کراچی‘ متحدہ رہنما خواجہ اظہار قاتلانہ حملے میں محفوظ‘ محافظ اور کمسن بچہ جاں بحق‘ حملہ آور ہلاک

05 ستمبر 2017

کراچی(تنویر بیگ کرائم رپورٹر) عید الاضحی پرکراچی میں نامعلوم تنظیموں کے دہشت گردوں کی یلغار‘ بفرزون میں نماز عید کی ادائیگی کے بعد سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن دہشت گردوں کے حملے میں بچ گئے۔ محافظ اور پڑوسی بچہ جاں بحق جوابی کارروائی میں پولیس یونیفارم میں ملبوس ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔ عید کے تیسرے دن کنیز فاطمہ سوسائٹی میں مارے جانے چھاپے کے دوران بھی دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا جبکہ کالعدم تنظیم انصار الشریعہ کا کمانڈر زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے علاوہ سچل کے علاقے کوئٹہ ٹائون میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں کالعدم تحریک طالبان سوات اور داعش سے تعلق رکھنے والے چار خطرناک دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر حملے کے بعد پولیس کے تابڑ توڑ چھاپوں کے دوران کالعدم تنظیم انصار الشریعہ کے ایک کمانڈر سمیت ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔ بفرزون میں خواجہ اظہار الحسن پر ہفتے کی صبح اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ مسجد محمودیہ میں نماز عید کی ادائیگی کے بعد لوگوں سے عید مل رہے تھے ان پر دو موٹر سائیکلوں پر سوار تین ملزمان جنہوں نے پولیس یونیفارم اور ہیلمٹ پہن رکھے تھے نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ان کا ایک محافظ پولیس کانسٹیبل محمد معین خان ولد اسلم خان اور پڑوسی بچہ12 سالہ ارسل ولد کامران جاں بحق جبکہ ارسل کے والد کامران کے علاوہ نواز‘ آصف‘ عبد الوارث اور شکیل زخمی ہوگئے جبکہ فرار ہوتے ہوئے ملزمان پر تیموریہ تھانے کی پولیس موبائل میں سوار اہلکاروںنے فائرنگ کی تو ایک حملہ آور زخمی ہوکر موٹر سائیکل سے گرا جسے لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ ہلاک ہوگیا جس کی شناخت بعد میں حسان ولد اسرار کے نام سے ہوئی جو نارتھ کراچی کا رہنے والا اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہونے کے علاوہ انجینئرنگ یونیورسٹی کا پروفیسر تھا اس کے قبضے سے جو نائن ایم ایم پستول برآمد ہوا اس کی فارنزک رپورٹ سے پتہ چلاکہ اسی پستول سے عزیز آباد میں ڈی ایس پی ٹریفک کو نشانہ بنایا گیا اور یہی پستول سائٹ میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں استعمال ہوا تھا۔تفتیش کے دوران پولیس کو نارتھ کراچی میں حسان اسرار کے گھر سے اہم شواہد ملے جن کی روشنی میں پولیس نے عید الاضحی کے تیسرے روز علی الصباح سرجانی کے علاقے کنیز فاطمہ سوسائٹی میں کالعدم تنظیم انصار الشریعہ کے کمانڈر عبدالکریم سروش صدیقی کی گرفتاری کے لئے چھاپہ ماراتو وہاں سے پولیس پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل اعجاز علی شہید اور دوسرا کانسٹیبل خالد زخمی ہوگیا جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے زخمی ہونے کے باوجود ملزم عبدالکریم سروش صدیقی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جس کے بعد پولیس نے اس کے باپ سجاد احمد صدیقی کو حراست میں لے لیا اور اس کی نشاندہی پر ڈیفنس میں خیابان بادیان پر چھاپہ مارکر انصار الشریعہ کے ترجمان اور کمانڈر کو گرفتار کرنے کے علاوہ سہراب گوٹھ میں واقع آغا ہوٹل کے مالک کو بھی گرفتار کرلیا۔ اس کے علاوہ نارتھ کراچی میں شمائل اپارٹمنٹ سے بھی تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ ایس ایس پی ملیر رائو انوار کے مطابق کنیز فاطمہ سوسائٹی میں چھاپے کے دوران فرار ہونے والی انصار الشریعہ کا کمانڈر عبد الکریم سروش صدیقی جامعہ کراچی میں اپلائڈ فزکس کا طالبعلم تھا ابھی ایس ایس پی ملیر رائو انوار ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر حملہ کیس کی تفتیش کو آگے بڑھانے میں مصروف تھے کہ انہیں سچل کے علاقے کوئٹہ ٹائون میں خطرناک دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس پر وہ پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ وہاں پہنچے اور مقابلے کے بعد چار دہشت گردوں کو مارا گرایا جن کا تعلق ایس ایس پی ملیر رائو انوار کے مطابق کالعدم تحریک طالبان سوات سے تھا اور جو د اعش کے سا تھ مل کر کارورائیاں کررہے تھے ایس ایس پی نے بتایا کہ ہلاک دہشتگردوں میں سے ایک کی شناخت خورشید کے نام سے ہوئی ہے جو انتہائی مطلوب دہشت گرد ملا فضل اللہ کا کزن اورسوات میں ملالہ یوسف زئی پر حملے کے علاہ پاک فوج اور پولیس کے جوانوں پر حملوں میں بھی ملوث تھا ایس ایس پی کے مطابق چاروں ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ قائم مقام گورنر سندھ آغا سراج درانی نے خواجہ اظہار الحسن پر حملے کا فوری سخت نوٹس لیا اور آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی۔ سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال اور پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد سعید بھی کراچی میں خواجہ اظہار الحسن کی رہائش گاہ پر گئے اور عید کی نماز کے بعد اُن پر حملے کے بارے میں پوچھا۔ڈی جی رینجرز نے یقین دلایا کہ اس گھنائونی کارروائی کے پس پردہ ملزموں کو جلد گرفتار کیا جائے گاجبکہ وفاقی وزیر د اخلہ احسن اقبا ل نے بھی ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کو ٹیلیفون کیا اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ واقعے میںملوث ملزموں کوجلد گرفتار کیاجائیگا۔ ادھرصدرممنون حسین اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حملے کی سخت مذمت کی۔صدرممنون حسین نے کہاکہ دہشت گردوں کو عوام کے جان ومال سے کھیلنے نہیں دیاجائے گا۔ادھر خواجہ اظہار پر حملے کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی، انتہائی واضح ویڈیو میں پولیس کی وردی میں ملبوس حملہ آور اور سفید لباس پہنے ساتھی کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ویڈیو میں فائرنگ کرنے والا حملہ آور حسان اسرار مشتعل افراد کے تشدد سے ہلاک ہوگیا تھا، ہلاک دہشت گرد پی ایچ ڈی ڈاکٹر اورانجینئرنگ یونیورسٹی میں پروفیسر تھا۔ویڈیو میں دو حملہ آوروں کو فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے، ایک سادہ لباس اور دوسرا پولیس کی وردی میں ملبوس ہے، دونوں حملہ آوروں نے ہیلمٹ اور چہرے پر ماسک بھی پہن رکھے ہیں۔ممکنہ طور پر پولیس کی وردی میں ملبوس ہلاک ہونے والا حملہ آور حسان ہے، جسے عوام نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا، ویڈیو میں خواجہ اظہار حملے کے بعد بھاگتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ذرائع کے مطابق مارا گیا دہشت گرد حسان اسرار پی ایچ ڈی ڈاکٹراور شہر کی بڑی انجینئرنگ یونیورسٹی میں پروفیسر بھی تھا ۔ ادھر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے کہ خواجہ اظہار پر حملے سے متعلق تحقیقات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے، حملے میں کونسا گروپ ملوث ہے اس قسم کی قیاس آرائیوں سے تفتیش متاثر ہوتی ہے۔دریں اثناء گڑھی خدابخش میں نماز عید کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ پولیس اور رینجرز نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں کراچی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے ۔
خواجہ اظہار/حملہ