منگل ‘ 13 ذوالحج 1438ھ‘ 5 ستمبر2017

05 ستمبر 2017
منگل ‘ 13 ذوالحج 1438ھ‘ 5 ستمبر2017

چین میں بری فوج کا کمانڈر تبدیل

ساٹھ، ستر کی دہائی میں افریقی ممالک نئے نئے آزاد ہو رہے تھے، لیکن بدقسمتی یہ ہوئی تھی کہ جن رہنما¶ں نے آزادی کی تحریکیں چلائیں وہ اپنے منصب پر چند دن بھی نہیں رہ پاتے تھے کہ کوئی میجر، کرنل، عہدے کا افسر، چند ساتھیوں کو لے کر ریڈیو سٹیشن پر قبضہ کر کے ”انقلاب“ کا اعلان کر دیتا تھا۔ اُنہی دنوں ایک افریقی ملک کا سربراہ نیویارک میں ٹھہرا ہوا تھا ایک دن ملازم نے یہ خبر سنائی کہ امریکی صدر نے فوج کے سربراہ کو جبراً ریٹائر کر دیا ہے‘ تو اس نے ملازم کی جوتے سے خوب تواضع کی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے‘ موصوف کا خیال تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فوج کے سربراہ نے چُپ چاپ ریٹائرمنٹ اور وہ بھی جبراً قبول کر لی، نہ ”انقلاب“ برپا کیا، نہ مارشل لاءلگایا۔ ہمارے ہاں بھی من جملہ دیگر ”انقلابیوں“ کے ایک کمانڈو جرنیل بھی تھے جنہوں نے محض اس بنا پر جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ دیا کہ انہیں کسی ایسی مہم جوئی کی پاداش میں تبدیل کر دیا گیا تھا جس نے ملک کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔ دو تین دن پہلے چین میں بری فوج کا کمانڈر تبدیل کر دیا گیا لیکن چین میں معمولات زندگی میں ہلکا سا ارتعاش بھی نہیں پیدا ہوا۔ محسوس ہوتا ہے کہ کمانڈر موصوف کو جنرل پرویز مشرف سے صحبت نہیں رہی وگرنہ امکانات کی دنیا بڑی وسیع ہے!ہماری تاریخ کا آدھا حصہ ایسے ہی امکانات پر مشتمل ہے جنہوں نے جمہوریت اور قومی ترقی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ خوشی کی بات ہے کہ انتہائی گہرے دوست چین میں ایسا کوئی طالع آزما نہیں جو امکانات کو استعمال کرنے کا عزم رکھتا ہو!
٭....٭....٭
قصابوں کے عید پر نخرے
عیدالاضحیٰ سے ایک روز قبل خبر چھپی تھی۔ جسے بیشتر قارئین نے بھی پڑھا ہو گا کہ ”قصاب کو عیدالاضحیٰ کی مناسبت سے آج سے تین روز تک ”وی آئی پیز“ کا درجہ حاصل ہو گا۔ “یقین جانئے ہم نے اس خبر کو خبر رساں ایجنسی کی مبالغہ آمیزی سمجھا تھا لیکن، جب عید کے روز ان سے واسطہ پڑا، تو نہ صرف خبر کی سچائی پر یقین آ گیا، بلکہ یہ بھی احساس ہوا کہ اس ”قوم“ کا رتبہ بیان کرنے کے لئے وی آئی پیز کی اصطلاح ناکافی ہے۔ ان کی وہ ٹوہر اور نخرے دیکھے، کہ چُپ بھلی! بڑے بڑوں کو، حضرتِ قصاب کو کرسی پیش کرتے اور چائے، لسی سے تواضع کرتے دیکھا۔ یہ تو وہ لوگ تھے، جو مستند تھے جن کے پھٹے برسوں سے مشہور تھے۔ ہم نے، ان قصابوں کا حقہ بھرنے اور جوتیاں سیدھی کرنے والوں کی بھی حد درجے کی عزت افزائی ہوتے دیکھی۔ پھر اس دفعہ یہ بھی دیکھنے میں آیا اور اس سے پراپرٹی ڈیلر یاد آ گئے۔ اس نوع کے قصابوں کی اجرت اس طرح طے پاتی تھی کہ وہ سب سے پہلے یہ پوچھتے، ڈنگر (بشمول بکرے، چھترے اور دنبے) کتنے کا لیا ہے۔ پھر اُس کی قیمت خرید کا دس گیارہ فیصد بطور اُجرت وصول کرتے رہے۔ بہرحال اچھے وہ رہے، جنہوں نے، محلے کے قصابوں سے بنا کر رکھی ہوئی تھی۔ اور آتے جاتے، گاڑی روک کر، اُن کا اور اُن کے بچوں کا حال احوال پوچھتے رہتے تھے۔ ہمارے ہمسائے کے گھر علی الصبح ہی ایک مانا ہوا قصائی پہنچ گیا۔ ہم بڑے حیران ہوئے۔ پوچھا، لگتا ہے آپ نے قصاب تسخیر کرنے کا کوئی وظیفہ یاد کر رکھا ہے۔ بولے وظیفہ‘ وغیرہ تو نہیں، البتہ اس کے نالائق بیٹے کو فلاں سکول میں داخلہ دلوایا تھا۔ ظاہر ہے ہم اس صلاحیت سے محروم ہیں اور یوں سارا دن قصاب کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔اور اس کے باوجود جو قصاب ہمارے ہاتھ لگا اس نے کھال کا یہ حال کر دیا کہ وہ جال بن گئی، جسے کوئی بھی لینے کو تیار نہ ہوا، گوشت اور ہڈیوں کا یہ عالم کر دیا کہ انہیں بوٹی کہنا، بد ذوقی کا مظاہرہ تھا۔ بہرحال سبق یہی سیکھا کہ قصابوں سے یاری ہی کام آتی ہے
٭....٭....٭
ضمنی الیکشن جیت کر پیپلز پارٹی
نئی تاریخ رقم کرے گی: فیصل میر
میاں محمد نواز شریف کی لاہور سے قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی حلقہ 120 کی نشست پر سترہ ستمبر کو انتخابات ہو رہے ہیں۔ اصل مقابلہ مسلم لیگ ن تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہو گا۔ نتیجہ آنے پر پتہ چلے گا کہ میدان کس کے ہاتھ رہا لیکن، پیپلز پارٹی کا یہ دعویٰ خوب ہے کہ وہ جیت کی صورت میں نئی تاریخ رقم کرے گی۔ پارٹی کو تین چار دفعہ اقتدار ملا، لیکن اس نے جو تاریخ رقم کی‘ اُسے بھی قوم مدتوں یاد رکھے گی۔ نئی رقم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہی کافی ہے۔ دلچسپ تاریخ تو وہ تھی جو جنرل ضیاءالحق کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی نے اقتدار ملنے پر رقم کی۔ تعلیمی نصاب میں پڑھائی جانے والی پوری تاریخ ہی مسخ کر ڈالی۔ اس زمانے میں ایک ”قوالی“ گیارہ سال کے عنوان سے بڑی مشہور ہوئی تھی۔ یاد رہے جنرل ضیاءالحق مرحوم گیارہ سال اقتدار میں رہے تھے۔ پیپلز پارٹی کا ہر چھوٹا بڑا یہی الاپتا تھا۔ ”ہائے ہائے گیارہ سال، ہائے ہائے گیارہ سال“۔ لوگ پوچھتے تھے، اتنا عرصہ آپ اقتدار میں رہے، کون سا تیر ماراجو یہ گیارہ سال بھی مل جاتے تو، کوئی نئی توپ چلا لیتے۔ دور نہ جائیں برصغیر میں شیر شاہ سوری کو چھ سال ملے‘ دُنیا آج بھی اُس کی مثالیں دیتی ہے۔
٭....٭....٭
قانونی ماہرین نے طلاق کو فریال
کے لئے فائدہ مند قرار دے دیا
”طلاق دینے کی صورت میں دونوں بچے ماں کے پاس جائیں گے اور عامر خاں کو ایک ارب 64 کروڑ روپے نقد جبکہ لاکھوں روپے ماہانہ خرچہ بھی دینا پڑے گا۔ یوں طلاق ملی تو فریال بہت فائدے میں رہے گی“۔ شاید باکسر عامر خاں اور فریال میں صلح ہو جاتی لیکن وکیل نے جو آئینہ فریال کو دکھایا ہے‘ اس کے بعد ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔ مغربی معاشروں میں طلاق کی شرائط اس قدر سخت ہیں کہ وہاں نکاح کر کے گھر بسانے کو حماقت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بغیر شادی کے اکٹھے رہتے جوڑوں اور ناجائز بچوں کی تعداد، بہت بڑھ گئی ہے۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ شادی کرنا حماقت ہے اور شادی کے بعد طلاق دینے سے خودکشی بہتر ہے۔ البتہ بعض مستثنیات بھی ہیں کہ میاں بیوی بغیر کسی شرائط اور مک مکا کے طلاق کا مرحلہ طے کر لیتے ہیں۔
٭....٭....٭

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...