”پہلی بار امریکہ کو سخت جواب“

05 ستمبر 2017

سارا عالم اسلام' مسلم ا±مّہ خاموشی سے ٹرمپ کی دھمکیاں سن رہی تھی اک سکوتِ مرگ طاری تھا کہ اچانک ایران پاکستان کے حق میں بولا کہ مدتوں پہلے فقیہہ اسلام، امام زمان جناب خمینی نے واشگاف فرمایا تھا اور خوب کہا تھاکہ ''امریکہ وہ آوارہ کتا ہے,جس سے ڈر کر بھاگو گے یہ تمہارے پیچھے بھاگے گا اور اپنی جگہ پر کھڑے رہو گے تو خود ڈر کر بھاگ جائے گا"۔

شمالی کوریا کے ہائیڈروجن بم کے دھماکے کے بعد امریکی ردعمل امام خمینی کے تجزیے کو درست ثابت کر رہا ہے۔ پہلی بار پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرونز کو مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کیسے امریکی ڈرونز پاکستان کی فضاو¿ں میں گھستے ہیں۔ بزدل کمانڈو جنرل مشرف نے 2004 میں خفیہ معاہدے کے تحت پاکستان میں ڈرونز حملے کرنے کی اجازت دی تھی۔ 18 جون 2004 کو پہلے طالبان کے سربراہ نیک محمد اس کا نشانہ بنے تھے۔ اس کے بعد پاکستان فضائی حدود کو امریکیوں نے اپنی چراگاہ بنا لیا تھا جس کے بعد پاکستان کی حدود میں 600 سے زائد حملے کئے گئے جن میں ہزاروں بے گناہ شہید ہوئے۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ امریکی ڈرونز تربیلا کے علاقے 'غازی' اور شمشی ائیر بیس سے ا±ڑتے تھے۔ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد چین نے پاکستان کے دفاع کا اعلان بھارت کے لئے نہیں، اس کے سرپرست امریکہ کو خبردار کرنے کے لئے کیا ہے۔ ایران کے سوا دیگر ’اسلامی بھائی‘ کیا ’برادارن یوسف‘ بن گئے ہیں؟
زر، زمین اور جاہ کے متلاشی آوارہ گروہوں کے سرپرست امریکی صدر ٹرمپ کی تازہ للکار پاکستان کےلئے دھمکی ہے ایک پیغام ہے۔ ایسے میں سوادِ اعظم کہلانے والے سنی مسلمانوں سے ’کفر‘ کا طعنہ سہنے والے ایران نے بے مثل جرا¿ت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کو (Shut up call) دے کر پاکستان کے ’پرائے پھڈے میں ٹانگ‘ اڑا دی ہے لیکن یہ بات یاد رکھی جائے گی کہ سارا عالم اسلام دم سادھے خاموش تھا‘ چپ چاپ تماشا دیکھ رہا تھا جبکہ پاکستان میں امریکی ڈالروں کی جھنکار پر ناچنے والے مادر پدر آزادیاں مانگنے والے خاموشی سے بغلیں بجا رہے تھے کہ اب امریکی ڈرونز آئے اب امریکی نے بمباری شروع کی کہ کی لیکن جب بزدل امریکیوں کو پتہ چلا کہ پاکستان میں بساط الٹ چکی ہے۔ اب اپنے آپ کو عقل ک±ل سمجھنے والے چند احمقوں اور بے ایمان' بدعنوان سابق حکمران ٹولے کی بجائے ادارے بروئے کار ہیں اور ڈرونز کو مار گرانے کا حکم جاری ہو چکا ہے تو کھلم کھلا دھمکیوں کا توہین آمیز سلسلہ بند ہو چکا ہے اور اب معمول کے سفارتی ذرائع استعمال کئے جا رہے ہیں۔ موقع بہ موقع اسلامی دنیا کے ’مفادات‘ کی مالا جپنے والے کہاں ہیں؟ مسلم نیٹو کے کماندار جنرل راحیل شریف کی قیادت میں 44 رکنی عسکری اتحاد کی پاکستان کو ضرورت نہیں پڑی۔ خطے میں چین اور روس کی آواز نے پاکستان کو حوصلہ اور مثبت پیغام دیا ہے۔ چین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو نہ صرف سراہا ہے بلکہ یہ معنی خیز پیغام بھی پوری قوت سے دیا ہے کہ چین دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ’فرینڈلی فائر‘ میں اپنے ہی دوستوں اور ساتھیوں کو ہلاک کر کے نادم نہ ہونے والے امریکی اس پر مضطرب ہیں۔ چین نے مودی کو برکس اجلاس کے دوران ماضی کی طرح ’یاوہ گوئی ‘سے قبل ہی ’شَٹ اَپ کال‘ دی ہے کہ پاکستان کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہو گی۔ ’فولادی امریکی بھائی‘ کا ’آہنی جواب ہمارے دفتر خارجہ نے دے دیا ہے چین کی سچی دوستی کا برملا اظہار ہی کافی ہے۔ ہمارے ’پیارے اسلامی بھائیوں‘ کے تناظر میں تجزیہ کرتے ہوئے امریکہ و مشرق وسطیٰ بارے امریکی تحقیقی ادارے واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ نے حیرت کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے اہم پالیسی بیان میں مشرق وسطیٰ کا کوئی تذکرہ نہ کیا۔ نہ ہی ایران کا ذکر ہوا جس کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حکومت کو عدم استحکام سے دوچار رکھنے کے لئے ایران طالبان سے اپنے مراسم کو ازسرنو استوار کر رہا ہے۔ افغانستان میں پاکستان کی دلچسپی کی وجہ بھارت کے ساتھ اس کی دشمنی ہے جس کا سلسلہ ماضی میں پھیلا ہوا ہے۔ روایتی طور پر برادر مسلم ممالک نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی ایک کی طرفداری سے ’ضرورتاً‘ اجتناب کیا ہے۔ جس کی وجہ بھارت کی آبادی ایک نفع بخش منڈی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کو خلیج میں اپنے محنت کش باشندوں کے ذریعے سالانہ کثیر زرمبادلہ میسر آتا ہے جو اس کے لئے اہم ہے۔ بحرین' ریٹائرڈ پاکستانی فوجیوں کو ملازمت فراہم کرتا ہے۔ محنت مزدوری کے نظرانداز نہ ہونے والے حوالے سے قطع نظر سعودی عرب نے تو پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اہم ذمہ داری دی ہے مسلم نیٹو کہلانے والے فوجی اتحاد کی کمان سونپ دی۔
مستقبل کے منظر نامہ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یواے ای) کو پاکستان کے حوالے سے ایک اہم اور مو¿ثر ذریعے کے طور پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے تاہم ان ممالک کا امریکی صدر کی پاکستان بارے تقریر ردعمل مکمل بے گانگی اور خاموشی ہے۔ خارجہ محاذ پر اپنی پالیسی کی ازسرنو تیاری کے لئے اسلام آباد میں بھی سوچ و بچار کا سلسلہ جاری ہے۔ ویسے چین نے عملاً یہ حقیقت عیاں کر دی ہے خودمختاری کی کونپلیں معاشی خوشحالی سے پھوٹتی ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے تیرھویں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی برداشت نہ کی جائے۔ ڈرون ہو یا کوئی جہاز، پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا جائے۔ پاکستانی قوم کا فخر، آن اور شان یہ فیصلہ' ہمارے اداروں کا امتحان ہو گا، سیاسی قیادت کے اعصاب کا کڑا ٹیسٹ ہو گا۔ قومی امنگوں کو مفادات کی قربان گاہ پر مسلسل ذبح کیا جاتا رہا ہے لیکن اب قدرت ہمیں فیصلہ کن مرحلے پر لے آئی ہے کہ ہمیں ’کرگس‘ اور ’شاہین‘ میں سے کسی ایک کا چناو¿ کرنا ہو گا۔
ویسے کیا ہم شمالی کوریا سے بھی گئے گذرے ہیں جو امریکہ سمیت اس کے تمام مغربی اتحادیوں کو للکار رہا ہے ہائیڈروجن بم کے دھماکے کر کے خالی خولی دھمکیوں کا عملی جواب دے رہا ہے جس کے بعد آدھے امریکہ کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ ہمارے ہاں روایتی انداز میں مسلح افواج کو چوکنا کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ہمہ وقت چوکس رہنے والی افواج کو چوکنا کرنا دشمن پر واضح کرنا ہے کہ اب لحاظ نہیں ہو گا۔ ’اندرخانے‘ کچھ اور ’باہر کچھ اور‘ کی پالیسی اب نہیں چلے گی۔ اینٹ کا جواب اب پتھر ہو گا۔ کابینہ کی دفاعی کمیٹی اعلی ترین آئینی فورم ہے جسے جناب 'نواز شریف‘ کے دور میں عضو معطل بنا دیا گیا تھا خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب قومی ادارہ جاتی حکمت عملی کا مرحلہ آن پہنچا ہے۔ سول اور عسکری نمائندے مرتب کردہ تجاویز پر قومی سلامتی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں غور کریں گے۔ ان تجاویزکی روشنی ایسی مو¿ثر، جامع اور قابل عمل حکمت عملی سے امریکی شرارتوں کا شافی علاج کیا جائے گا۔ ’ٹرمپ کارڈ‘ کھیلنے کے بعد امریکہ کا افغانستان میں خرچ بے پناہ بڑھ جائے گا۔ افغانستان میں امریکی فوجی اخراجات' براو¿ن یونیورسٹی کے مطابق افغان حکومت کی معاونت، عمارات و ڈھانچے کی تعمیر اور فوج کی مد میں امریکی عوام کا 800 ارب ڈالر سرمایہ ل±ٹ چکا ہے۔ اس سب کے باوجود 54 فیصدعلاقہ اب بھی طالبان کے قبضہ میں ہے۔ افغانستان کی تعمیر نو کے لئے خصوصی امریکی انسپکٹر جنرل کے مطابق افغانستان میں پیدا ہونے والی افیون اور اس کی مصنوعات کی کھپت دوگنا ہو گئی ہے۔ 2016میں افیون کی پیداوار میں دوگنا اضافہ ہوا۔ امریکہ افیون کی پیداوار میں اضافہ اور تجارت روکنے میں کلی طور پر ناکام ہوا ہے۔ مقامی ضلعی حکومتیں آمدن بڑھانے کے لئے افیون کی پیداوار پر ٹیکس عائد کر رہی ہیں جیسا کہ طالبان نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں زرعی اراضی پر افیون کی کاشت پر بین عائد کر رکھا ہے۔ یہ تشویشناک اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ اس دھندے میں افغان حکام کے ساتھ امریکی فوجی اہلکار بھی ملوث ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں افغانستان میں افیون کی کاشت بارے پندرہ سالہ عملی تجربہ رکھنے والے محقق ڈیوڈ مینزفیلڈ کے چشم کشا انکشافات پہلے ہی شائع ہو چکے ہیں۔ افغان قوم کی تعمیر کا دعویٰ کرنے والے امریکی تو مجبور افغان کسان کو متبادل ذرائع روزگار کی فراہمی میں بھی بری طرح ناکام و نامراد ٹھہرے ہیں۔ ان مجبور کسانوں کی پیدا کردہ افیون منظم بچھے نظام کے تحت بڑے بیوپاریوں کے ہاتھوں سے مغربی منڈیوں تک پہنچ رہی ہے۔ امریکی انتظامیہ اس سارے دھندے اور افیون کی درجہ بہ درجہ وصول ہوتی قیمتوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ خود امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ منشیات کی عالمی منڈی میں افغانستان کی فروخت ہونے والی ہیروئن کی قیمت اس معاوضے سے دوگنی ہے جو افغان کسان کو افیون کی پیداوار پر ادا کیا جاتا ہے۔ کالے دھن کی بہتی گنگا میں مغربی ممالک کے طاقتور کاروباری، مجرمانہ مفادات رکھنے والوں بااثر طبقات، سب ہی مستفید ہو رہے ہیں۔ پروفیسر مائیکل چوسوڈوسکی کی تحقیق کے مطابق امریکی خارجہ پالیسی ان مفادات کی آبیاری کر رہی ہے۔ (جاری )
