سیاسی پانسا پلٹنے کو ہے!

05 ستمبر 2017

سیاسی پانسا پلٹنے کے دن قریب آ رہے ہیں۔ شریف فیملی کے خلاف 7ستمبر کو نیب کی جانب سے ریفرنس دائر ہونے جا رہے ہیں۔ اثاثے منجمد اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ادھر17ستمبر کو لاہور میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے مابین سیاسی دنگل کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔ حلقہ این اے 120لاہور کا دل ہے۔ ن لیگ کی امیدوار بیگم کلثوم نواز شریف اپنی علالت کے باعث لندن میں ہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں ان کی انتخابی مہم ان کی صاحبزادی مریم نواز چلا رہی ہیں۔ ان کے مقابل امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں۔ اس حلقے میں 220پولنگ سٹیشن جبکہ573پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں دیگر امیدواروں میں پیپلز پارٹی کے فیصل میر اور ملی مسلم لیگ کے قاری یعقوب شیخ ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد ڈور ٹو ڈور ووٹ مانگ رہی ہیں۔ ایسا ہی فیصل میر اور قاری یعقوب شیخ بھی کر رہے ہیں۔ این اے 120میں29ہزار ووٹ ایسے سامنے آئے ہیں جن کا نادرا کے پاس بائیو میٹرک ریکارڈ ہی نہیں ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد2013میں اپنی ناکامی کے بعد سے اب تک اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ، جماعت الدعوة کی حمایت یافتہ ملی مسلم لیگ پہلی بار میدان میں اتری ہے۔ جماعت اسلامی اور تحریک لبیک یا رسول اللہ بھی اپنی موجودگی کا پتہ دے رہی ہیں۔ جماعت الدعوة رفاہی کاموں کے حوالے سے شہرت رکھتی ہے۔ این اے 120اس کا پہلا سیاسی ٹیسٹ ہو گا۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کی توجہ بھی پنجاب کی طرف ہے۔ زرداری آخری کیس میں بری ہونے کے بعد زیادہ پر اعتماد دکھائی دے رہے ہیں۔ 

