چشم زون

05 ستمبر 2017

کیا کھیل‘ کیا تماشہ سمجھنے سے قاصر‘ کیا حاصل ہوگا‘ اس ناٹک سے کچھ ہو یا نہ ہو اتنا ضرور تشنگی کی سیرابی ضرور ہوجائے گی کوئی اس قدر عقل مند دانا ‘ مفکر نہیں لیکن روزہ مرہ کے ان واقعات سے اس کو کچھ تو سمجھ میں آئے گا۔ میں ایک عام ادنیٰ انسان ہو ں دانشور نہیں نہ ہی اتنا دانا و مفکر ہوں جو ہر بات کو فوری سمجھ سکوں ۔ ہاں اتنا ضرور ہوا ہے یہ اندازہ لگانا مجھے آسان ہوگیا ملک و ملت کا وفادار کون ہوسکتا ہے اور ذاتی مفادات پر تمام کچھ تہہ بالا کون کرسکتا ہے ایسے لوگ گذرے جنہوں نے اپنی ذاتی رقومات ملک پر لگائیں عوام کیلئے جس حیثیت میں وہ کرسکتے تھے کیا ان کی نیک اور اچھی باتوں پر یاد کیا جاتا ہے ایک جاپانی عورت جو55 سال پاکستان میں رہی جس کا10 اگست2017ءکو پاکستان میں انتقال ہوا۔ اس کی خدمات مثالی جن کو فراموش نہیں کیا جاسکتا‘ کوڑھ کے مریضوں کو کوڑے پر یا دور کہیں چھوڑ دیا جاتا تھا یہ سوچ کر یہ مرض ہم کو یا دوسروں کو نہ لگے یہ بھی سننے میں آیا گہرے کھڈ میں چھوڑ دیا اور برتن بذریعہ رسی اس کو کھانا دیا جاتا پانی بھی اسی طرح دیتے۔ اس خیال پر کہ ہے تو ہمارا اپنا رشتہ دار سگا ہے لیکن اگر اس کے قریب گئے یا گھر میں رکھا تو کوڑھ کی بیماری گھر میں کسی کو لگ جائے یا محلہ میں پھیل جائے اس قسم کے خیالات تھے لوگوں کے ۔ اس عورت نے پہلی بار ایک بچے کو کوڑے کے ڈھیر پر دیکھا جس کو کوڑھ(لیپروسک) کی بیماری تھی اس عورت نے اس کو اٹھایا چونکہ جرمنی میں اس نے طب میں ڈاکٹریٹ کیا تھا اس لئے اس کو اس کے علاج کا معلوم تھا۔ وہاں سے اس کی کوڑھ کے امراض پر پاکستان کراچی میں خدمات کا آغاز ہوا۔ اس نے کوئی شادی نہ کی کسی ذاتی مصروفیات میں نہیں سارا وقت کوڑھ کے مریضوں پر گذارتی اور ہزاروں مریضوں کو مکمل شفایابی ہوئی۔ کسی نے اس کو اس کام پر مامور نہ کیا یہ اس کا جذبہ تھا کوڑھ کا اسپتال بھی اس نے اپنی کاوش سے کھولا اور ساری حیات وہ اپنے کام پر گامزن رہی۔ اس کو کبھی کسی قسم کی لالچ یا شہرت کی چاہت نہ تھی اگر اس کی چاہت‘ فکر رہی تو اس مریضوں پر جن سے لوگ دور ہوئے ہیں وہ ایسے مریضوں کو اپنے قریب لاتی مکمل علاج کرتی۔
