ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

05 ستمبر 2017
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

رانی پور درگاہ غوثیہ پیران پیر دستگیر کا شہر مشہور ہے لیکن بنیادی سہولتیں میسر نہیں‘ کروڑوں روپیہ خرچ کے لئے منظور ہوتے ہیں لیکن سیاسی شاطر اور حکومت کے چیلے رشوت کے بھوکے مال ہضم کردیتے ہیں۔ شہرمیں فرش بندی‘ ڈرینج‘ گندے پانی کے نکاس کے لئے 90 لاکھ سے زیادہ منظور شدہ رقم ایک صوبائی ممبر اور انکے عزیز اور اقارب احباب ایک ہی دسترخوان پر کھاتے اورموج اڑاتے ہیں۔ غریب اورشریف لوگ جوآواز اٹھاتے ہیں‘ ان کا منہ بند کیا جاتا ہے‘ رانی پور کے محلہ احمد پور میں کام ہوتا ہے‘ جہاں بڑے شرفا آباد ہیں‘ جو ٹیکس بھی نہیں دیتے۔شہری روز احتجاج کرتے ہیں لیکن ان کو اثر نہیں پڑتا کیونکہ اعلیٰ افسر کاہوتا ہے۔ اگر کسی کو درخواست دے کر عرض کرتے ہیں کہ شہری ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے غمزدہ ہیں تو ہتھیار بند دہلیز پر آجاتے ہیں صرف چند آدمی ٹھیکیدار ارب پتی ہوگئے جن کوسرکاری آشیر واد حاصل ہے۔ ہم کہتے ہیں خدارا غیر ضروری حرکت بند ہو۔(حاجی غلام حسین ملاح‘ رانی پور)