غریب عوام کی لوٹی ہوئی دولت ،واپس لی جائے

05 ستمبر 2017

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں مناسب الفاظ کا استعمال کیا اور محتاط انداز میں گفتگو کی۔ ان کے بڑے بھائی نواز شریف سابق وزیراعظم کے برطرف ہونے کے بعد مختلف افواہوں کی تردید کی اور وضاحت سے ناپ تول کر جواب دئےے لہجہ میں شائستگی بھی تھی اور تلخی بھی۔ حسب عادت مناسب شعروں کا انتخاب بھی تھا۔ سوالوں کے مدلل جواب بھی دئےے گئے۔ اس کانفرنس کا بنیادی نقطہ ملتان میٹرو میں کرپشن کاالزام تھا۔ جس کو انہوں نے پر زور الفاظ میں رد کیااور میڈیا کے خلاف اس حوالہ سے شدید برہمی اور نفرت کااظہار کیا کہ دوست ملک کو بھی بلاوجہ ملوث کردیااور متعلقہ اشخاص کو چیلنج کیا کہ ثبوت فراہم کریں یا پھر عدالتی کارروائی کے لئے تیار ہوجائیں اور اس کی پیروی وہ خود کریں گے۔
کانفرنس میں خادم اعلیٰ پنجاب نے انکشاف کیا کہ سال 1971سے لے کر 2007تک دو سو چھپن ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے۔ ایک ریٹائرڈ جسٹس نے رپورٹ سپریم کورٹ میںجمع کرائی لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ پیپلز پارٹی دور میں ان کے کاروبار تباہ کردئےے گئے لیکن انہوں نے پونے چھ کروڑ روپے کا قرضہ معہ سود ادا کردیا۔ حالانکہ کاروباری قرضے کاروباری نقصان اور ملکی معاشی حالات کی وجہ سے معاف ہوجاتے ہیں ہاں یہ دو سو چھپن ارب روپے کے قرضے سیاسی لوگوں کے تھے جو معاف ہوئے اور جن کی وصولی معہ سود وصول کرنے کی انکوائری جج نے رپورٹ کی تھی۔ مسلم لیگ ن ہمیشہ اقتدار میں رہی ہے تو اس دوران پنجاب میںمسلم لیگ ن کی حکومت ہے تو یہ رقم وصول کیوں نہ کی گئی۔ اس سوال کے جواب میں کیا آپ لاچار وزیراعلیٰ تھے بلکہ یہ اداروں کا کام تھا۔ مگر انہوں نے نہیں کیا۔ لیکن ماضی قریب یا حال کے واقعات سے تو ظاہر ہے کہ جہاں آپ کا جی چاہااُس پر عمل درآمد ہوا۔ پنجاب میںشوگر ملز کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحبان نے عدالت عالیہ کے حکم سے تالے لگائے اور آپ کے لوگوں نے تالے توڑ دےے اور حکم امتناعی ہوا میں اڑا دیا ۔ عدالت عالیہ کے ایک بنچ نے گندم خریداری میں بوریوں کی غیر منصفانہ تقسیم پر حکم امتناعی جاری کیا ۔ آپ نے وڈیو کانفرنس میں اظہار ناراضگی کیا محکمہ فوڈ اور ضلعی انتظامیہ کو کس طرح نیند آئی اور لوگوں کو باردانہ تقسیم نہ کیا اس روز بھی حکم امتناعی ہوا میں اڑا دیا گیا۔ اس وقت بھی مرکزی حکومت مسلم لیگ ن کی ہے اور آپ ایک طاقت ور وزیراعلیٰ ہیں اب بھی وقت ہے اگر کوئی سیاسی معمولات درپیش نہیں ہیں تو اس غریب قوم پر ترس کریں کم از کم دو سو چھپن ارب روپے کے معاف کئے ہوئے قرضے جن کے بارے انکوائری کمیشن کے جج نے معہ سود وصول کرنے کی سفارش کی ہے اور واقعی سپریم کورٹ میں موجود ہے۔ یہ نیک نامی آپ کے حصہ میں آنی چاہئے۔ 1971سے لے کر 2007کا عرصہ صرف 37 سال بنتے ہیں۔ قوموں کی زندگی میں یہ مدت بہت معمولی مدت ہے۔ مرکز اورپنجاب میں آپ کی حکومت ابھی آٹھ ماہ کا عرصہ آپ کے پاس ہے۔ آپ ہڑپ کی ہوئی رقوم کے سلسلہ میں ان کی وصولی کے لئے قانون بھی بناسکتے ہیں اور سپریم کورٹ میں ماضی میں داخل شدہ انکوائری کمیشن جج صاحب کی ان رقومات کو حصہ معہ سود وصول کرنے کی سماعت کا آسانی سے انتظام کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے قرضے واقعی ہم غریب عوام کی وہ پونجی ہے جو مفاد پرست عناصر لوٹ مار کررہے ہیں اس کی برآمد گی کے لئے فوری متحرک ہوں
نہ ادھر کی کر نہ اُدھر کی کر
یہ بتلا کہ قافلے کیوں لُٹے
مجھے رہزن سے غرض نہیں
تیری رہبری کا سوال ہے