اشرف غنی سنجیدہ ہوں تو پاکستان اور افغانستان باہم مل کر اس خطے کو امن کا گہوارا بنا دیں

05 ستمبر 2017

افغان صدر اشرف غنی اور امریکی وزیر دفاع کا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ کشیدہ تعلقات کے خاتمہ کیلئے وہ پاکستان سے مذاکرات پر تیار ہیں۔ گزشتہ روز عید کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ پرامن تعلقات ہمارا قومی ایجنڈا ہے۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے بہتر تعلقات ہی خطے میں امن قائم کر سکتے ہیں۔ ہم ایسا ایجنڈہ چاہتے ہیں جس کی بنیاد سیاسی نظریے پر ہو۔ دنیا کو معلوم ہو چکا ہے کہ افغانستان کو جبراً کسی کام کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی سلامتی کی خاطر ہم منطق اور استدلال کے تحت ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے باغیوں اور جنگجوﺅں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امن عمل کا حصہ بنیں۔میں سب کی طرف امن کا ہاتھ بڑھا رہا ہوں، امن خدا کا حکم ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان سمیت سب کیلئے دروازے کھلے ہیں، ہم کسی طاقت کے آگے نہیں جھکیں گے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اس خطے کا امن و سلامتی افغانستان کے امن و استحکام کے ساتھ وابستہ ہے اور افغانستان میں قیام امن کیلئے کابل انتظامیہ نے ہی بنیادی کردار ادا کرنا ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں قیام امن کی اس لئے ضرورت ہے کہ ہمارے ملک میں ہونیوالی دہشت گردی کے سوتے افغان دھرتی سے ہی پھوٹ رہے ہیں جہاں ہمارے ازلی مکار دشمن بھارت نے اپنے درجن بھر قونصل خانوں کے ذریعے ”را“ کے ماتحت اپنا دہشت گردی کا نیٹ ورک پھیلا رکھا ہے جہاں سے دہشت گرد تربیت، فنڈنگ اور دھماکہ خیز مواد حاصل کرکے کابل انتظامیہ کی آشیر باد کے تحت سرحد عبور کرکے پاکستان آتے ہیں اور یہاں اپنے متعینہ اہداف پر خود کش حملے اور دہشت گردی کی دوسری وارداتیں کرکے واپس افغانستان اپنے محفوظ ٹھکانوں میں چلے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر افغان صدر کو آج احساس تو ہوا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دو طرفہ تعلقات میں بہتری لائی جا سکتی ہے تو اس سے زیادہ خوش آئند اور کیاصورت حال ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے پاک افغان تعلقات کے بگاڑ میں کابل انتظامیہ کا ہی زیادہ عمل دخل رہا ہے اور اس بگاڑ کی ابتداءقیام پاکستان کے وقت سے ہی افغانستان کی طرف سے پاکستان کی اقوام متحدہ کی رکنیت کے خلاف ووٹ دینے کی صورت میں ہوئی تھی جبکہ یہ واحد مخالف ووٹ تھا جو پاکستان کے پڑوسی برادر مسلم ملک کی جانب سے ڈالا گیا جس کیلئے اُس وقت کے افغان کنگ ظاہر شاہ نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس وقت سے اب تک پاکستان کو افغانستان کی جانب سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں آیا اور اس برادر پڑوسی ملک نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ خدا واسطے کا بیررکھا ہے۔
