعات صحیح نہیں اور کراچی میں 150 ملی میٹربارش ر یکارڈ کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل پر پہلے دو تین دن بارش کاپانی کھڑا رہتا تھا جبکہ اس مرتبہ پہلے ہی دن پانی کی نکاسی کی گئی ہے باقی چندنشیبی علاقوں میں پانی جمع ہے جس کی بہت جلد نکاسی کردی جائیگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فریضہ حج کے بعد اپنے گائوں واہڑ میں اپنے والد کے مزار پر فاتحہ خوانی کرنے کے بعدمیڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میںحکومت سندھ کی طرف سے وفاقی حکومت کو مدارس کی ایک فہرست دی گئی تھی جو اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جس کاوفاق کی طرف سے ابھی تک کو ئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا ۔انہو ںنے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کوالطاف حسین سے خطرہ ہے اور پولیس کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کو سیکیورٹی مہیا کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کا مقابلہ کررہے ہیں اور پولیس اور رینجرز کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں جبکہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کیلئے ہمیں اس مائینڈ سیٹ کو ختم کرنا پڑیگا ۔محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کیس کے فیصلے پرتبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ بی بی شہید کا بیان رکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے پرویزمشرف کو نامزد کیا تھا اور پرویزمشرف نے ہی جائے وقوعہ پر شواہد کو مٹانے کا حکم دیا تھا ۔ عدلیہ نے پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت دی ہے اور عدلیہ ہی اسے واپس لائے گی ۔پی پی پی قیادت عدلیہ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہے اور اپیل کے بارے میں قیادت فیصلہ کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو اعلیٰ عدلیہ نے نااہل قرار دیا ہے اور اب ان کو رِویو پٹیشن کے فیصلے آنے تک انتظار کرنا چاہئے‘ نوازشریف کو عدلیہ مخالف تقاریر نہیں کرنی چاہئے‘ پی پی پی قیادت پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے تھے اور آصف علی زرداری کو عدالت نے باعزت بری کردیا ہے کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے اور ان مقدمات کو ختم ہی ہونا تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