شہر قائد ۔پہلے کچرا کنڈی اور اب گندا جوہڑ

05 ستمبر 2017

کراچی میں بد ھ کی رات سے جمعرات کی صبح تک ہونے والی بارش نے زبردست تباہی مچادی ۔ کئی کچے پکے مکانات گر گئے ‘ مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے اور مکانات گرنے سے تقریباً 20افراد ہلاک ہوگئے ‘ نکاسی آب کا یہ حال ہے کہ پورا شہر تالاب بن چکا ہے پانی کسی سمت نہیں بہہ رہا ہر گلی محلہ میں تقریباً تین تین چار چار فٹ پانی کھڑا ہے اور آج بھی یہی صورتحال ہے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ تقریباً بند ہے دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے ‘ کراچی پہلے کچرا کنڈی بنا ہو اتھا جس سے شہریوں کا جینا دوبھر تھا اور اب یہ گندے جوہڑ میں تبدیل ہوچکا ہے شہریوں کی پریشانی ‘ گلیوں و سڑکوں کا حال ‘ پانی میں گھرے لوگوں کی کسمپرسی ‘ ٹریفک کاعذاب ‘مرنے والوں کے گھروں کا ماتم ‘ یہ سب کچھ یقینا اہل اقتداراور اہل اختیار اپنے ایر کنڈیشن گھروں میں بیٹھے مختلف چینلز سے دیکھتے رہے ہوں گے چینلز سب مناظر کل سے دکھا رہے ہیں اور ذمہ دار وں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ دو دن گزرنے کے بعد بھی خاطر خواہ انتظامات نظر نہیں آرہے ‘ اگر کہیں ہیں بھی تو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف صبح عید قربان گزرے تین دن ہوچکے ہیں اور ابھی تک شہر سے غلاضتیں نہیں اٹھائی جاسکی ہیں ۔ اگریہی صورتحال رہی تو شہر قائد میں غلاظت و تعفن کا وہ عذاب نازل ہوگا جس سے عام شہری سمیت ایوان اقتدار میں بیٹھنے والے بھی محفوظ نہیں رہیں گے ۔(محمد اقبال ،کراچی )