امریکی نائن الیون کے بعد تو افغانستان نے دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر اپنی سرزمین پر شروع ہونے والی نیٹو ممالک کی جنگ میں عملاً امریکی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ اپنی انتہاءکو پہنچایا۔ اس وقت امریکی بیساکھیوں پر اقتدار میں آنے والے افغان صدر حامد کرزئی نے محض اپنے اقتدار کے تحفظ و بقاءکی خاطر افغان سرزمین کو امریکی نیٹو فورسز کی آماجگاہ بنایا اور انہیں وہاں اپنے قدم جمانے کا موقع فراہم کیا جبکہ نیٹو فورسز نے دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر افغان دھرتی پر کارپٹ بمباری اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے اس کا تورا بورا بنا دیا۔ نیٹو فورسز کے ایسے جنگی اقدامات اور آپریشنزکے ردعمل میں ہی طالبان اور دوسری انتہا پسند تنظیموں اور گروپوں نے اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا آغاز کیا جن کی پاکستان بھی زدمیں آیا،کیونکہ نیٹو فورسز کی بمباری اور زمینی کارروائیوں سے بچنے کیلئے ان انتہا پسند عناصر نے پاکستان کا رخ کیا۔
بدقسمتی سے اس وقت کے پاکستان کے کمانڈو جرنیلی صدر پرویز مشرف نے اپنے آمرانہ اقتدار کے تحفظ کی خاطر امریکی وزارت دفاع کی محض ایک ٹیلی فونک دھمکی پر خود کو امریکی فرنٹ لائن اتحادی بنا لیا اور افغانستان میں آپریشن کے لئے امریکی نیٹو فورسز کو پاکستان کے اندر چار ایئر بیسز اور دوسری لاجسٹک سپورٹ فراہم کر دی۔ اس بنیاد پربھی اس وقت کابل انتظامیہ کا اسلام آباد کے ساتھ ربط قائم ہونا چاہئے تھا مگر کرزئی نے امریکی تھپکی پر پاکستان کے خلاف اسی کی زبان بولنا اورکے لہجے میں”ڈومور“ کے تقاضے شروع کر دیئے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کرزئی نے نیٹو فورسز کو بالواسطہ طور پر پاکستان پر حملہ آور ہونے کی تجویز پیش کی جس کے بعد افغانستان سے جتھوں کی شکل میں مسلح دہشت گردوں کے پاکستان کے اندر داخل ہو کر ہماری چیک پوسٹوں پر حملے شروع ہو گئے جن میں چیک پوسٹوں سے ملحقہ علاقوں میں سویلینز بھی نشانے پر آئے، جس کے باعث پاکستان اور افغانستان میں سرحدی کشیدگی کا پیدا ہونا فطری امر تھا۔ چنانچہ کرزئی کے دونوں ادوار کے دوران پاک افغان کشیدگی برقرار رہی اور کابل انتظامیہ کی سرپرستی پر پاکستان کی چیک پوسٹوں پر سرحد پار سے ہونیوالی کارروائیاں اس کشیدگی میں اضافہ کا باعث بنتی رہیں۔
کرزئی کے بعد رن آف الیکشن کے نتیجہ میں اشرف غنی افغانستان کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں کابل انتظامیہ کی پالیسی میں خوشگوار اور مثبت تبدیلیاں کیں اور صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے بیرونی دورے پر اسلام آباد آئے اور ساتھ ہی جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کرکے وہاں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے حوالے سے پاکستان کی عسکری قیادت سے بریفنگ لی۔جس کی روشنی میں انہوں نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پرآپریشنز کا وعدہ کیا تو اس سے پاک افغان کشیدگی ختم ہونے کے حوالے سے برف پگھلتی نظر آئی تاہم یہ خوشگوار صورتحال زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی اور اشرف غنی کی کابل انتظامیہ کرزئی دور کی طرح بھارت کی مودی سرکار کے ٹریپ میں آ گئی چنانچہ اشرف غنی نے بھی امریکہ اور بھارت کے لب لہجے میں پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنا شروع کردیا، حالانکہ دہشت گردی کے تمام منابع افغان دھرتی پر ہی موجود تھے، جہاں پر بالآخر پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو ٹھوس اطلاعات ملنے پر خود فضائی آپریشن کرنا پڑا۔ پاکستان نے افغانستان سے دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کیلئے طور خم بارڈر پر اپنی جانب گیٹ لگانے کا فیصلہ کیا تو اس پر بھی اشرف غنی حکومت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا اور پھر افغان فورسز نے پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ بھی شروع کردیا ۔جس پر پاکستان نے افغان سرحد بند کر دی تاہم جب افغان باشندے فاقہ کشی کا شکار ہونے لگے تو پاکستان نے انسانی ہمدردی کے تحت سرحد کھول دی مگر کابل انتظامیہ نے بھارتی ایما پر پاکستان کی سلامتی کے خلاف سازشوں کا سلسلہ برقرار رکھا اور ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ کے مصداق کابل انتظامیہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالتی رہی۔
