وزیر خارجہ کا چین کے بعد روس، ایران اور ترکی جانے کا خوش آئند عندیہ

05 ستمبر 2017
وزیر خارجہ کا چین کے بعد روس، ایران اور ترکی جانے کا خوش آئند عندیہ

وزیر خارجہ خواجہ آصف 8ستمبر کو چین کا دورہ کریں گے۔ وہ امریکی پالیسی پر چینی حکام سے بات چیت کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق خواجہ آصف ستمبر کے دوسرے ہفتے روس، ایران اور ترکی کا دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق افغان معاملے پر علاقائی فورسز سے مل کر چلیں گے۔
قیام پاکستان کے بعد وزیراعظم کے روس کے دورے کا اعلان کیا گیا۔ جرمنی اور جاپان کو مل کر شکست دینے کے بعد روس اور امریکہ میں طاقت کے حصول کی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ دونوں ممالک برابری کی قوت تھے۔ کسی بھی ملک کے لیے روس یا امریکہ کے ساتھ وابستگی ضروری خیال کی جاتی ہے۔ روس علاقائی طاقت تھی۔ وزیراعظم کی طرف سے روس کے دورے کو منسوخ کر کے امریکہ کا دورہ کیا گیا تو روس کا انگاروں پر لوٹنا فطری امر تھا۔ بھارت نے روسی بلاک میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ روس نے بھارت سے مل کر پاکستان کو جہاں تک ممکن تھا نقصان پہنچانے کی کوشش کی جبکہ امریکہ دور بیٹھا تماشائی بنا رہا ۔ پاکستان پر طویل عرصہ ایوب خان نے حکومت کی۔ انہوں نے اپنی کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹرز میں امریکہ کو دھوکہ باز اور فریب کار قرار دیا تھا۔ یہ صداقت آج مزید عیاں ہو رہی ہے۔ پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں دو مرتبہ کود کر اپنی معیشت برباد کرائی، اب تو 70 ہزار قیمتی جانیں بھی اس جنگ کی نذر کی ہیں اور خود دہشت گردی کی لپیٹ میں آ چکا ہے مگر امریکہ پاکستان پر اعتماد اور اعتبار کرنے کی بجائے بھارت کے ایماءپر اس کی عینک سے پاکستان کو دیکھتا اور اس کی زبان بولتا ہے۔ پاکستان کی قربانیوں کا دل سے اعتراف کرنے کی بجائے پاکستان کو دہشت گردوں کا ساتھی اور پشت پناہ قرار دے کر نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیتا ہے جس پر عسکری، سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ نے اصولی اور جرات مندانہ جواب دیا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب راست سمت میں جا رہی ہے۔ ٹرمپ کی پاکستان پر جارحیت کی دھمکیاں کے بعد وزیر خارجہ کے چین کے دورے کا اعلان کیا گیا تو نوائے وقت نے انہی صفحات پر ترکی، روس اور ایران جانے پر زور دیا تھا۔ وزیر خارجہ کے دورے سے یقیناً علاقائی فورسز کے متحد ہونے کا قوی امکان ہے۔