سپریم کورٹ سے 28جولائی کو نا اہلی کے بعد شریف فیملی اور ن لیگ کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات نے جنم لیا۔ وقت ہی ان سوالوں کے جواب دے گا۔ موقع پرست بے وفا خود غرض ہر خاندان اور ہر سیاسی جماعت میں ہوتے ہیں، مشکل اور آڑے وقت میں ہی وفاداری دوستی اور استقامت کا پتہ چلتا ہے۔ 17ستمبر این اے120کا نتیجہ ن لیگ اور محمد نواز شریف کا مستقبل واضح کر دے گا اور نواز شریف کے بقول عوام کی جے آئی ٹی کا فیصلہ سامنے آ جائے گا۔1999میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کے اقتدار پر ہاتھ صاف کیا تھا تو ن لیگ کے بعض پرندے ادھر کو چلے جدھر کی ہوا تھی۔ طالع آزماﺅں کے دور میں مسلم لیگ کی فلیکس لگانے والی انڈر گارمنٹس پارٹیاں وجود میں آتی رہی ہیں۔ مشرف کے دور کے ایسی ہی پارٹی ق لیگ تھی جس کے ایک قائد چوہدری پرویز الٰہی رات دن برملا کہا کرتے تھے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو دس بار بھی باوردی صدر منتخب کرائیں گے۔ مشرف کی وردی نے ہی انہیں انڈر گارمنٹس عطا کئے تھے۔ چوہدری خاندان کو وزارت اعلیٰ پنجاب اور وزارت عظمیٰ نصیب ہوئی تھی ورنہ عام حالات میں بڑے چوہدری صاحب نے شیروانی نہیں پہنی تھی۔
اس وقت نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی اور سردار یعقوب ناصر کو عارضی جانشین بنا رکھا ہے۔ انہوں نے اپنے برادر عزیز میاں محمد شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ اور ن لیگ کی قیادت سے اس لئے دور رکھا کہ اس تاثر کو مٹایا جائے کہ شریف خاندان ہی حکمرانی کر رہا ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے عملاً خود کو ایوان اقتدار سے دور کر لیا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں سے بھی فاصلہ رکھنے والے شخص ہیں۔ وزیر خارجہ بننے کی خواہش کا تو اظہار بھی کر چکے ہیں۔ وہ خود کو ن لیگ میں نواز شریف کے بعد سینئر موسٹ قائد سمجھتے ہیں۔ وزارت عظمیٰ اور ن لیگ کی قیادت کے انتخاب میں سنیارٹی کے اصولوں کو نظر انداز کرنا ان کے مزاج کے برعکس ہے۔ ن لیگ کو الواع کہنا اپنی شخصیت کو ڑیوں کے دام بیچنے والی بات ہو گی۔ ایسے غیر معمولی سنجیدہ مزاج کی شخصیت کے لئے سیاسی جماعتیں خوش آمدید کا بینر آویزاں نہیں کرتیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کابینہ میں جنوبی پنجاب کو اولیت دی ہے۔ بطور وزیر اعظم ان کی شخصیت میں جھکاﺅ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ 9اور10وزیر جنوبی پنجاب سے لئے گئے ہیں جبکہ سردار یعقوب ناصر تاریخ گواہ ہے کہ ہر پارٹی کے گرد ایسی شخصیت گھومتی ہے کہ کوئی اور اس کا متبادل دکھائی نہیں دیتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا متبادل آج تک سامنے نہیں آ سکا محترمہ بے نظیر بھٹو عکس بھٹو تھیں لیکن اپنے والد گرامی جیسی جاندار لیڈر نہیں تھیں۔ اس طرح آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے گرد موجود پیپلز پارٹی گھوم رہی ہے۔ ن لیگ کا مرکز و محور نواز شریف کی ذات ہے۔ شاہد خاقان عباسی ہوں یا سردار یعقوب ناصر نواز شریف کے مساوی درجے اور مقبولیت پر ہر گز ہرگز نہیں آسکتے۔ میاں محمد شہباز شریف کو بھی اپنے برادر اکبر کا ہم پلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیا نواز شریف واقعی تا حیات نا اہل رہیں گے ؟ عوام کی جے آئی ٹی ان کی نا اہلیت کو اہلیت میں بدلنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ انور ظہیر جمالی کہتے ہیں آرٹیکل63,62کی بنیاد پر کسی کو عمر بھر کے لئے نا اہل نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ آر ٹیکل 62کے تحت نا اہلی کی مدت کی وضاحت نہیں کی گئی۔ عمران خان کے خیال میں این اے 120میں فیصلہ کن الیکشن ہو گا۔ اس حلقے کے عوام کے لئے یہ کڑا امتحان ہے کہ وہ کس طرح کا پاکستان چاہتے ہیں عمران خان کی سیاست کا کمزور پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے سارے کیریئر میں دیگر سیاسی جماعتوں کو اپنا ہم نوا اور ہم خیال نہ بنا سکے وہ آصف زرداری کو ” ڈاکو“ اور مولانا فضل الرحمن کو ”ڈیزل “ اور شہباز شریف کو ” شوباز“ کہہ کر پکارتے ہیں۔ کیا اس طرح کوئی ان سے بات کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے ۔ اگر این اے 120میں وہ تمام نواز شریف مخالف قوتوں کو یکجا کر لیتے تو یہ ان کی کامیابی سمجھی جاتی ۔ این اے 120کا ریکارڈ سامنے ہے 2008,1990,1988, 1985اور2013میں ن لیگ ہی اس حلقے پر چھائی رہی۔ نواز شریف کی جی ٹی روڈ ریلی کا اختتام بھی بھاٹی چوک پر کیا گیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بیگم کلثوم نواز شریف کے مقابلے میں مضبوط امیدوار ہیں۔ اپنی نا کامی کے باوجود 2013ءکے انتخابات میں انہوں نے 52354ووٹ حاصل کئے تھے ۔تحریک لبیک یا رسول اللہ کے امیر مولانا خادم حسین رضوی کو ان کے شاگرد اور مرید توضرور قبول کر لیں گے۔ عام ووٹروں کے دل میں انکے لئے کتنی جگہ ہے اس کا پتہ تو 17ستمبر کو چلے گا۔ ضروری نہیں اہل حدیث مکتب فکر کے سارے ووٹ جماعت الدعوہ کی ملی مسلم لیگ کے امیدوار کے بیلٹ بکس سے برآمد ہوں۔ این اے 120میں پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر پی ٹی آئی کا ووٹ خراب کرنے کے لئے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ 2015کے ضمنی انتخاب تاریخ کا مہنگا ترین ضمنی الیکشن تھا۔ کانٹے کا مقابلہ سردار ایاز صادق خان اور علیم خان کے مابین تھا جبکہ پی پی پی کے بیرسٹر عامر حسن صرف2500ووٹ لے سکے تھے ۔ پیپلز پارٹی 1988،1990اور 1993میں بھٹو کے نام پر ووٹ لیتی رہی۔ 1997میں پی پی پی کو بھٹو کے نام پر ووٹ نہیں ملا چار الیکشن بھٹو کے نام پر لڑے پھر2008ءکا الیکشن محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام پر لڑا۔2013میں پی پی پی سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی۔ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں پنجاب کے 36اضلاع میں سے35اضلاع میں ن لیگ چھائی رہی۔ دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی شخصیت پیپلز پارٹی کو طلاق دینے والے ووٹروں کو حلالہ کے بعد واپس پیپلز پارٹی کے نکاح میں لا سکتے ہیں۔ اس دعوے کی بھی قلعی کھل جائے گی کہ آج بھی حقیقی طاقت پیپلز پارٹی ہے۔ نا اہلی کے خلاف میاں نواز شریف کی قانونی اور غیر قانونی جنگ کا فیصلہ بھی2018کے انتخابات سے پہلے سامنے آ جائے گا۔ عوام کی جے آئی ٹی اور سریم کورٹ کی جے آئی ٹی کا فرق بھی واضح ہو جائے گا۔ یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ عوام کے منتخب لیڈر کو آئینی اور قانونی طور پر چلائے گئے کسی مقدمہ میں جرم ثابت ہونے پر گھر بھیجنا جمہوریت یا عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے یا نہیں، ججوں کو مطعون کرنے اور عدالتی فیصلہ پر شور مچانے کا کوئی جواز ہے یا پالٹیکس بے نقاب ہونے کو ہے!