امریکہ کی سنجیدہ دھمکی

05 ستمبر 2017

امریکہ تمام دنیا پر اپنی حکمرانی قائم رکھنے کیلئے گزشتہ سو سالوں سے حالت جنگ میں ہے۔ دنیا میں کون سا ایسا خطہ باقی بچا ہے جس میں امریکی افواج موجود نہ ہوں اور اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ جہان بھر میں امریکہ کے سفارت خانے جہاں کہیں بھی ہیں وہ امریکی افواج کے ہیڈ کوارٹر بن چکے ہیں اور خود ان ممالک کو بھی یہ علم نہیں ہوتا کہ اس امریکی سفارت خانے کے اندر کیا کچھ ہو رہا ہے جو ان کے ملک میں بڑی مضبوط فصیل میں گھرا ہوا پراسرار انداز میں موجود ہے۔ امریکہ نے اپنی حاکمیت کا رعب دنیا میں قائم رکھنے کیلئے دو مہلک ترین بم جاپان کے دو شہروں پر گرا کر بہت بڑی شہری آبادی کو جلا کر خاک کر ڈالا۔ حالانکہ اس وقت دوسری جنگ عظیم ختم ہو چکی تھی جاپان‘ جرمنی اور اٹلی وغیرہ جنگ کو ہار چکے تھے اور ان مہلک ہتھیاروں سے جاپانی قوم کو ایک سدا بہار زخم لگانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔
امریکہ تقریباً سولہ سالوں سے افغانستان میں جنگ لڑ رہا ہے اس نے اس مہنگی ترین جنگ میں اتنی دولت خرچ کر دی ہے کہ اس رقم کے برابر اگر پاکستان اپنے دفاع پر دولت خرچ کرنا چاہے تو اسے ایک سو سال تک کسی مزید سرمائے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کو ختم کرنے کیلئے سارے یورپ کو جتنا قرضہ یا امداد آج تک دی ہے اس ساری رقم سے زیادہ دولت صرف سولہ سالوں میں افغانستان کی جنگ پر خرچ ہو گئی ہے لیکن اس مہنگی جنگ نے امریکہ کو سوائے مایوسی اور شکست کے اور کچھ نہیں دیا۔ امریکہ نے یورپ کے ممالک سے اپنی مدد کیلئے افواج بلائیں ان یورپی افواج نے غیر آباد افغانستان میں اپنی اہلیت کے مطابق جنگ لڑی لیکن جنگ کے مقاصد حاصل نہ ہو سکے اور یورپ کی افواج کو واپس لوٹنا پڑا۔ یہ سارے پاپڑ بیلنے کے بعد جب امریکہ کے ہاتھ کچھ نہ آیا تو پھر قرعہ فال پاکستان کے نام نکلا اور افغانستان کو ”مہذب“ بنانے کا کام جب پاکستان نے شروع کیا تو نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی نکلا اور بیتاب امریکہ کی انتظامیہ نے مل کر ”ڈو مور“ کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ اس سارے عرصہ جنگ میں افغانستان نے اپنی جان کی سختی کو عملی طور پر ثابت کیا اور افغان قوم نے دنیا کو یہ پیغام بھیجا کہ آزادی جس قوم کی رگوں میں خون بن کر دوڑتی پھرتی ہو اس قوم کو جدید اسلحہ قید نہیں کر سکتا اور افغان قوم کے اجڑے ہوئے شہر کوئی ایسے بازار تجارت بھی نہیں ہیں کہ وہاں تاجر دولت کے انبار لے کر جائیں اور قوم خرید لائیں۔ سامراج جب سے پیدا ہوا ہے اس کا آئین حکمرانی ایک ہی جیسا ہے۔ بندوق کی طاقت سے آزادی کو کچل دو‘ دولت کے زور سے محکوم قوم میں غدار اور سامراج کے یار پیدا کرو‘ انصاف کے نام پر صرف ظلم کو فروغ دو اور مذہب کے نام پر قوم کو تقسیم کرو اور حکومت کرو امریکہ نے افغانستان میں پرانے سامراجی حربے سارے کے سارے آزما لئے لیکن افغان قوم کسی ایسی مٹی سے بنی ہوئی ہے کہ اس نے طویل جنگ اور بہت بڑی تباہی دیکھنے کے باوجود بھی سامراج کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ آج سے تقریباً پانچ سال پہلے ہی امریکی انتظامیہ اور اس کے گرم جوش مددگاروں نے یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لی تھی کہ وہ افغانستان میں جنگ ہار چکے ہیں۔ امریکہ نے تباہ کن اسلحہ کی قطار میں جب ڈرون جہاز کو شامل کیا تو امریکہ مخالف جنگجو طاقتوں کو شدید جانی نقصان پہنچا اور یہ امید ہو چکی کہ اعلیٰ قیادت کے ختم ہونے کے بعد طالبان یا امریکہ مخالف جنگجو لڑائی سے ہاتھ کھینچ لیں گے اور امریکہ وہ مقاصد حاصل کر لے گا جن کو لینے کیلئے وہ افغانستان میں آیا تھا لیکن ان امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب طالبان یا ان کے دوست ڈرون حملوں کے مقابلے میں خودکش بمبار میدان جنگ میں لے آئے۔ نوجوان غریب خودکش بمباروں نے افغانستان کے قرب وجوار میں ان ممالک کی بے گناہ شہری آبادیوں پر خودکش حملے کئے جو ممالک افغان جنگ میں امریکہ کی مدد کر رہے تھے۔ اس نئی صورتحال نے نفسیاتی دبا¶ کے تحت جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ اب امریکہ ایک مایوس ملک کی حیثیت سے ایسی حکمت عملی اپناتا جار ہا ہے جس کی وجہ سے اس کے قابل اعتبار پرانے دوست ممالک بھی اس سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
ایران جوکسی دور میں امریکہ کا دوست تھا اب امریکہ کا اس خطے میں دشمن ہے۔ ترکی امریکہ تعلقات سردمہری کا شکار ہیں اور اب پاکستان کو مسٹر ٹرمپ صدر امریکہ نے بے لحاظ طرز میں دھمکایا ہے۔ امریکی انتظامیہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ پاکستان کا متبادل بھارت ہے جو افغانستان میں ہاری ہوئی جنگ جیت کر امریکہ کی جھولی میں ڈال دے گا یہی وہ خواب ہیں جو امریکہ کو مزید شکست سے دوچار کریں گے۔ پاکستان خود اپنی قسمت کی بلند و نشیب راہ پر ایک مشکل ترین سفر کررہا ہے۔ بددیانت سیاسی جال‘ شاطر‘ خود غرض‘ بد دیانت‘ ناانصاف اور سامراج کی پوجا کرنے والی نوکرشاہی ملک میں بہت تیز رفتار پھیلتی ہوئی بیروزگاری اور غربت پڑوسی ممالک سے دشمنی‘ ناانصاف اور مصلحت اندیش طرزِ عدل‘ تیزی سے باہر منتقل ہوتی ہوئی قومی دولت اور اب امریکہ کی کھلی دھمکی یہ وہ بڑے مسائل ہیں جو پاکستان میں موجود ہیں۔ ہم یہ بھی محسوس کر سکتے ہیں تقسیم شدہ قوم خاموشی سے طبقاتی اور مذہبی خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے پاس کوئی ایسی سنجیدہ قیادت بھی نہیں ہے اب پاکستان کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ہمیں جذباتی نعروں کے دریا میں ڈوب جانے کی بجائے ہوش‘ صبر اور تحمل کے ساتھ چلنا ہو گا اور ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی ہو گی کہ صدر امریکہ کی دھمکی فی الحقیقت امریکہ کا پاکستان کے خلاف آدھا اعلان جنگ ہے جبکہ پاکستان اس خطرے کو محسوس نہیں کر رہا۔
٭٭٭٭٭٭