(جاری)


تجزیہ نگار عالمی منظرنامے میں بعض تبدیلیوں کو مستقبل کے حوالے سے نہایت اہم قرار دے رہے ہیں۔ ستمبر گیارہ کے پراسرار حملوں کے بعد سے امریکہ نے چین، روس، ترکی اور ایران کو قیام امن کے عمل سے نکال باہر کیا ہے۔ حقائق پر نظررکھنے والوں کی یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں امن کے اہداف حاصل کرنے کے لئے کاروباری مفادات کو ترک کرنا ہو گا۔ نفع کمانے کی ہوس اور امن کے قیام کے دعوے دو مختلف اہداف ہیں۔ پاکستان کے وجود کے خلاف سازش صرف باہر سے ہی نہیں ہو رہی۔ ذاتی بالادستی کی آڑ میں پارلیمانی بالادستی کا چورن لے کر جب میاں محمد نواز شریف جی ٹی روڈ پر قوم کو باور کرا رہے تھے کہ وہ انقلابی و نظریاتی ہو چکے ہیں وہ جمہوریت کی سب سے بڑی علامت بن گئے ہیں جو عدلیہ و فوج کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں، ابلاغی زکوٹوں نے نواز شریف کو بانس پر چڑھانے کی بھرپور کوشش کی مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے کا راگ الاپنے والے عظیم دانشوروں نے ہمیں بتانے کی کوشش کی کہ نواز شریف منہ زور گھوڑے کو لگام دینے کے لئے تن من دھن سے یکسو ہو چکے اور اقتدار کی سیاست پہ لات مارتے ہوئے اب وہ جمہوریت کی خاطر پارلیمان کا بھی رخ نہیں کریں گے بلکہ باہر بیٹھ کر جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے بروئے کار آئیں گے۔ نظریاتی سیاست کے پہلے مرحلے میں لندن روانہ ہو گئے کہ محترمہ کلثوم نواز کی تیمارداری لازم ہے۔ کیا المیہ ہے تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف پاکستان میں اپنے دل کی بیٹریاں تبدیل نہیں کرا سکے تھے اور بیگم صاحبہ کو بھی کیموتھراپی کےلئے لندن لے جانا پڑا کہ 30 برس حکمران رہنے کے باوجود وہ دو قابل بھروسہ ہسپتال نہ بنوا سکے۔ نظریاتی صاحب کی کوشش رہی کہ قربانی کا بکرا اچکزئی و فضل الرحمن بنیں اور ن لیگ کی طرف سے وفا کیش پرویز رشید۔
میاں جی نے پیپلز پارٹی سے پیار کی پینگیں بڑھا کر جامع ڈائیلاگ کے ذریعے فوج و عدلیہ کے خلاف متحدہ محاذ بنانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ 62 اور 63 کو ختم کرانے کی منصوبہ بندی بھی ناکام ہو چکی ہے۔ زرداری صاحب سیاست کے کائیاں کھلاڑی ہیں انہوں نے سوچا تازہ تازہ انقلابی و نظریاتی کو سارے دھندے کا کریڈٹ دینے کے بجائے معاملہ اگلی پارلیمان پہ چھوڑ دیا جائے اور یوں خطے کے نئے انقلابی کی پرواز سے پہلے ہی پر کاٹ ڈالے۔ ساتھ ہی رضا ربانی کو بھی پرانی تنخواہ اور اوقات یاد دلا دی۔
حرف آخر یہ کہ جب سارا عالم اسلام خاموش تماشائی تھا تو پاکستان کے حق میں ایران بول رہا تھا چین بول رہا تھا پیوٹن چتاو¿نی دے رہا تھا۔ خارجہ اور داخلہ محاذ پر جو سازشیں جاری ہیں۔ ان میں قومی جذبے، اگر مگر اور چونکہ 'چنانچہ سے پاک قومی قیادت کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاست ہوتی رہی تو یہ بھی دشمن کی مدد ہو گی۔ الٰہی پاکستان کی خیر فرما۔ ’آوارہ کتوں‘ سے نجات دلا۔