خطے میں امن واستحکام

05 ستمبر 2017

امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں جو بھارت اور افغانستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔امریکی صدر کے الزامات کے بعد جمہوریہ چین نے پاکستان کے دفاع میں کہا کہ عالمی برادری کو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تسلیم کرنا چاہیے ، پاکستان ہر وقت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تیاررہا ہے اور اس حوالے سے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔ اس سلسلے میں مستقبل میں بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔پاکستان امریکی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات اورخطے میں امن وخیر کے لئے ہمیشہ خواہاںرہا ہے۔تاریخی طور پر امریکا سمیت تمام دنیا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بے پناہ جانی اور مالی قربانیوں کا اعتراف کیا ہے ،تاہم دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کے نتیجے میں ملکی سیکورٹی اور اقتصادی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔پاکستان میں داعش کی کوئی منظم موجودگی نہیں جبکہ امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے افغانستان میں داعش کی موجودگی کی تصدیق کی تھی اور ماسکو کانفرنس کے شرکاءنے بھی اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ماسکو کانفرنس میں افغانستان بالخصوص خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے معاملات زیر بحث لائے گئے تھے۔
ادھریہ بات بھارت کو ہضم نہیں ہوتی کہ پاکستان کشمیریوں کی حمایت کیوں کرتا ہے ، حالانکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔بھارتی مظالم اورکشمیریوں کا قتل عام ان کی حق خود ارادیت کی جائز جدوجہد کوکوئی روک نہیں سکتا۔پاکستان کشمیریوں کی سیاسی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، مظلوم کشمیریوںپر بھارت کے ظلم وستم انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھارت اسی بناءپر بھی پاکستان کے خلاف ہر محاذ پر اترآیا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی حمایت کیوں کرتا ہے ، اسی بناءپر وہ افغانستان اور امریکہ کے حوالے سے بھی سرگرم دکھائی دیتا ہے۔حالیہ امریکی صدر کے پاکستان پر الزامات کہ وہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں حالانکہ پاکستان نے دہشت گردی کے حوالے سے جو قربانیاں دی ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ پاکستان نے اس حوالے سے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔پاکستانی شہری خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔ پاکستان اب بھی دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہے ۔ اور ان کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات ، خودکش حملے ، بم دھماکوں سے ملک میںحالات خرا ب کرنے کے درپے ہیں ۔اس سلسلے میں پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ دہشت گردوں کے پیچھے پڑوسی ممالک کا ہاتھ ہے۔ تاہم پاکستان ہمسایہ ممالک خاص کر افغانستان میں امن کا خواہاں ہے ۔بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکی صدر کاپاکستان میں دہشت گردی کی پناہ گاہوں کا بیان اسے دبا¶ میں لانے کے لئے ہے، تاہم یہ بیانات ناقابل برداشت ہیں۔اس طرح کے اقدامات سے لگتا ہے کہ امریکہ اب تک پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ماننے کو تیار نہیں ، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ، خطے میں امن واستحکام کے حوالے سے امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر حالات میں بہتری لا سکتا ہے۔ پاکستان کے تعاون کے بغیر بہترین تعلقات اور پرامن افغانستان ناگزیر ہیں۔ لہذا پرامن افغانستان کے لئے پاکستان اور امریکہ کو مل کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ خطے میں امن واستحکام کی صورتحال اور پائیدار امن کے لئے سب کو آپس میں مل کر تعاون کرنا ہو گا اور اسی طرح امن کی آشاقائم ہو سکتی ہے۔ ادھر قومی سلامتی کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کا سامناکے لئے وزارت خارجہ ایک مہم کے ذریعے پاکستان کے موقف کو واضح کرنے کے لئے وفود چین، روس اور دیگر ممالک کے دورے کریں گے ، اسی طرح پاکستان کے موقف کو بہتر انداز میں پیش کیا جائے گا۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...