بلاضرورت یا بے غرض کوئی بات نہیں کوئی نہ کوئی مقصدیت ہوتی ہے چونکہ شہر کراچی میں میں نے دس سال قبل اس عورت کو دیکھا ‘ اردو ایسے بول رہی تھی جیسے اس کی مدر لینگویج اردو ہو۔ مجھے بڑا تعجب ہوا جب ساری کارکردگی معلوم ہوئی اور دیکھا اس کے برعکس ہمارے چند یا اب زیادہ لوگ ایسے ہوگئے ہیں کہ جو کام کریں اس کی ان کی شہرت کے علاوہ مالی حیثیت میں حاصل ہو۔ خواہ ان کا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہو۔ لالچ ‘ حرص رکھنے والا شخص اپنا راستہ نکال لیتا ہے خواہ ڈاکٹر ہو‘ انجینئر ہو‘ وکیل ہو ‘ کسی بڑے عہدے پر فائز ہو زیادہ تر سیاسی لیڈر۔ یہ واضح کردوں اس میں تمام لوگ نہیں مخلص بھی بہت ہیں‘ دوسری کی مدد کرنے والوں کی کمی نہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو آج یہ لاوارث‘ بے روزگار‘ اپاہج کی مدد کون کرتا‘ باقاعدہ رفاع عامہ کے ادارے ہیں جو اپنی خدمت بے لوث انجام دے رہے ہیں۔
کاش ہمارے ملک میں ہمارے بڑے بڑے سیاسی لیڈران‘ حکمران‘ بالکل ایسے ہوجائیں جن کے ذہن میں خدمت خلق ملک کی عظمت قدر و منزلت ابھر جائے شاید دب گئی ہے کیوں نہ اس دبی ہوئی اچھائی کو باہر نکال لیں۔ یقیناً بہت کچھ ہوسکتا ہے‘ معاشی بدحالی ختم ہوسکتی ہے‘ بے روزگار کو روزی مل سکتی ہے
‘ بھوکوں کو پیٹ بھرکر کھانا مل سکتا ہے بلکہ میں یہ کہوں گا کہ تمام ضروریات پوری ہوسکتی ہیں اس لئے کہ وہ بااختیار باوقار‘ باحیثیت ہیں اگر دیکھا جائے تو ایسے ہی جذبات ملک و قوم کو تقویت بخشتے ہیں قوم آگے بڑھتی ہے ملک ترقی کرتا ہے‘ میرے دوست نے بڑی پیاری بات کہی بولے چھوڑیں ان باتوں کو یہ سب تحریر میں اچھی لگتی ہیں ایسی کرتا کون ہے جب ان باحیثیت یا حکمرانوں سے آپ بات کریں تو وہ ایسے ملک و قوم کے ہمدرد نظر آئیں گے جیسے ان کے بغیر ملک چل سکتا ہے نہ قوم زندگی بسر کرسکتی ہے‘ زبانی جمع خرچ بہت بلکہ اب تو جگہ جگہ یہی ہے کہ کہنا کچھ کرنا کچھ‘ ہم جرم کرتے ہیں جب کوئی پکڑلیتا ہے تو پوچھتے ہیں ہمارا جرم کیا ہے‘ اب کوئی ان کو بتائے آپ نے ایک جرم نہیں بلکہ سیکڑ وں جرائم سر انجام دیئے جوکہ آپ کو آپ کے اہل و عیال ‘ دوست احباب کو واضح طور پر معلوم ہیںکہ آپ اب ملزم نہیں بلکہ مجرم ہیں لگ رہا ہے آگہی آتی جارہی ہے یقیناً چند سالوں میں اس ملک میں اچھائی‘ بہتری کے قمقمے روشن نظر آئیں گے ۔کہتے ہیں امید پر دنیا قائم ہے‘ مایوس نہیں ہونا چاہئے مان لیتے ہیں ہمارے دور میں اگر اچھائی عام نہ ہوئی تو آنے والے دور میں ضرورہوگی اس لئے برائی کبھی نہ رہی اس کا قلع قمع ہوا۔ کوئی ملک و ملت کا ہمدرد وفادار پیدا ہوا جس نے کایا پلٹ دی یقینا ایسا ہوگا بلکہ زیادہ لوگ علم بلند کریں گے جو کامیابی‘ کامرانی‘ نیکی کا ہوگا‘ کسی نے کہا ہے کہ اگر ایک بڑا نیک ہوتو نیجے چھوٹے اس کو دیکھ کر بنتے جاتے ہیں اور اگر اوپر والا بڑا شخص برائیوں‘ بدکرداریوں‘ چوریوں میں شرابور ہوتو نیچے والے بھی اپنے ہاتھ بہتی گنگا میں ہاتھ دھولیتے ہیں۔ ان کو قطعی یہ خدشہ نہیں رہتا کہ ہمارا بڑا ہم کو پکڑے گا یا ہم کسی کے ہاتھ پکڑے جائیں گے اس لئے برائی پھیلتی جاتی ہے پروان چڑھتی ہے اور پھلتی پھولتی ہے اس لئے پہلے بڑے کو ختم کریں یقین کریں سیکڑ وں کیا ہزاروں لوگ اس ایک بڑے کے ختم ہونے پر خود راہ مستقیم اختیار کرلیتے ہیں ضرورت نہیں پڑتی ان کو کہنے کی کیونکہ وہ دیکھ لیتے ہیں جب ہمارا بڑا سردار اپنا رعب و دبدبہ دولت سے بھی نہ بچ سکا تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں ہم کو تو ایک ہی چھٹکے میں سمندر میں پھینک دیا جائے گا اور جس کو سمندر کی لہریں گنے پر لگایا ہوگا وہ بھی صرف لہریں گننے گا دولت نہیں اسے معلوم ہوجائے گا کہ میں جب جس دور میں سمندر کی لہریں گننے پر تعینات تھا تو میر ے سامنے بدکردار راشی‘ چور‘ ڈاکوﺅں کو اس سمندر کی نذر کیا تو پھر میں کیا چیز ہوں وہ بھی جو پہلے کسی دھونس رعب اور لہریں گننے میں رکاوٹ پر رشوت لیتا تھا خود بات آجائے گا اور کلمہ پڑھ کر اللہ اللہ کرے گا بلکہ وہ ایک تسبیح ہاتھ میں لے گا تاکہ سب لوگوں کو معلوم ہوسکے یہ بھی اللہ کو یاد کرنے لگا۔ اللہ کو یاد کرتے بہت سے لوگ اس دور میں دیکھے جو ہر برے کام میں شریک بلکہ رشوت ستانی میں آگے لیکن جیسامیں نے مندرجہ بالا عرض کیا ایسا ہوا تو سب مل کر کہیں گے اللہ اللہ کیا کرو۔ یہی تو خاص بات ہے جب تک ڈھیل رہتی ہے تو ساری برائی پروان چڑھتی ہے اور جب رسی کھینج لی جائے توچشم زون میں یہ ختم ہوجاتی ہیں میں نے بہت سی تحریرپڑھیں جن میں اچھا ئی کی نصیحت کی گئی بڑی مثالیں دی گئیں مذہبی کتب تصنیف ہوئیں یہ نہیں کہا جاسکتا کسی نے کچھ نہیں کیا لیکن اب اس میں تو میری طرح وہ لوگ بھی بے بس ہیں کس کس کو بہتر کریں۔ہر ملک میں دو خاص ادارے بڑے اہم ہوتے ہیں1 عدلیہ‘2 فوج‘ اللہ کا بڑا شکر ہے ہمارے ملک میں عدلیہ آزاد ہے جس کو چور‘ راشی‘ کمیشن خور‘ منی لانڈرنگ کرنے والے برا اس لئے کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ان کی بات نہ سنی ‘ کسی رعب دبدبہ میں نہ آئے دولت کو لات مار دی اور اس ملک کی ایسی تاریخ رقم کردی کہ لوگوں کو بڑا حوصلہ ملا ہے رہا فوج کا سوال تو وہ بالکل اٹل ہے۔ اس میں ذرا بھی لرزش نہیں۔