ہوئے تم دوست جس کے

05 ستمبر 2017

گزشتہ سے پیوستہ
اگر تم عقل رکھتے ہو تو ان سے تعلق میں احتیاط برتو گے“ مگر افسوس کہ ہمیشہ حکمرانوں نے قومی مفادات اور اسلامی احکامات پر غیروں کو ترجیح دی اس حوالے سے بہت ہی واضح طور پر سورة آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے ” اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلو گے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے اور تم نامراد ہو جا¶ گے“اور آج بحیثیت قوم ہم نامرادی کے اس مقام پر ہیں کہ ہمیں نیٹو کو فوجی اڈے دینے اور ان کو خوراک پہنچانے کا یہ صلہ دیا جارہا ہے کہ ہمیں دہشت گردوں کو پناہ دینے کی الزام تراشی ہو رہی ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان زمین کا سب سے خوبصورت ٹکڑا ہے جس کو حاصل کرنے کےلئے پڑوسی دشمنوں سمیت سات سمندر پار والوں کی نظریں بھی لگی ہوئی ہیں اور ان کوششوں میں پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایاگیا کبھی یہ دشمن چیلوں کی طرح بلوچستان کے قدرتی ذخائر پر منڈلاتے ہیں اور کبھی ”ڈو مور“ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پاکستان نے ان حالات میں جتنی قربانیاں دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود غیروں سے ڈرنے کے بجائے ماضی میں اﷲ سے ڈرا جاتا تو ہم اس حال کو نہ پہنچتے مگر شکر ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب حالات بہتر ہو رہے ہیں اب بھی ہم ہوش کے ناخن لیں اور ان احکامات پر غور کریں جو ہمارے لئے ہی اتارے گئے تو پھر ہم ایک مستحکم قوم بن سکتے ہیں۔ سورة آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے ”دل شکستہ نہ ہو‘ غم نہ کرو‘ تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو“ غور کیا جائے تو شرط اول مومن ہونا ہے اپنے زور بازو پر بھروسہ وقت کی ضرورت ہے۔
ہمیں ان جوانوں کو نہیں بھولنا چاہئے جنہوںنے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک بچایا۔ ان معصوم شہریوں کو نہیں بھولنا چاہئے جو دہشت گردی کا شکار ہوئے اور ان ننھے شہیدوں کو بھی نہیں بھولنا چاہئے جو اے پی ایس پشاور میں دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ آج ہمیں اس عظیم کتاب کو کھولنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے جو 23 برس کے طویل عرصے میں ہماری بھلائی کےلئے نازل کی گئی۔ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر غصہ کرنے کی بجائے ہمیں پاکستان اور اسلام کو مضبوط کرنے کےلئے تمام کوششیں بروئے کار لانی چاہیں اور ان حالات میں اﷲ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی پڑھنا چاہئے سورة آل عمران میں فرمان الٰہی ہے ” جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں یہ اﷲ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے اﷲ کا ارادہ یہ ہے کہ ان کےلئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے اور بالآخر ان کو سخت سزا ملنے والی ہے“۔ اسی سورة میں ارشاد ہوتا ہے ”مسلمانو! تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آ کر رہیں گی اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے“
ہم نے پاکستان لازوال قربانیوں کے بعد اس لئے حاصل نہیں کیا تھا کہ باطل طاقت کے پنجے سے نکل کر پھر سے انہی طاقتوں کی گود میں جاگریں۔ آج سب کچھ بھلا کر اس اﷲ کو یاد کرنے کا وقت آگیا ہے جس نے ہر ہر معاملے میں قرآن پاک میں رہنمائی فرمائی ہے اور اسی کتاب کی روشنی میں دوست اور دشمن کی پہچان بھی کرائی گئی ہے ورنہ امریکہ اور بھارت سے دوستی کے خواہشمند شاعر کے اس مصرے کی تفسیر نظر آتے ہیں ”ہوئے تم دوست جس کے ‘ دشمن اس کا آسمان کیوں ہو“