وزیراعظم عباسی کی کارکردگی کا جائزہ

05 ستمبر 2017

ہر حکومت کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں جو اسے گزشتہ حکومت سے وراثت میں ملتی ہیں مگر انصاف کا تقاضا ہے کہ اس کے باوجود حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے۔ شاہد خاقان عباسی کی بڑی مجبوری یہ ہے کہ انہیں فائل پڑھ کر خود فیصلے نہ کرنے سے جو معاملات خراب ہو چکے ہیں، درست کرنا اور حکومتی فیصلہ سازی کو صراط مستقیم پر لانا ہے۔ شریف عہد نے سینئر بیوروکریٹس کو نظرانداز کر کے جس فیاضی سے جونیئرز کو فیصلہ ساز منصب دئیے رکھے، اسے بھی عادل بن کر واپس سینئرز کو لوٹانا ہے۔ ہماری دعا اور خواہش ہے کہ وہ گریڈ 22 اور گریڈ 21 میں متوقع ترقیاں بھی عادل بن کر صرف اصل مستحقین کو عطا کریں۔ میاں نواز شریف عہد کی اچھی روایت کو جہاں اس حوالے سے قبول کرتے جائیں وہاں اصل معیار، اہلیت، تجربہ اور عمدہ ذاتی کردار کو بنایا جائے۔ ذاتی خدمت کرنے والوں‘ صرف خوشامد کرنے والوں کو ہی اب منصب اور ترقی نہ ملے بلکہ جو ذاتی خدمت اور صرف خوشامد کرنے کو واحد ذریعہ ترقی اپناتے رہے ہیں اب انہیں بالکل نظرانداز کر دیا جائے۔ بیوروکریسی میں ریاست کے ساتھ مخلص ترین اور ذاتی عمدہ کردار کے حاملین کو جہاں فوقیت ملے وہاں میری دعائیں ہمیشہ رہی ہیں کہ اے رب کریم اب تو ہمیں نااہلوں‘ شرابیوں اور بدکرداروں کی فیصلہ سازیوں سے نجات دے دے۔ مشرقی پاکستان کا سقوط جہاں فیصلہ سازی کی فاش غلطیوں کے باعث ہوا وہاں شراب و بدکاری کی نحوست بھی تو موجود تھی۔ جنرل مشرف عہد پر بدنما داغ یہ ہے کہ یہ عہد شراب اور شباب کو فوقیت دیتا تھا۔ ابن الوقتوں‘ مکاروں‘ جعلساز ڈگری ہولڈرز‘ دو نمبریوں کا عہد جلیل تھا اس لئے اس عہد کے ہاتھوں میں ریاست اغیار کی سرزمین بن گئی اور اغیار نے بازو مروڑ کر ہماری اہم ترین اور حساس فیصلہ ساز صلاحیت کو نیست و نابود کر دیا تھا۔ ریاست اور ریاستی ادارے اپنے ملکی مفاد کی روشنی میں مطلوب کردار بوجوہ ادا کرنے میں ناکام ہو گئے تھے۔ فرد واحد کی فیصلہ سازی نے ملک کو جو شدید نقصان پہنچایا اس کے سبب اغیار کی جنگ کے تباہ کن اثرات ہماری اپنی سرزمین پر یوں چلے آئے کہ اب ان طوفانوں اور آندھیوں سے نجات پانا ریاست اور ریاستی اداروں کی اپنی شدید ضرورت ہے‘ ریاست اور ریاستی اداروں کو بے رحم اور سخت مطلوب روئیے‘ فیصلے اور کارکردگی کو پیش کرنا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کی ایک بڑی ’’مجبوری‘‘ یہ ہے کہ وہ ایک ایسی مسلم لیگی پارلیمانی پارٹی کے قائد ایوان قومی اسمبلی ہیں جس کی لگام اور باگ ڈور ان کے ہاتھ میں نہیں ہے‘ وہ کسی اور کی عطا سے موجودہ منصب پر سامنے آئے ہیں۔ اچھا ہوا وہ اس منصب سے دور بھاگتے رہے تھے جبکہ کچھ دوسرے اس منصب کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے تھے۔ ان کی عدم رغبت اور عاجزی و انکساری ان کی خوبی بن گئی اور اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ موجودہ منصب کے حصول میں غیر اخلاقی یا غیر اصولی روئیے پر کاربند تھے۔ ان کی خوبی اہم ترین یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ پڑھے لکھے ہیں‘ ذاتی صلاحیت کی نعمت سے مزین ہیں اگرچہ مسلسل عوامی حمایت سے ہر الیکشن جیتتے رہے ہیں اور عوامی خدمت اور رابطے کی بھی بہت عمدہ کہانی ان سے وابستہ ہے مگر ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ’’ٹیکنوکریٹ‘‘ نامی ’’خلائ‘‘ کو بھی بہت اچھے طریقے سے ’’پر‘‘ کر دیا ہے لہٰذا ان کی حکومت عملاً ذاتی طورپر سیاسی‘ پارلیمانی ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکنوکریٹ صلاحیت اور کارکردگی سے بھی احسن طریقے سے مزین ہے۔ درج ذیل سطور میں ہم نے اپنا ’’مطالعہ‘‘ پیش کیا ہے کہ ابتدائی عہد کے دنوں میں انہوں نے کیا کچھ پیش کیا ہے؟ (1) ممبران قومی اسمبلی و سینیٹ کو ذاتی طورپر جناب شاہد عباسی تک مکمل رسائی میسر آ گئی ہے۔ (2) ای سی سی یعنی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے بروقت اجلاس مسلسل ہو رہے ہیں۔ (3) کابینہ اجلاسوں کے انعقاد اور کابینہ کے ذریعے فیصلہ سازی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح حکم پر اب مسلسل عملدرآمد ہو رہا ہے۔ (4) فیصلہ سازی میں تمام صوبوں کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے جس سے مرکز و صوبوں میں رابطہ بحال اور قرب واقع ہوا ہے اس مقصد کے لئے صوبوں کے ہنگامی دورے مسلسل ہوئے ہیں۔ (5) توانائی کے جاری منصوبوں پر مکمل توجہ دی گئی ہے۔ (6) صنعتی احیاء کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ (7) حکومتی سطح پر سادگی اپنائی گئی ہے اور سرکاری اخراجات کو کم کیا جا رہا ہے۔ (8) امریکہ کی پاکستان دشمنی پالیسی پر دوٹوک موقف پیش کیا گیا ہے اس حوالے سے ریاستی اداروں سے مکمل مشاورت ہوئی ہے‘ یوں امریکہ کے حوالے سے حکومت اور ریاستی ادارے یکساں سوچ پیش کر رہے ہیں۔ (9) نیشنل سیکورٹی اجلاسوں کے مسلسل اجلاسوں کا انعقاد ہوا ہے اور قومی سلامتی اداروں سے رابطہ اور مشاورت بہتر ہوئی ہے۔ (10) وزیراعظم آفس کی سست رفتار فیصلہ سازی کو نئی بروقت فیصلہ سازی میں تبدیل کیا گیا ہے اب سمریاں جلد از جلد تیار ہو کر وزیراعظم کے سامنے ذاتی طورپر پیش ہوتی ہیں جن پر وہ مناسب احکامات ذاتی طورپر جاری کرتے ہیں۔ (11) بیوروکریسی کے حوالے سے اب ’’سنیارٹی‘‘ کے اصول و معیار کو اپنا لیا گیا ہے اب ماضی کی طرح غلط بخشیوں کا امکان بہت کم ہے۔ (12) قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاسوں میں وزیراعظم مسلسل شریک ہوتے رہے ہیں۔ یوں پارلیمنٹ کو عزت و احترام اور فیصلہ سازی میں رہنمائی کے لئے مواقع دئیے گئے ہیں۔ فارن پالیسی پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بحث اس کی واضح دلیل ہے۔ (13) مشرق وسطیٰ سے رابطوں کو بحال رکھا گیا ہے۔ چین‘ روس‘ ایران سے رابطوں کو فوری طورپر بہتر بنایا گیا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے بھی برمی مسلمانوں سے ہمدردی کی گئی ہے اور میانمار حکومت سے قتل عام روکنے کو کہا گیا ہے۔ او آئی سی اجلاس کے حوالے سے کوشش ہوئی ہے۔ (14) مسلم لیگ کے انتخابی منشور میں تھا کہ توانائی کی ایک وزارت بنائی جائے گی اس منشوراور وعدے کو وزارت پٹرولیم اور پانی و بجلی کو ضم کر کے توانائی وزارت قائم کر کے پورا کیا گیا ہے۔ (15) ’’وقت‘‘ کی اہمیت کو سمجھا جا رہا ہے اور وزیراعظم ذاتی طورپر ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اپنا تمام وقت‘ توجہ اور صلاحیت جلد فیصلہ سازی اور بہتر حکومتی کارکردگی کے لئے وقف کرتے ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ہمارے مطالعے میں آئیں اور قارئین کے سامنے پیش کر دی گئی ہیں۔