پاکستان کی سلامتی مزید تعاون کی متحمل نہیں

05 ستمبر 2017

نا ئن الیون کے فوری بعد ستمبر 2001میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو جو نقصانات برداشت کرنا پڑیں گے اُن کا حجم پا کستان کو مغرب سے ملنے والی مدد سے کہیں گناہ زیادہ ہوگا اور آنے والے برسوں میں امریکا کی پالیسیاں تبدیل ہو جائیں گی پاکستان کے ساتھ ساتھ کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا اور معیشت کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنا حکومت کی بساط سے باہر ہوجائے گا نائن الیون کے بعد پاکستان نے روز اول سے ہی امریکا کی پالسیوں کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑکر بہت بڑی غلطی کی ہے پاکستان کے بڑے بڑے ماہر معاشیات قانونی ماہرین تجزیہ نگاروں نے اپنی اپنی تحریوں میں اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ امریکی حکمت عملی کے تحت یہ دہشت گردی کی جنگ نہ لڑی جائے اس بات کا بھی اظہار کیا گیا تھا کہ امریکی افواج پاکستان کی سر زمین میں بھی داخل ہوسکتی ہے اس جنگ کا دائرہ پاکستان تک بڑھیا جاسکتا ہے برسوں پہلے جن خد شات کا اظہار کیا گیا تھا اُس وقت کی حکومت نے اپنے اقتدار کو محفوظ بنانے اور امریکی آشیرباد حاصل اور برقرار رکھنے کے لئے ان تمام تر خدشات کو نظر انداز کیا یہ خدشات آج درست ثابت ہورہے ہیںآج انتہا پسند ٹرمپ حکومت پاکستان کو د ھمکیوں سے نواز رہی ہے دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان کے تعاون کو ٹرمپ انتظامیہ ڈالروں میں تول رہی ہے تحریک آزادی پاکستان سے ہی انگریز سرکار مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی بد سلوکی کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں پاک بھارت اثاثوں کی تقسیم سے لے کر پاکستان کے تمام تر بنیادی معاملات پر انگریز سرکار پاکستان کے ساتھ ناانصافی کرتے رہی ہے جس پر عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی رہی ہیں
آج امریکا عراق افغانستان ایران ترکی شمالی کوریا کے بعد پاکستان کو آنکھیں دیکھا نے کی غلطی کر رہا ہے طاقت کے نشے میں شاید امریکا اس بات کو نظر انداز کر گیا ہے کہ وہ پاکستان کو عراق افغانستان سمجھ بیٹھا ہے پاکستان ایک اسلامی ریاست ایٹمی قوت دنیا کااہم ترین اسلامی ملک ہے دنیا کی تیسری طاقتوار ہر طرح کی صلاحیت رکھنے والی افواج بیس کروڑ سے زائد عوام اس سر زمین کی محافظ ہے جس کو امریکا کی جانب سے دھمکی دی جارہی ہے چین جیسا اعظم ملک بھی پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دے چکا ہے شاید امریکا اپنے انجام کی جانب بڑھ رہا ہے پاکستان سے ٹکرائو کی صورت میں امریکا کی سلامتی خطر ات کی زد میں ہے۔اس وقت پاکستان کی جانب سے امریکا کو منہ توڑ جواب دینے کی اشد ضرورت ہے ۔
امریکی وزیر خارجہ کو پاکستان آنے سے روک دینا پاکستان کی سلامتی کے لئے ایک اچھا اقدام ہے مگر پاکستان کو اس سے بھی بڑھ کر اپنا تحفظ مستحکم بنانا ہوگا پاکستان نے 2001 سے اب تک دہشت گردی کے خاتمے کے لئے امریکا سے ہر طرح کا تعاون کیا اس تعاون کے نتیجے میں پاکستان ہر لمحے خطرات کی زد میں رہا ہے دہشت گردی کا جن ہمیں امریکا سے تعاون کے نتیجے میں ملا ہے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات نائن الیون کے بعد سے رونما ہونا شروع ہوئے امریکا کی افغانستان میں ناکام جنگ کا نقصان صرف پاکستان کو ہی اُٹھانا پڑا ہے جس میں ہمارے بہادر سپاہیوں سے لے کر اس ملک کی بے گناہ معصوم عوام کو بھی قربانی کا بکرا بنا پڑا ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان نے اب تک ہزاروں قربانیاں دی ہیں سولہ سال کی قربانی جدوجہد کا نتیجہ آج ہمیں امریکا کی جانب سے دھمکی کی صورت میں مل رہا ہے جنرل نکلسن کی پاکستان کے خلاف الزام تراشی پاک امریکا تعلقات میں تنائو کا سبب بنے گئی ۔
موجودہ امریکی حکومت دنیا بھر کی نظر میں انتہا پسند مودی سرکار کا روپ دھرے ہوئے ہے اس وقت ٹرمپ کی حکومت ا مریکی عوام کے لئے بھی مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے کسی پر سفری پابندی عائد کی جارہی ہے تو تو کہی تعلقات کا خاتمہ کیا جارہا ہے پاکستان نے امریکا کا اتحادی بنے کی بھری قیمت چکائی ہے جس کا ہم کو آج تک کوئی فائدہ نہیں ہوسکا ہے امریکا کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی خراب ہوئے ہیں افغان طالبان جو پاکستان کا اہم اثاثہ تھے جو پاکستان کو اپنا ملک سمجھتے تھے جو پاکستان کی سلامتی پر اپنی جان تک قربان کرنے کا عزم رکھتے تھے امریکا سے تعاون کے نتیجے میں آج یہ طالبان پاکستان کو اپنا دشمن سمجھ بیٹھے ہیں ۔
اگر اب بھی ہمارے ارباب اختیار امریکا کی غلط پالسیوں پر پاکستان کو چلتے رہے تو شاید امریکا کے ساتھ ساتھ پاکستا ن کا وجود بھی خطرات کی زد میں رہے گا بھارت کے ساتھ ساتھ امریکا بھی سی پیک اور پاکستان کی خود مختاری سے نا خوش ہے پاکستان کی ترقی خوشحالی امریکاا ور بھارت کو کیسی صورت ہضم نہیں ہوسکتی ناپاک عزائم رکھنے والے کافر پاکستان کے کبھی دوست نہیں ہوسکتے امریکا بھارت شروع دن سے ہی پاکستان کے قیام اور ترقی کے مخالف رہے ہیں پاکستان کو ہمیشہ سے اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا گیا ہے و قت آگیا ہے کہ ہمارے ارباب اختیار پاکستان کی سلامتی کو مقدم سمجھتے ہوئے اہم فیصلے کرے امریکا کی غلامی سے نجات حاصل کرے اپنی مثبت صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہوئے ملک کو خوشحال پاکستان بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے جو پاکستان اور اس کی عوام کی خوشحالی اور سلامتی کے لئے ضروری ہے غلامی سے نجات میں ہی پاکستان کی بقاء ہے ۔