یہی بھارت اور امریکہ کا بھی مطمح نظر تھا چنانچہ پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے کی امریکی بھارتی سازش میں افغانستان بھی برابر کا شریک ہو گیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئے ہر عالمی اور علاقائی فورم پر بھرپور کردا رادا کیا اور ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس سے شنگھائی کانفرنس تک افغانستان میں امن کی بحالی کی کوششوں کو تقویت پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔
یہ انتہائی افسوسناک صورت حال ہے کہ امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی پہلے سے طے شدہ پالیسی کے تحت پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے کی حکمت عملی میں بھارت اور افغانستان کی مدد لی جو پہلے ہی اس معاملہ میں باہم گٹھ جوڑ کر چکے تھے۔ آج امریکی وزیر دفاع جیمزمیٹس گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے پاکستان کے لئے نیک جذبات کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے ذمہ دار ملک گردان کر باہم مل کر دہشت گردوں کو شکست دینے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ فی الحقیقت واشنگٹن انتظامیہ کی ہر پالیسی اور اقدام پاکستان کے گرد شکنجہ کسنے والا ہے جس کا ڈونلڈ ٹرمپ دو ہفتے قبل نشری خطاب میں خود اعلان و اظہار بھی کر چکے ہیں۔ اگر امریکہ فی الواقع پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف اقدامات اٹھانے میں سنجیدہ ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ افغانستان کو پھر سے خطہ¿ امن و آشتی نہ بنایا جا سکے‘ مگر افغانستان میں امن کا قیام شائد امریکہ اور افغانستان دونوں کو منظور نہیں اور وہ اپنے مفادات کے تحت پاکستان پر افغانستان کی خرابی کی ذمہ داری تھونپنا چاہتے ہیں۔ جبکہ افغانستان کی خرابی خود کابل انتظامیہ کی پیدا کردہ ہے۔ جس نے امریکہ نیٹو فورسز کو افغان سرزمین پر پاﺅں جمانے کے مواقع فراہم کئے۔ اسی تناظر میں گذشتہ روز افغان طالبان رہنما ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کابل انتظامیہ کو باور کرا یا ہے کہ جنگ کے خاتمہ کا واحد راستہ افغانستان سے غیرملکی افواج کا انخلا ہے۔
اس صورتحال میں اگر کابل انتظامیہ کو فی الواقع افغانستان میں امن مقصود ہے تو وہ اسلام آباد کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمہ اور امن عمل کی مشترکہ کوششیں بروئے کار لا سکتی ہے جس کے لیے کسی بیرونی کمک اور امداد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اگر اشرف غنی سنجیدہ اور مخلص ہوں تو پاکستان کے ساتھ مثالی تعلقات استوار کر کے باہمی تعاون سے افغانستان کو دوبارہ امن کا گہوارہ بنا دیں جس سے علاقائی امن کی بھی ضمانت مل جائے گی۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ افغان صدر اشرف غنی پاکستان کی جانب دوستی کا ایک قدم اٹھائیں گے تو یہاں سے انہیں محض خیرسگالی کے تعلقات نہیں مثالی تعاون بھی حاصل ہو گا جس کے بعد کسی بیرونی فورس کے افغانستان میں قیام کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ اشرف غنی اگر اپنے کہے پر قائم رہتے ہیں تو یہ ان کی جانب سے اس خطے کے عوام کے لیے امن کا تحفہ ہو گا۔