چین کی تردید سے شہباز شریف پر الزامات کی نفی ہو گئی

05 ستمبر 2017

پاکستان میں چینی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان ژاو¿ نے ملتان میٹرو منصوبے میں چینی کمپنی کے ذریعے کرپشن کے الزامات باضابطہ طور تردید کر دی اور کہا کہ جیانگسو یابائٹ ٹیکنالوجی کارپوریشن لمیٹڈ کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں۔ لی جیان ژاو¿ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ جیانگسو یابائٹ ٹیکنالوجی کارپوریشن لمیٹڈ نے حکومت کو دھوکا دینے کے لئے چند جعلی خطوط بنائے جس پر اسے سزا دی گئی۔ سی پیک منصوبہ صاف اور شفاف ہے جس میں کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
الزامات پر مبنی رپورٹ سامنے آنے اور مخصوص لابی کی طرف سے پنجاب حکومت کیخلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کے فوری بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے ملتان میٹرو میں کرپشن کے الزامات مسترد کر دیئے اور الزام لگانے والوں کو ثبوت سامنے لانے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا تھا کہ قوم ثبوت سامنے آنے پر ان کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے میں حق بجانب ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے مرنے کے بعد بھی اگر کرپشن ثابت ہو جائے تو ان کی ہڈیوں کو قبر سے نکال کر لٹکا دیا جائے۔ مخالفین مقررہ مدت میں ثبوت پیش نہ کر سکے جن کا کوئی امکان ہی نہیں تھا کیونکہ یہ سب سیاسی سٹنٹ تھا جس کی قلعی اب چینی سفارتخانے واضح طور پر کھول دی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں الزام لگایا تھا کہ ملتان میٹرو پراجیکٹ میں کرپشن ایک چینی کمپنی کے نام پر ہوئی ہے اور چینی حکومت کے ایک ریگولیشن ادارے نے چینی کمپنی کے بنک اکاﺅنٹ میں پاکستان سے بھیجے گئے 17 ملین ڈالرز پر تحقیقات کیں اور پوچھا کہ اتنے پیسے کہاںسے آئے جس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ہم نے ملتان میٹرو پراجیکٹ سے یہ پیسے کمائے ہیں۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ چینی تحقیق کار اس معاملے کی چھان بین کے لئے 2 مرتبہ پاکستان آئے اور یہ معاملہ تقریباً سات آٹھ مہینے سے چل رہا ہے۔
چینی سفیر کی طرف سے تردید کے بعد اپوزیشن اور مخصوص ذہنیت کی طرف سے ایسی الزام تراشی کا باب بند ہو جانا چاہئے کیونکہ اس سے ملکی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ چین کے علاوہ سعودی عرب‘ ترکی‘ جرمنی‘ جاپان‘ برطانیہ کئی مغربی اور عرب ممالک سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور کئی منصوبوں میں ان ممالک کی طرف سے اشتراک اور تعاون جاری ہے۔ ایسی بے بنیاد رپورٹوں سے ان ممالک کو کیا تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستانی چور ہیں‘ ان کے ساتھ اشتراک اور تعاون کریں نہ ہی سرمایہ کریں؟ ایسا رویہ شرمناک ہے!