پاک امریکہ تعلقات: نو مور

05 ستمبر 2017

امریکی توسیع پسندانہ عزائم عرصہ دراز سے دنیا بھر کے کمزور ممالک و اقوام کے لیے سوہان روح ثابت ہو رہے ہیں ۔پرل ہاربر کا واقعہ ہو یا ویتنام ، کمبوڈیا، عراق ، افغانستان جیسے ممالک امریکی درندگی کا شکار ہو چکے ہیں عراق و افغانستان کے ساتھ ساتھ ہمار ے شمالی علاقوں وزیرستان وغیرہ میں آئے دن ڈرون حملوں میں معصوم و بے گنا بوڑھوں، خواتین اور بالخصوص ہزاروں بچے امریکی قیادت میں نیٹو ایساف افواج کی تہذیبی عظمتوں کا اظہار ہو تا رہا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کی حکمران اشراقیہ اور عوامی مزاج میں ہمیشہ تفاوت رہا ہے۔ اکثر حکمرانوں نے قومی جذبات کے برعکس ذاتی و گروہی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ایسے فیصلے کئے کہ جو ملکی و ملی سلامتی کے لیے خطر ناک اور قومی عزت ووقار کے منافی ہیں۔ ہمارے سابق کمانڈو صدر پرویز مشرف نے ایک دھمکی پر ہتھیار ڈال دئیے اور افغانستان پر حملے کے لیے امریکا اور اسکے اتحادیوں کو ہر سہولت فراہم کی اور ملکی سلامتی کے لیے خطرناک مسائل پیدا کر دئیے ۔ تمام سنجیدہ فکر محب وطن دانشور شروع دن سے یہ کہتے چلے آرہے تھے کہ ان اقدامات سے بالآخر پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین مسائل کھڑے ہونگے تاہم گذشتہ اور موجودہ حکومت نے اس جانب توجہ نہ دی۔ یہاں تک کہ امریکی افواج نے ہماری سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایبٹ آباد آپریشن کے نام پر کھلی غنڈہ گردی کا مظاہرہ بھی کیا۔ جس کے نتیجے میں ملک بھر میں شدید اضطراب پھیلا۔ عوام الناس میں امریکا کے خلاف شدید اشتعال پیدا ہوا۔ ابھی اس واقعے کی گرد بھی نہیں بیٹھنے پائی تھی کہ سلالہ چیک پوسٹ پر ہمارے فوجی جوان امریکی جارحیت کا نشانہ بنا دئیے گئے تھے۔ رد عمل میں تمام حلقوں میں امریکا کے خلاف نفرت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ ملک بھر میں حکومت پر دباﺅ بڑھ گیا کہ وہ نیٹو سپلائی مکمل طور پر بند کرے جو ہمارے ہی خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ پاک افواج میں اس واقعہ نے بہت گہرے اثرات مرتب کئے۔ امریکا اپنے مخصوص مفادات کے تخت پاکستان کے مقابل انڈیا کو سپورٹ کر رہا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ انڈیا کو چین کے خلاف کھڑا کرے اس میں کسی حدتک کامیاب ہوگیا جبکہ چین پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے ۔ اسی طرح امریکہ پاکستان کو بھی زیرنگیں رکھ کر چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے جبکہ کوئی بھی پاکستانی حکومت دوست ملک چین سے تعلقات نہیں بگاڑ سکتی۔امریکی صدر ٹرمپ کی گفتگوسے پاکستان آئیندہ کا پروگرام طے کرنے جارہا ہے اب ہمیں امریکہ سے دوری اختیار کرلینی چاہئے۔ وزیر داخلہ جواب دے چکے ہیں دوسری جانب پاک امریکہ بات چیت کے بعد ڈرون حملے اور پاکستان میں طالبان سے مذاکرات متاثر کرنے کی کوشش تاکہ پاکستان مسلسل کمزور ہو تا رہے۔جبکہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی جس میں تمام پارلیمانی پارٹیاں موجود ہیں۔ نئے سرے سے پاک امریکی تعلقات استوار کرنے کی سفارشات بھی ہے۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوںکو معلوم ہونا چاہئے کہ اس قسم کے حربوں سے خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے اور کسی دباﺅ کو قبول نہیں کرے گا۔ یہ محض دباﺅ ڈالنے کا حربہ ہے ہم ان سطور کے ذریعے امریکہ بھارت اور انکے اتحادیوں کو مشورہ دیں گے کہ وہ اس قسم کی حرکتوں کی بجائے علاقائی و بین الا قوامی امن و امان کے قیام میں اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کریں۔ بھارت کشمیریوں کو حق خو د ارادیت دے جسکا اس نے خود وعدہ کر رکھا ہے اور امریکہ افغانستان ، عراق اور تمام مسلم ممالک سے اپنی افواج کا انخلا ممکن بنائے اور انہیں بھی جینے کا حق دیا جائے۔حکومت پاکستان کل جماعتی فیصلے پر جلد سے جلد عمل شروع کرے اور امریکہ پر واضح کر دے کہ آئندہ ایسی کوئی بات کی گئی توجواب دیا جائے گا ایک بار پھر نیٹو سپلائی بند کرنے کے لیے دباﺅ سامنے آگیا ہے۔ پاکستان آج پھر ایک دورا ہے پر کھڑا ہے ایک طرف امریکہ ہے جس کا ساتھ دینے کا ثمر اُسکی کا سہ لیسی اور غلامی ہے ، اندرونی انتشار اور خانہ جنگی کی طرف بڑھتا ہوا مستقبل ہے دوسری طرف پاکستان کے لیے چین اور رو س کی طرف دوستی مستحکم کرنے کی راہیں ہیں امریکہ کی وجہ سے ایران سے بھی دو طرفہ تعلقات مشکل سے دو چارہوئے۔ ان حالات میں وزارتِ خارجہ کے افسران اور وزیر داخلہ احسن اقبال کے بیانات بھی حوصلہ افزاءہیں امریکہ نے پاکستانی حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دروازے حکیم اﷲ محسود کو ڈرون حملے کا نشانہ بنا کر مستقبل میں مکمل بند کرانے کی جس سازش کو عملی جامہ پہنایا تھا اُس سے عوام و خواص کے ہر طبقے میں امریکہ مخالف جذبات بڑھے تھے، عمران خان نے ہر صورت میں نیٹو سپلائی روکنے کااعلان کیاتھا، خواہ اس کے لیے انہیں صوبہ خیبر پختونخواہ میں اپنی حکومت ہی کی قربانی دینی پڑے جماعت اسلامی کے سربراہ سید منور حسن اور مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا تھا کہ عمران خان نیٹو سپلائی بند کرائیں ہم ساتھ دیں گے۔ بہر کیف یہ پھر آنے والا ایک اہم موقع اور موڑ ہے کہ ہم عوامی سیاسی اور فوجی دباﺅ کے ساتھ ساتھ سفارتی ذرائع استعمال کر کے امریکہ سے جان چھڑانے کی کوشش کریں۔

چوروں کو مور

پچھلے دنوں سابق صدر آصف زرداری صاحب نے لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ...